ایران میں حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملے اس وقت دنیا بھر کی مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مغربی دنیا کے لیے ایرانی اسلامی انقلاب ایک محبوب موضوع رہا ہے، جس پر کئی فلمیں بھی تخلیق کی گئیں۔ ہالی وڈ میں گذشتہ چار دہائیوں کا جائزہ لیں تو ایران پر بنائی گئیں متعدد فلمیں بھی مغربی دنیا کے پروپیگنڈے کی عکاسی یا ترجمانی کرتی نظر آئیں گی۔ زیر نظر تحریر میں چند چیدہ چیدہ اور خاص فلموں کا تذکرہ شامل ہے۔ سال 1981 میں نمائش پذیر ہونے والی فلم ’سکیپ فرام ایران، دی کینیڈین کیپر‘ دراصل ٹی وی فلم تھی جس کا موضوع 1979 کے پس منظر اور پھر ایرانی شہر تہران کے گرد گھومتا ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد امریکی سفارت خانے پر قبضہ ہو جاتا ہے اور ایسے میں چھ امریکی سفارت کار فرار کا راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر ان کی مدد کینیڈین سفارت کار کین ٹیلر، سی آئی اے سے مل کر کرتے ہیں۔ ایک منصوبہ ترتیب دیا جاتا ہے جس کے ذریعے ان امریکیوں کی شناخت پوشیدہ رکھ کر انہیں فلم پروجیکٹ کے بہانے ایران سے نکالا جاتا ہے۔ فلم میں تجسس اور ایکشن غیر معمولی تھا۔ اسی ٹی وی فلم سے متاثر ہو کر 2012 میں ’آرگو‘ تخلیق کی گئی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) سال 1991 میں نمائش پذیر ہونے والی فلم ’ناٹ ود آؤٹ مائی ڈاٹر‘ دراصل اسی نام سے آئے ناول پر بنائی گئی فلم تھی۔ مرکزی کردار میں سیلی فیلڈ تھی۔ سچی داستان ایک امریکی خاتون کی رہی، جو اپنی بیٹی کے ساتھ انقلاب کے بعد ایران میں پھنس جاتی ہیں۔ وہ ایران سے نکلنے کی جستجو کرتی ہیں لیکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنی کم سن بچی کے ساتھ ہی وہ ایران سے اپنی منزل کا رخ کریں گی اور اس جدوجہد میں ان کی راہ میں ان گنت مشکلات اور دشواریوں کے پہاڑ آکھڑے ہوتے ہیں۔ فلم ایران کے معاشرتی اور قانونی ماحول کو سخت انداز میں پیش کرتی ہے۔ فلموں کا یہ سلسلہ آنے والے برسوں میں بھی جاری رہا۔ 2005 میں سابق سی آئی اے افسر رابرٹ بائیر کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’سی نو ایول‘ پر فلم ’سائی رانا‘ سینیما گھروں میں پیش کی گئی۔ جارج کلونی، میٹ ڈیمن اور کرس کوپر جیسے بڑے ستاروں کی کہکشاں سے یہ فلم آراستہ تھی۔ یہ فلم مشرقِ وسطیٰ کی تیل کی سیاست، سی آئی اے آپریشنز اور خفیہ مفادات کے گرد گھومتی رہی۔ فلم میں ایران براہِ راست مرکزی موضوع نہیں تھا لیکن خطے کی پاور گیم میں اس کا اثر واضح محسوس ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ سال 2006 میں ایکشن ایڈونچر سے بھری فلم ’300‘ کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ گو کہ یہ تخلیق براہ راست ایران پر نہیں تھی لیکن اس میں قدیم فارس کی سلطنت کو موضوع بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ اس فلم میں قدیم فارسی تہذیب کی منفی منظر کشی کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلم کو بھی ایران میں خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بہرحال فلم کے ایکشن اور جنگ و جدل کے مناظر کو دیکھ کر حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ اسی فلم کے ہیرو گیراڈ بٹلر کو غیر معمولی طور پر شہرت بھی ملی۔ سال 2007 میں اینی میٹڈ فلم ’پرسی پولز‘ پر کڑی تنقید کی گئی۔ فلم ایک ایرانی لڑکی کے گرد گھومتی تھی، جو اسلامی انقلاب کے دوران جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے۔ یہ لڑکی دو مختلف ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے دہرے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتی ہے۔ یورپی پروڈکشن میں تیار اس تخلیق کو ایران میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اگلے برس فرانسیسی نژاد ایرانی خاتون صحافی فریدون صاحب جم کی کتاب پر فلم ’دی سٹورنگ آف سوریا ایم‘ بنائی گئی۔ یہ تخلیق سچی کہانی پر مبنی تھی، جس کا سامنا خاتون صحافی نے از خود کیا۔ ثریا نامی خاتون کو جھوٹے الزام میں سنگسار کر دیا جاتا ہے۔ فلم انسانی حقوق کے موضوع پر بنی تھی جسے عالمی سطح پر پذیرائی ملی لیکن ایرانی تبصرہ نگاروں کا موقف تھا کہ اس فلم کے ذریعے ایرانی معاشرے کی منفی تصویر کشی کی گئی۔ دوسری جانب ہدایت کار کا موقف تھا کہ اس نے خاتون صحافی کی کتاب سے اس واقعے کو پیش کیا ہے، جو انہوں نے سفر کے دوران ایک ایرانی گاؤں میں دیکھا، جو اس خاتون صحافی کو متعلقہ لڑکی کی بوڑھی والدہ نے بیان کیا تھا۔ سال 2012 میں ہدایت کار اور اداکار بین ایفلک نے 1981 کی تخلیق ’سکیپ فرام ایران، دی کینیڈین کیپر‘ کو ’آرگو‘ کے نام سے ری میک کیا۔ فلم نے آسکر کا بہترین فلم ایوارڈ بھی جیتا۔ موضوع بحث تو سال 2015 میں نمائش پذیر ہونے والی فلم ’روز واٹر‘ بھی رہی۔ یہ فلم ایرانی صحافی مظہیار بہاری کی یادداشت پر مبنی کتاب پر بنائی گئی، جس میں دکھایا گیا کہ 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد کس طرح اس صحافی کی گرفتاری ہوئی اور پھر اس کے اسیری کے دوران واقعات کو نمایاں کیا گیا۔ سال 2015 میں فلم ’ستمبرز آف شیراز‘ دراصل اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں موجود یہودی خاندان کی زندگی کی عکاسی کرتی تھی۔ فلم کے مرکزی اداکاروں میں اڈنین بروڈی اور سلمیٰ ہائیک شامل رہے۔ 2016 میں فلم ’آن ونگز آف ایگلز‘ میں امریکی بزنس مین کی داستان بیان کی گئی، جس نے انقلاب کے دوران، ایران میں قید اپنے ملازمین کو چھڑانے کی جدوجہد کی۔ اسی طرح سال 2023 میں فلم ’قندھار‘ کا موضوع بھی ایران ہی رہا۔ ایکشن تھرلر مووی میں کہانی خفیہ ایجنٹ کی پیش کی گئی، جو ایران سے فرار کی کوشش کررہا ہے۔ اس تخلیق میں ایرانی انٹیلی جنس اور علاقائی سیاست کو ایکشن انداز میں دکھایا گیا ہے۔ بہرحال ان سب تخلیقات کے ساتھ اب جس فلم کی اہمیت حالیہ ایران امریکہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے بڑھ گئی ہے وہ بلاشبہ ’ہوٹل تہران‘ ہے جو رواں سال پیش کی جائے گی۔ فلم کے مرکزی کردار میں ہالی وڈ سپر سٹار لیام نیسن ہیں۔ اس تخلیق کا آئیڈیا بھی سابق سی آئی اے سپشیل آپریشن گروپ آفیسر بیزل بز کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے لیا گیا ہے۔ کہانی ایک ایسے یونٹ کی تھی جو تہران میں ایک مشن انجام دینے میں مصروف ہے۔ اگر یہ مشن مکمل مہارت کے ساتھ مکمل ہوگیا تو ان کی زندگی بدل سکتی ہے لیکن ناکامی کی صورت میں ایک نہ تھمنے والا عذاب ان کا منتظر ہے۔ ایران اور اس کے اسلامی انقلاب کے موضوع پر بنائی گئیں یہ تمام تخلیقات صرف داستانیں نہیں، بلکہ عالمی سطح پر تصورات اور ذہن سازی کا حصہ ہیں۔ ہر فلم کے ذریعے ناظرین کے ذہن میں ایران اور انقلاب کی تصویر کشی کی، کبھی حقیقت کے قریب تو کبھی پروپیگنڈے کے رنگ میں۔ آج جب ایران ہر عالمی فورم پر موضوع گفتگو بنا ہوا ہے، یہ فلمیں یاد دلاتی ہیں کہ سینیما محض تفریح نہیں بلکہ طاقتور آلہ ہے جو سوچ، جذبات اور عالمی حقائق کے ادراک کو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایران امریکہ اسرائیل پروپیگنڈا فلم ہالی وڈ میں گذشتہ چار دہائیوں کا جائزہ لیں تو ایران پر بنائی گئی متعدد فلمیں بھی مغربی دنیا کے پروپیگنڈے کی عکاسی یا ترجمانی کرتی نظر آئیں گی۔ سفیان خان جمعرات, مارچ 5, 2026 - 07:45 Main image:
سال 2012 میں ہدایت کار اور اداکار بین ایفلک نے 1981 کی تخلیق ’سکیپ فرام ایران، دی کینیڈین کیپر‘ کو ’آرگو‘ کے نام سے ری میک کیا (سکرین گریب/ آئی ایم ڈی بی)
فلم type: news related nodes: ’ہم نے میزائل آتے جاتے دیکھے‘: ایران سے واپس لوٹنے والے پاکستانی جنگی نعروں سے رومانوی تھرلرز تک: بالی وڈ میں کیا چل رہا ہے؟ آسکرز: ’سنرز‘ کے لیے ریکارڈ توڑ 16 نامزدگیاں لیاری نیٹ فلکس سیریز میں میرا کردار دبنگ اداکار کرے: نبیل گبول کی شرط SEO Title: فلمیں یا پروپیگنڈہ؟ ایران پر ہالی وڈ کا سیاسی منظرنامہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage