پنجاب ای ٹیکسی سکیم: سبسڈی کی تعریف، رنگ اور برینڈنگ پر اعتراضات

حکومت پنجاب کی ای ٹیکسی سکیم کے تحت افتتاح کے بعد گاڑیاں ملنا شروع ہو گئی ہیں۔ پہلے مرحلے میں 1100 الیکٹرک گاڑیاں بغیر سود آسان قسطوں اور کم ڈاؤن پیمنٹ پر ملنے سے ایک طرف درخواست گزار خوش تو دوسری طرف ییلو کیب سکیم کی طرح مخصوص سبز رنگ اور سکیم کی برینڈنگ پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ای ٹیکسی سکیم سرکاری طور پر متعارف کرا دی ہے۔ جس کا افتتاح جمعرات کو وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے ایک تقریب میں کیا۔ مختلف کمپنیوں کی پاکستان میں بنی ہوئی الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق چار ارب روپے کی سبسڈی کی اس سکیم میں 30 فیصد کوٹہ خواتین کا رکھا گیا ہے۔ سکیم کا مقصد شہری ٹرانسپورٹ کو ماحول دوست، جدید اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ الیکترک گاڑیاں فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے سیلز مینجر محمد کاشف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت پنجاب نے ہم سمیت الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مختلف کمپنیوں کے زریعے ای ٹیکسی سکیم کے تحت گاڑیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری گاڑی کی قیمت 64 لاکھ روپے ہے لیکن ای سکیم کے تحت 58 قسطوں پر ملے گی۔ جس کی ڈاون پیمنٹ  10 لاکھ  50  ہزار روپے ہے۔ اس میں درخواست گزار کو چھ لاکھ 90 ہزار جبکہ باقی حکومت ادا کرے گی۔ پانچ سال ماہانہ قسط 85 ہزار روپے ہو گی اس پر کوئی سود وصول نہیں کیا جائے گا۔ (انڈپینڈنٹ اردو) ’جن شہریوں نے e-taxi.punjab.gov.pk حکومتی پورٹل پر اپلائی کیا تھا ان کے نام اکتوبر تک فائنل کر لیے گئے ہیں۔ جن کے نام شارٹ لسٹ ہوئے انہیں کو گاڑیاں دی جارہی ہیں۔‘ گاڑی کے لیے شارٹ لسٹ ہونے والے لاہور کے شہری محمد آصف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’میں یہ گاڑی لینے آیا ہوں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ پیسے ہم ادا کریں گے حکومت سود پر سبسڈی دے گی۔ لیکن ان سب کا رنگ سبز رکھا گیا ہے اور حکومت نے اپنی برینڈنگ کی ہوئی ہے۔ ایسی گاڑی پر لوگ سفر کرنا پسند نہیں کرتے۔ لہذا حکومت کو چاہیے ان کو کمپنی کے ہی اصل رنگ مین فراہم کیا جائے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’جس طرح 90 کی دہائی میں ییلو کیب سکیم کے تحت ملنے والی گاڑیوں میں مسافر بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے ایسے ہی ان میں نہیں بیٹھیں گے۔ پھر بریڈنگ ختم کرانے یا رنگ تبدیل کرانے پر بھی پابندی ہے۔‘ ایک اور شہری تیمور یاسین کے بقول، ’ہم نے یہ گاڑی شرائط پوری کر کے اس لیے لی ہے کہ یہ ایک چارجنگ میں چار سو کلو میٹر تک چلتی ہے۔ ہم اسے یینگو پر ٹیکسی چلائیں گے۔ اس کے لیے شرط تھی کہ ڈرائیونگ لائسنس ہونا چاہیے اور مالی حیثیت بھی بہت زیادہ نہ ہو۔ اس کے ساتھ بینک میں ڈاؤن پیمنت جمع کرانا پڑتی ہے۔ پھر یینگو اکاؤنٹ سے شو روم کو تصدیق کرانا پڑتی ہے۔ (انڈپینڈنٹ اردو) ’یہ اچھی گاڑی ہے اس لیے لی ہے کہ نوکری کے ساتھ یہ کام کر کے روزگار بھی ملے گا۔ پانچ سال بعد گاڑی بھی اپنی ہو جائے گی۔‘ کاشف کے بقول، ’ای ٹیکسی سکیم کے تحت ملنے والی گاڑی کو پرائیوٹ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ان گاڑیوں مین ٹریکر لگے ہیں اگر ٹیکسی کی بجائے کوئی ذاتی استعمال کے لیے رکھے گا تو گاڑی کو ٹریک کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا رنگ بھی سبز رکھا گیا ہے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ یہ گاڑی صرف ٹیکسی استعمال کے لیے ہے۔‘ پنجاب حکومت مریم نواز ٹیکسی قرض ڈرائیور پنجاب حکومت ای ٹیکسی سکیم کے پہلے مرحلے میں 1100 الیکٹرک گاڑیاں بغیر سود آسان قسطوں اور کم ڈاؤن پیمنٹ پر دے گی۔ ارشد چوہدری جمعرات, مارچ 5, 2026 - 09:15 Main image: معیشت jw id: KcnJJLCk type: video related nodes: افغان ٹیکسی ڈرائیوروں نے گرمی سے بچنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ٹیکسی ڈرائیور منشیات بیچتا رہا: قائمہ کمیٹی میں انکشاف ’ٹیکسی ڈرائیور‘ سے ’جوکر‘ تک: سکرین کا سب سے پریشان کن اینٹی ہیرو عامر جمال: ٹیکسی چلانے سے سڈنی گراؤنڈ کا ناقابل یقین سفر SEO Title: پنجاب ای ٹیکسی سکیم: سبسڈی کی تعریف، رنگ اور برینڈنگ پر اعتراضات copyright: show related homepage: Hide from Homepage