یہ کہانی کسی بھی وقت دہرائی جا سکتی ہے ،خالدمسعود

جب دو‘ عالمی دس نمبری غنڈے آپ کے ساتھ والے گھر پر قبضہ کرنے کیلئے چادر چار دیواری کے سارے اصول توڑتے ہوئے حملہ آور ہو رہے ہوں اور ان شہدوں کی شہرت یہی ہو کہ وہ نہ کسی کے دوست ہیں اور نہ ہی کسی اخلاقی قاعدے کے پابند‘ تو ایسے میں اپنے گھر کے مستقبل کی خاطر ہمسایے سے پرانی شکایات کا دفتر کھولنا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ شاہ جی کے بقول موجودہ صورتحال میں ایران ہم سب کی طرف سے اکیلا فرضِ کفایہ ادا کر رہا ہے۔ لیکن کیا ایران کے اس عمل سے ہم سب کی ذمہ داری اور فرائض ساقط ہو... ​ Read more