مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، جس نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، روسی تیل کو دنیا کی 2 بڑی توانائی کی منڈیوں انڈیا اور چین کے لیے زیادہ قیمتی بنا رہی ہے۔ تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جبکہ دنیا بھر میں سٹاک مارکیٹیں گر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر رکاوٹ چند ہفتوں سے زیادہ جاری رہی تو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ یہ آبنائے، جس کے ذریعے عالمی تیل اور مائع گیس کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے، ایرانی افواج کی جانب سے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو آگ لگانے کی دھمکی کے بعد بیشتر آپریٹرز کے لیے عملاً بند ہو چکی ہے۔ جیسے جیسے عالمی تیل کم اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے، چند ممالک ایسے ہیں جو اس دباؤ کو انڈیا اور چین سے زیادہ شدت سے محسوس کریں گے۔ یہ دونوں ملک دنیا کے سب سے بڑے توانائی درآمد کنندگان میں شامل ہیں اور دونوں خلیجی سپلائی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ کموڈٹی انٹیلی جنس سروسز (آئی سی آئی ایس) میں توانائی اور ریفائننگ کے ڈائریکٹر اجے پرمار نے کہا: ’اگر ہمیں طویل جنگ دیکھنے کو ملی اور آبنائے طویل عرصے تک استعمال کے قابل نہ رہی تو اس کا مطلب ہوگا کہ دنیا بھر کے تمام ممالک تیل کے ہر اضافی بیرل کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔‘ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورت حال سے سب سے واضح فائدہ روس کو ہوگا، جو دونوں ممالک کا دیرینہ سپلائر ہے اور جس سے دور رہنے کے لیے واشنگٹن انڈیا پر دباؤ ڈال رہا تھا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) خلیجی ممالک سے سپلائی بند ہونے کے بعد روسی خام تیل آسانی سے دستیاب ہے۔ انڈین ریفائنریوں تک ٹینکروں کے ذریعے اور چین تک پائپ لائن کے ذریعے اور دونوں ممالک پہلے ہی اپنی خریداری بڑھا رہے ہیں۔ سی آر ای اے کے شریک بانی اور مرکزی تجزیہ کار لاوری میلی ویرتا نے کہا: ’بنیادی اثر یہ ہوگا کہ روس زیادہ پیسہ کمائے گا اور چین اور انڈیا سمیت تمام درآمد کنندگان کو اپنے تیل کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘ انڈیا اپنی تیل کی ضروریات کا 88 فیصد سے زیادہ درآمدات سے پورا کرتا ہے اور اس کے خام تیل کا تقریباً نصف حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے، جن کی برآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں۔ حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اس کے پاس 74 دن کے ذخائر موجود ہیں، تاہم رپورٹس کے مطابق یہ ذخیرہ ممکنہ طور پر صرف 25 دن تک محدود ہو سکتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں انڈین ریفائنریاں امریکی دباؤ کے تحت روسی تیل کی خریداری کم کر رہی تھیں۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد بھاری ٹیرف کے بعد تجارتی معاہدے سے متعلق وسیع تر مذاکرات کا حصہ تھا۔ جنوری تک روسی خام تیل انڈیا کی درآمدات کا 20 فیصد سے بھی کم رہ گیا تھا، جو تقریباً 4 برسوں میں سب سے کم سطح تھی، جبکہ سعودی عرب سے درآمدات تقریباً 6 برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ اب جبکہ آبنائے ہرمز بند ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق سمت واضح ہے۔ ایکٹیو ٹریڈز کے سینیئر تجزیہ کار ریکارڈو ایوینجیلسٹا نے کہا: ’اگر رکاوٹ طویل عرصے تک جاری رہی تو دونوں ممالک ممکنہ طور پر روسی تیل کی خریداری بڑھانے پر غور کریں گے۔‘ تاہم نیٹکسس میں ایشیا پیسیفک کی چیف اکنامسٹ ایلیسیا گارسیا ہیریرو نے کہا کہ اگرچہ چین کے لیے روسی درآمدات بڑھیں گی، لیکن انڈیا کے لیے، جو ابھی بھی واشنگٹن کے ساتھ عبوری معاہدے کا پابند ہے، بڑی تبدیلیاں زیادہ مشکل ہو سکتی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ انڈیا 10 سے 15 دن کے اندر متبادل سپلائی تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس پہلے ہی اضافی سپلائی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ماسکو کو انڈیا کی جانب سے اپنے خام تیل کی اضافی مقدار خریدنے میں ’نئی دلچسپی کے اشارے‘ مل رہے ہیں اور انہوں نے کہا کہ وہ ’اب بھی پُریقین ہیں‘ کہ یہ تجارت دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے۔ جمعرات سے متبادل فراہمی شروع ہو چکی ہے اور کم از کم 3 ٹینکر اس ہفتے تقریباً 2.1 ملین بیرل روسی یورال خام تیل لے کر انڈین بندرگاہوں کی طرف رواں دواں تھے۔ بلومبرگ نے جہازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے ایک جہاز، سویز میکس اوڈونے، انڈیا کے مشرقی ساحل پر واقع پارادیپ پہنچ چکا ہے، دوسرا مغربی ساحل پر ودینار کی طرف جا رہا ہے جبکہ تیسرا جہاز جو پہلے سنگاپور کی طرف اشارہ دے رہا تھا اب بحیرہ عرب میں شمال کی طرف مڑ کر انڈیا کی جانب جا رہا ہے۔ یہ تینوں جہاز یورپی یونین اور برطانیہ کی پابندیوں کے تحت ہیں۔ چین کی صورت حال مختلف ہے مگر سمت وہی ہے۔ بیجنگ نے انڈیا کی طرح روسی خریداری کم کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا، تاہم اس کی قومی تیل کمپنیوں نے حالیہ عرصے میں اپنی خریداری میں کمی کی تھی۔ اجے پرمار کے مطابق یہ احتیاط زیادہ دیر برقرار رہنے کا امکان نہیں۔ انہوں نے کہا: ’اگرچہ آزاد ریفائنریاں اب بھی روسی تیل کی مناسب مقدار خرید رہی ہیں، چین نے حالیہ مہینوں میں اپنی قومی تیل کمپنیوں کو روسی تیل خریدنے سے روک رکھا تھا۔ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو یہ پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے۔‘ اس پول تصویر میں، جو روسی سرکاری ایجنسی سپتنک نے جاری کی، روس کے صدر ولادی میر پوتن اور انڈین وزیراعظم نریندر مودی 4 دسمبر 2025 کو نئی دہلی میں پام ایئر فورس بیس سے روانہ ہوتے ہوئے ایک کار میں بیٹھے ہوئے ہیں (گریگوری سسویف / پول / اے ایف پی) وورٹیکسا کے اعداد و شمار کے مطابق فروری میں چین کو روسی خام تیل کی ترسیل جنوری کے مقابلے میں تقریباً 370,000 بیرل یومیہ بڑھ گئی، جو تقریباً اتنی ہی مقدار ہے جتنی بیجنگ کو اس سے پہلے وینزویلا سے مل رہی تھی، جب وہاں سے ترسیل بند ہو گئی۔ اس سال چین کو اپنے 2 بڑے سپلائرز تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، دونوں صورتوں میں وجہ واشنگٹن ہے۔ ایران کی برآمدات دباؤ میں ہیں، اگرچہ انڈیا کی طرح مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد صورت حال بدل گئی۔ وینزویلا کا خام تیل، جو نکولس مادورو کے دور میں تقریباً مکمل طور پر بیجنگ کو جاتا تھا کیونکہ امریکی پابندیوں نے دوسرے خریداروں کو باہر کر دیا تھا، جنوری میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بند ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ’ایک معاہدے کے تصور‘ پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت انڈیا روسی تیل کی ضرورت پوری کرنے کے لیے وینزویلا کا تیل خریدے گا، مگر پیداوار کم ہو کر صرف تقریباً 1 ملین بیرل یومیہ رہ گئی ہے، انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے اور نئی دہلی کے لیے فاصلہ بھی ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں روس کی پوزیشن خاص طور پر فائدہ مند بن جاتی ہے۔ ماسکو کے تیل کا بڑا حصہ مہینوں سے پابندیوں کا شکار ٹینکروں میں پڑا ہوا ہے، جنہیں مغربی بندرگاہیں اور بیمہ کمپنیاں قبول نہیں کرتیں، جس سے وہ انڈین ریفائنریوں کے لیے آسانی سے دستیاب ہو گا۔ چین کو روسی خام تیل براہ راست پائپ لائن کے ذریعے ملتا ہے، جس سے اس کی رسائی اور بھی زیادہ محفوظ ہو جاتی ہے۔ کاربن برج کے پرنسپل تجزیہ کار کرس رائٹ نے کہا کہ روس کے پاس تقریباً 58 ملین بیرل کا تیرتا ہوا ذخیرہ موجود ہے، جو ’ممکنہ طور پر 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے والی منڈی کے مقابلے میں کہیں سستا ہوگا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’جو بھی تیل یا گیس پیدا کرنے والا ملک آبنائے ہرمز پر انحصار نہیں کرتا وہ اب عالمی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہو جائے گا۔‘ تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے علاوہ برازیل، ارجنٹینا، آسٹریلیا، ملائیشیا اور امریکہ بھی زیادہ قیمتوں اور محدود عالمی سپلائی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 31 دسمبر 2022 کو ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب مشقوں میں حصہ لے رہی ہے (AFP PHOTO / HO / IRANIAN ARMY OFFICE) تاہم انڈیا اور چین کو سپلائی فراہم کرنے کے لحاظ سے ماسکو جتنی سٹریٹجک پوزیشن کسی اور کے پاس نہیں ہے، کیونکہ دونوں ممالک مل کر روزانہ تقریباً 22 سے 23 ملین بیرل تیل استعمال کرتے ہیں، جو عالمی طلب کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ اگرچہ طویل مدت میں روس کے فائدے کے بارے میں تجزیہ کار پریقین ہیں، لیکن فوری طور پر وہ تیل کی بڑھتی قیمتوں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا سکا کیونکہ اسے اپنی کچھ مشکلات کا سامنا ہے۔ یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث نووروسیسک میں واقع شیشخاریس آئل ٹرمینل، جہاں سے روزانہ تقریباً 500,000 بیرل لوڈ ہونے تھے، پیر سے بند ہے، جبکہ شدید برفانی موسم نے اس کی بالٹک بندرگاہوں میں لوڈنگ کی صلاحیت کم کر دی ہے، تاہم مشرق بعید میں کوزمینو بندرگاہ سے برآمدات تقریباً ریکارڈ سطح پر ہیں۔ انڈیا کے لیے ماسکو کی طرف واپس جانے کی سیاسی قیمت واحد پیچیدگی ہے اور وہ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ آئی ای ای ایف اے میں جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر ویبھوتی گرگ نے کہا: ’موجودہ حالات میں مجھے لگتا ہے کہ امریکہ کچھ نہیں کہے گا،‘ کیونکہ واشنگٹن اس راستے کی بندش کے بعد انڈیا کو متبادل تلاش کرنے پر سزا دینے کی کمزور پوزیشن میں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ وہ انڈیا کی جانب سے دوبارہ روسی تیل خریدنے کو کیسے دیکھے گا۔ اسی دوران امریکہ اور فرانس دباؤ کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے خلیج سے گزرنے والے جہازوں کے لیے سیاسی خطرے کی انشورنس کا اعلان کیا ہے جبکہ فرانس نے چارلس ڈی گال طیارہ بردار بحری جہاز کو بحیرہ روم کی طرف روانہ کر دیا ہے۔ لیکن جب تک آبنائے ہرمز بند ہے، ان اقدامات سے انڈیا اور چین کے بنیادی حساب میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور وہ یہ کہ توانائی کے تحفظ کی طرف سب سے تیز راستہ اب بھی ماسکو سے ہو کر گزرتا ہے۔ روس صدر ڈونلڈ ٹرمپ انڈیا تیل خلیجی ممالک سے سپلائی بند ہونے کے بعد روسی خام تیل آسانی سے دستیاب ہے۔ انڈین ریفائنریوں تک ٹینکروں کے ذریعے اور چین تک پائپ لائن کے ذریعے اور دونوں ممالک پہلے ہی اپنی خریداری بڑھا رہے ہیں۔ ستوتی مشرا جمعہ, مارچ 6, 2026 - 10:45 Main image:
روسی سپرٹینکر ایسٹرو لوپس 3 جولائی 2002 کو میکسیکو کے خلیج میں، ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن سے 50 میل فاصلے پر، روسی خام تیل کی پہلی براہِ راست ترسیل امریکہ میں اتارنے کے لیے انتظار کر رہا ہے (تصویر: پول / بلومبرگ نیوز / اے ایف پی / کریگ ایچ ہارٹلی)
دنیا type: news related nodes: مصروف آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش: دنیا پر کیا اثرات ہوں گے؟ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟ ایران جنگ: تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل ہونے کا خدشہ تیل کی ’بلاتعطل فراہمی‘ کے لیے تیار: پوتن کی مودی کو یقین دہانی SEO Title: روس ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/iran-us-war-oil-china-india-russia-trump-b2931575.html show related homepage: Show on Homepage