خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر میں چاہتی ہوں کہ آپ ایک ہی وقت میں دو حقیقتوں کو ذہن میں رکھیں۔ پہلی حقیقت ہے کہ طالبان نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو لگ بھگ پانچ برس سے تعلیم سے محروم کر رکھا ہے۔ دنیا میں یہ واحد حکومت ہے جس نے قانون سازی کے ذریعے ایک پوری صنف سے سیکھنے کا حق چھین لیا ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ اس ہفتے برطانوی وزیر داخلہ نے بھی یہی کام کیا ہے۔ بالکل اسی طریقے سے نہیں۔ اسی درجے کی سفاکی کے ساتھ نہیں۔ مگر نتیجہ وہی ہے۔ افغانستان کے لیے سٹڈی ویزا پر ہوم آفس کی ہنگامی پابندی کا مطلب یہ ہے کہ جو خاتون کسی برطانوی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کر لے، وہ وہاں آ ہی نہیں سکتی جب کہ طالبان بندوق کے زور پر دروازہ بند کرتے ہیں۔ شبانہ محمود اسے ایک پالیسی کے ذریعے بند کرتی ہیں۔ 18 سالہ افغان لڑکی بہار، جن کے ہاتھ میں سکالرشپ ہے اور یارک اور ریڈنگ سے داخلے کی پیشکشیں بھی، ان دونوں صورتوں کے درمیان کوئی فرق محسوس نہیں کر سکتیں۔ میں ایک افغان خاتون ہوں۔ جب سقوط کابل ہو گیا تو میں افغان شہریوں کی دوبارہ آبادکاری کے لیے برطانیہ کے وزیر کی خصوصی مشیر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ میں اس سرکاری نظام کے اندر موجود تھی جو اس تباہی، اس افراتفری، اس احساس جرم اور ان وعدوں کے جواب میں حرکت میں آیا تھا جو ان ابتدائی بے حد کٹھن ہفتوں میں کیے گئے تھے۔ میں جانتی ہوں کہ ان وعدوں کو کتنی سنجیدگی سے لیا گیا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ برطانیہ نے افغان خواتین سے ایک کے بعد ایک وعدہ کیا۔ گذشتہ ہفتے وہ وعدے خاموشی سے ایک طرف رکھ دیے گئے۔ میں آپ کو بتاتی ہوں کہ بہار کون ہیں؟ کیوں کہ وہ اس سے کہیں زیادہ کی حق دار ہیں کہ ہوم آفس کی کسی بریفنگ میں محض ایک عدد بن کر رہ جائیں۔ افغان طالبات 11 نومبر 2025 کو صوبہ بلخ میں ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھر واپس جا رہی ہیں (اے ایف پی) چار برس تک، جب طالبان ان کے لیے تعلیم کے ہر باضابطہ راستے کو ایک ایک کر کے ختم کر رہے تھے، وہ پھر بھی سیکھتی رہیں۔ آن لائن انگریزی کی کلاسیں، چھپ کر۔ انہوں نے برطانوی یونیورسٹیوں میں درخواستیں دیں۔ انہیں سکالرشپ ملی۔ انہیں دو داخلوں کی پیشکش ہوئی۔ پھر، جیسے یہ سب کچھ ہی کافی مشکل نہ تھا، انہیں اپنے والد اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایک دلیل دے کر انہیں قائل کرنا پڑا کہ انہیں اکیلے دوسرے ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ انہیں زبردستی کی شادی کے خلاف مزاحمت کرنا پڑی۔ انہوں نے اپنے خاندان کے اس راستے کے مقابلے میں، جو اس کے لیے چنا گیا تھا، اپنی تعلیم کو ترجیح دی اور اس کی انہیں ذاتی طور پر بھاری قیمت چکانی پڑی۔ انہوں نے یہ سب کچھ کیا۔ ہر آخری رکاوٹ پار کی۔ اور ہماری وزیر داخلہ شابانہ محمود نے یہ سب دیکھ کر کہا: ’یہ کافی نہیں۔‘ بہار میری کزن ہیں۔ وہ ان سینکڑوں نوجوان خواتین میں سے بھی ایک ہیں جو فرینڈز آف افغان ویمن نیٹ ورک کی حمایت کرتی ہیں، جو ایک ایسی تنظیم ہے جو اس وقت افغانستان کے اندر کام کرنے والے خواتین کی قیادت والے سول سوسائٹی گروپس کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ان کی زندگیاں کیسی ہیں؟ میں جانتی ہوں کہ طالبان کی حکومت میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش ان سے کیا قیمت وصول کرتی ہے، ان کی سلامتی میں، ان کے خاندانی تعلقات میں، ان کے روزمرہ کے خوف میں۔ اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ان کے لیے اس بات کا کیا مطلب ہے کہ ایک ایسا ملک، جو 2021 میں کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر افغان خواتین کے ساتھ کھڑے رہنے کا وعدہ کر رہا تھا، اب خاموشی سے ایک پریس ریلیز میں اس وعدے سے پھر گیا ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ کا جواز یہ ہے کہ افغان طلبہ ویزا نظام کا غلط استعمال کر رہے ہیں، یعنی سٹڈی ویزا پر برطانیہ آتے ہیں اور پھر پناہ کی درخواست دے دیتے ہیں۔ آئیے اس دعوے کو ٹھیک ٹھیک دیکھتے ہیں، کیوں کہ یہ جانچ پڑتال میں ٹھہر نہیں سکتا۔ اگر کوئی افغان خاتون تعلیم کے لیے برطانیہ آتی ہیں اور بعد میں پناہ مانگتی ہیں، تو خود سے پوچھیں کیوں؟ وہ دنیا کے واحد ایسے ملک سے آتی ہیں جہاں ان کی جنس، قانوناً، تعلیم، ملازمت اور مرد سرپرست کے بغیر عوامی جگہ پر آنے تک میں رکاوٹ ہے۔ ظاہر ہے، وہ پناہ مانگتی ہیں۔ یہ نظام کا غلط استعمال نہیں۔ یہ تو اسی طرح نظام کا کام کرنا ہے جس طرح اسے بنایا گیا تھا، یعنی ایسے لوگوں کو تحفظ دینا جنہیں ظلم و ستم کا حقیقی خطرہ لاحق ہو۔ شبانہ محمود افغان خواتین کو اپنی زندگیوں کے بارے میں سچ بولنے کی سزا دے رہی ہیں۔ اب ان اعداد و شمار پر نظر ڈالیں، جن کا ذکر وزیر داخلہ نے اپنے اعلان میں نہیں کیا۔ پاکستان ان لوگوں میں سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے جو قانونی ویزا پر برطانیہ آتے ہیں اور بعد میں پناہ کی درخواست دے دیتے ہیں۔ صرف گذشتہ سال ہی ایسے لوگوں کی تعداد تقریباً 10 ہزار تھی۔ پناہ کی تمام درخواستوں میں پاکستانی شہری سرفہرست ہیں اور پھر بھی، ان میں سے 70 فیصد سے زیادہ درخواستیں مسترد ہونے کے باوجود، صرف چار فیصد لوگوں کو واقعی واپس بھیجا گیا۔ افغانستان وہ مسئلہ نہیں ہے جو شبانہ محمود اسے بتا رہی ہیں۔ مسئلہ پاکستان ہے۔ مگر پاکستان کے پاس حکومت ہے، فوج ہے اور سفارتی اثر و رسوخ ہے۔ افغانستان کے پاس بہار جیسی خواتین ہیں۔ اس لیے پابندی افغانستان پر لگتی ہے۔ یہ ترک کی پالیسی نہیں۔ یہ محض دکھاوا ہے۔ یہ نظام میں سب سے زیادہ بے دفاع قومیت کو نشانہ بنانا ہے، صرف اس لیے کہ وہ جوابی دباؤ نہیں ڈال سکتی۔ میں وزیر داخلہ سے براہ راست بات کرنا چاہتی ہوں، کیوں کہ میرا خیال ہے کہ وہ اس کی مستحق ہیں۔ آپ ایک مسلمان خاتون ہیں۔ آپ جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والی ایک خاتون ہیں اور آپ نے خود اس پر بات کی ہے کہ رکاوٹیں توڑنے کا کیا مطلب ہوتا ہے اور ان کمروں میں موجود ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے، جہاں آپ جیسے لوگوں کی موجودگی کی توقع نہیں کی جاتی تھی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) میں یہ نہیں مانتی کہ آپ بہار کے معاملے میں بے حس ہیں۔ میرا ماننا یہ ہے کہ آپ نے ایک سیاسی حساب لگایا ہے کہ اس وقت ’ریفارم یو کے‘ جماعت کے ہاتھوں جو ووٹ آپ کھو سکتی ہیں، وہ اس ویزا سے زیادہ اہم ہیں جو آپ ایک ایسی لڑکی کو دینے سے انکار کر رہی ہیں جس نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے زبردستی کی شادی کا مقابلہ کیا۔ میں آپ سے کہہ رہی ہوں کہ اس حساب پر دوبارہ غور کریں۔ اس لیے نہیں کہ یہ سیاسی طور پر موزوں ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ غلط ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ دل کی گہرائی میں آپ خود بھی جانتی ہیں کہ یہ غلط ہے۔ میں اس سے پہلے بھی یہ سب دیکھ چکی ہوں۔ اگست 2021 میں حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ افغانستان میں چیوننگ سکالرز، یعنی وہ نوجوان جنہوں نے برطانیہ کی سب سے باوقار سرکاری سکالرشپ جیتی تھی، ان کی پیشکشیں ایک سال کے لیے موخر کر دی جائیں گی۔ میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ میں نے ایک مہم چلائی، ارکان پارلیمان سے رابطہ کیا، تنظیموں اور نمایاں شخصیات کو متحرک کیا۔ چند ہی دنوں میں وزیر اعظم بورس جانسن نے ذاتی طور پر مداخلت کی اور عہد کیا کہ ان سکالرز کے ویزوں کو ترجیح دینے کے لیے ’ہم جو کچھ کر سکتے ہیں کریں گے‘۔ ہم نے ایک وزیراعظم کو بدلنے پر مجبور کر دیا۔ چند دنوں میں۔ کیوں کہ اس کے خلاف کوئی جواب موجود نہیں تھا۔ اس کے خلاف بھی کوئی جواب موجود نہیں۔ طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد 22 ہزار مدرسے بنائے، ایسے سکول جہاں صرف قرآن مجید پڑھایا جاتا ہے، کیوں کہ ایک تعلیم یافتہ افغان خاتون ہر اس چیز کے لیے خطرہ ہے جس پر وہ کھڑے ہیں۔ برطانیہ نے یہ سب ہوتے دیکھا اور کہا کہ یہ ظلم ہے۔ برطانیہ نے امداد بھیجی۔ برطانیہ نے تقاریر کیں۔ برطانیہ نے وعدے کیے۔ اور اب برطانیہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ لڑکی جس نے طالبان کے ایجنڈے کا مقابلہ کیا، جس نے چھپ کر انگریزی سیکھی، جس نے زبردستی کی شادی سے انکار کیا، جس نے اپنی جگہ خود بنائی، وہ پناہ کے خطرے کے طور پر دیکھی جائے گی۔ اس کا نام بہار ہے۔ اس کی عمر 18 سال ہے۔ اس نے وہ سب کچھ کیا جو ہم نے اس سے چاہا تھا۔ شبنم نسیمی ’فرینڈز آف افغان ویمن نیٹ ورک‘ کی شریک بانی اور ڈائریکٹر ہیں۔ افغان تارکین وطن سکالرشپ طالبہ تعلیم کابل افغانستان 18 سالہ بہار نامی افغان خاتون چھپ کر تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ انہیں برطانوی یونیورسٹی سے سکالر شپ ملی لیکن حکومت نے سٹڈی ویزے پر پابندی لگا دی۔ شبانہ نسیمی اتوار, مارچ 8, 2026 - 13:30 Main image:
صوفیہ نامی ایک افغان طالبہ 18 مارچ 2023 کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنے گھر پر ایک آن لائن کلاس کے دوران نوٹس لے رہی ہیں (روئٹرز)
ایشیا type: news related nodes: برطانیہ کے افغانستان سمیت چار ملکوں کے لیے تعلیمی ویزے بند سکالرشپس پر جانے والے 12 اساتذہ وطن نہیں لوٹے: جامعہ پنجاب تعلیم کے شعبے میں سرگرم افغان کارکن کے لیے قطر میں ایوارڈ 40 سال کی عمر میں کیریئر چھوڑ کر تعلیمی اداروں کا رخ کیوں؟ SEO Title: ویزہ پابندیاں: افغان خاتون جنہیں سکالرشپ کے باجود برطانیہ نہیں آنے دیا گیا copyright: IndependentEnglish origin url: www.independent.co.uk/news/people/news/afghan-girl-mahmood-university-taliban-b2933343.html show related homepage: Hide from Homepage