ملک کی بڑی کاروباری کمپنی نشاط گروپ کے سربراہ میاں محمد منشا نے پاکستان ریلویز میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کا گروپ ریلویز کے ساتھ تعاون کے ٹھوس مواقع تلاش کرے گا۔ چیئرمین نشاط گروپ کی طرف سے یہ یقین دہانی ہفتے کو اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے لاہور میں پاکستان ریلویز کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا، جس کا مقصد پاکستانی بزنس ٹائیکون کی ادارے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لینا ہے۔ ترجمان پاکستان ریلویز بابر علی رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس دورے کے دوران میاں محمد منشا نے وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی سے ملاقات بھی کی، جنہوں نے نشاط گروپ کے چیئرمین کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پاکستان ریلویز کے جاری اور آئندہ اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ میاں منشا نے اس موقعے پر کہا کہ وہ سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے ارکان کو پاکستان ریلویز میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی اور کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے یہ موزوں وقت ہے کیونکہ ادارہ ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی شراکت داریاں نہ صرف پاکستان ریلویز کی آمدن میں اضافہ کریں گی بلکہ پاکستان کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کریں گی۔‘ بابر علی رضا نے مزید بتایا کہ دورے کے دوران میاں محمد منشا نے پاکستانم ریلویز کی نئی قائم کردہ آپریشنل نگرانی اور سٹریٹجک رابطہ کاری کی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ بابر علی کے بقول، ’اس دوران نشاط گروپ کے چیئرمین کو نئی قائم کردہ کانفرنس اور مانیٹرنگ سہولت دکھائی گئی جو آپریشنل نگرانی اور سٹریٹجک رابطہ کاری کے لیے مرکزی مرکز کے طور پر کام کرتی ہے۔ انہیں بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کا دورہ بھی کرایا گیا جو حال ہی میں پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹرز میں کاروباری برادری کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز کا مقصد سرمایہ کاروں، فریٹ صارفین اور کمرشل شراکت داروں کو ایک ہی جگہ معلومات، رابطہ کاری اور پاکستان ریلوے کے تجارتی و شراکتی مواقع سے متعلق سوالات کے حل کے لیے ون ونڈو سہولت فراہم کرنا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’وفاقی وزیر نے میاں منشا کو بتایا کہ حکومت بین الاقوامی معیار کی پبلک پرائیویٹ شراکت داری کو اپنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ پاکستان ریلویز کو جدید بنایا جا سکے، آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کیا جائے اور نجی شعبے کے لیے موثر سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔‘ 5 جنوری 2022 کو لاہور میں سردی کی ایک دوپہر بارش کے دوران مسافر لاہور ریلوے سٹیشن سے باہر نکل رہے ہیں (عارف علی / اے ایف پی) ماہرین کی رائے پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ریلوے کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ناگزیر ہے، جس سے خستہ حال ٹریک جو آئے روز حادثات کا باعث بن رہے ہیں بہتر ہوسکتے ہیں بلکہ ٹرینوں کی صورتحال بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ پاکستان ریلویز میں مختلف شعبوں میں کام کرنے والے سابق افسر شیخ ایاز نے بتایا کہ ’اگر ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور نجی شعبے کو موثر انداز میں شامل کیا جائے تو یہ ادارہ نہ صرف منافع بخش بن سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط سہارا فراہم کر سکتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت مال برداری کا زیادہ تر بوجھ سڑکوں پر ہے، جس سے ٹریفک، ایندھن کے اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ریلوے کے ذریعے فریٹ سروس کو فروغ دیا جائے تو لاجسٹکس کے اخراجات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور صنعتوں کو بھی فائدہ ہو گا۔ ’ریلوے سٹیشنز کے اطراف کمرشل سرگرمیوں کو فروغ دینے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔ بڑے شہروں خصوصاً لاہور، کراچی اور راولپنڈی میں ریلوے سٹیشنز کے قریب شاپنگ مالز، پارکنگ پلازہ، ہوٹل اور دفاتر بنانے کے منصوبے نجی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش سمجھے جا رہے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس کے علاوہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے چین کے تعاون سے مین لائن ون منصوبے پر بھی توجہ لازمی ہے جو پاکستان اور چین کے درمیان راہداری منصوبے سی پیک کا اہم حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریلوے ٹریک کو جدید بنایا جا سکے گا اور ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جس سے سفر اور مال برداری دونوں میں بہتری آئے گی۔‘ پاکستان ریلویز کی مالی حالت پاکستان ریلویز گذشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل خسارے کا شکار رہا ہے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق 2010 سے 2020 کے درمیان پاکستان ریلویز کو تقریباً 333 ارب روپے کا مجموعی خسارے کا سامنا رہا جبکہ 2022-2023 میں اس ادارے کا خسارہ تقریباً 8.46 ارب روپے تک رہا۔ تاہم 2023۔24 میں پاکستان ریلویز کی کارکردگی میں بہتری واقع ہوئی اسے تقریباً 41 کروڑ روپے کا منافع ہوا، جبکہ گذشتہ سال منافع بڑھ کر 2.26 ارب روپے ہو گیا۔ موجودہ حکومت نے ریلویز میں بہتری کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا آغاز کیا جس کے آمدن میں اضافے کے حوالے سے مثبت اثرات سامنے آئے۔ اس پالیسی کے تحت ریلویز کی 11 مسافر ٹرینیں نجی شعبے کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت محکمہ ریلویز نے اس سال آمدن کا مجموعی حدف 100 ارب روپے مقرر کیا ہے۔ پاکستان ریلوے نجکاری سرمایہ کاری ٹرین نشاط گروپ کے سربراہ میاں محمد منشا نے ہفتے کو لاہور میں پاکستان ریلویز کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران ادارے میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اعادہ کیا۔ ارشد چوہدری سوموار, مارچ 16, 2026 - 16:30 Main image:
مسافر 20 اپریل 2023 کو لاہور کے ایک ریلوے سٹیشن پر ٹرین میں سوار ہو رہے ہیں، جب وہ رمضان کے مقدس روزے کے مہینے کے اختتام پر عید الفطر کے تہوار سے پہلے گھر واپس جا رہے ہیں (عارف علی/ اے ایف پی)
معیشت type: news related nodes: پاکستان ریلویز آمدن میں اضافہ، مسافروں کی شکایات برقرار پاکستان ریلویز تکنیکی اعتبار سے خسارے میں نہیں: چیئرمین پاکستان ریلویز اور پی ایس او ایک دوسرے سے مایوس کیوں؟ ’پاکستان ریلویز کے پاس صرف تین دن کا ڈیزل باقی رہ گیا ہے‘ SEO Title: پاکستان ریلویز کی نجکاری: میاں منشا کے نشاط گروپ کی دلچسپی کتنی اہم ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage