کابل میں ہدف ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا، سویلین اموات جھوٹ: ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کابل پر حالیہ پاکستانی حملے میں ہدف افغان طالبان کے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے علاوہ ڈرون کا ڈپو تھا۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر سے بدھ کی رات گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ گولہ بارود پھٹنے سے جو دھماکے ہوئے انہیں پورے کابل شہر نے دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا پراپیگنڈہ جھوٹ ہے اور طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں سویلین لباس پہنتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ 16 مارچ 2026 کو کابل میں نشے کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر فضائی حملے کے بعد افغان فائر فائٹرز اور طالبان کے سکیورٹی اہلکار آگ بجھانے کے لیے کام کر رہے ہیں (اے ایف پی) ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون افغان طالبان کو انڈیا فراہم کر رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی لڑائی نہیں۔ ’انہیں تو خود دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان نے تمام دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور یہ کہنا غلط ہو گا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ ’بلکہ ہمارے اوپر دہشت گردی کی جنگ مسلط کی گئی ہے اور ہم اپنا تحفظ کر رہے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی افغان قوم کے خلاف کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ’افغان قوم مظلوم ہے اور وہ خود رجیم کے شکنجے میں ہے۔‘ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آپریشن غزب للحق افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں ہیں اور اس دوران پاکستان 81 حملے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ پاکستانی حملے کے مقام پرمنشیات کے عادی افراد کا مرکز تھا۔ ان سے پوچھا جائے کہ عسکری کیمپ میں ایسا مرکز کیوں قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغاستان پوری دنیا کی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بنتا جا رہا ہے اور پاکستان اس دہشت گردی کو روک رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے رہنماؤں کو حکومتی عمارتوں میں رکھا گیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ انہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ پاک افغان تعلقات پاک افغان سرحد افغانستان پاکستان جنگ جھڑپیں اموات دہشت گردی ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کی افغان عوام سے لڑائی نہیں۔ ’انہیں تو خود دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔‘ انڈپینڈنٹ اردو بدھ, مارچ 18, 2026 - 20:00 Main image:

پاکستان فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے 27 فروری 2026 کو نیوز کانفرنس کی (سکرین گریب/ آئی ایس پی آر)

ایشیا type: news related nodes: افغانستان میں آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روک دیا گیا ہے: عطا تارڑ افغانستان سے یورپ کے لیے برآمدات: لاپس لازولی راہداری کیا ہے؟ افغانستان میں یوناما کے مینڈیٹ میں محض تین ماہ کی توسیع پاکستان اور افغانستان تناؤ کو مذاکرات سے کم کریں: چین SEO Title: کابل میں ہدف گولہ بارود، ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا، سویلین اموات جھوٹ: ڈی جی آئی ایس پی آر copyright: show related homepage: Hide from Homepage