کیا ٹرمپ پیچھے ہٹ جائیں گے؟ جوں جوں ’ آپریشن ایپک فیوری ‘ آگے بڑھ رہا ہے، یہ بات ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتی جا رہی ہے اور صدر کے سامنے راستے محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ماضی میں دنیا اور خاص طور پر مارکیٹوں نے یہ سیکھا ہے کہ ’ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں‘ یا ’ٹاکو‘ (Taco یعنی Trump Always Chickens Out)۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنی شرائط پر فتح کا اعلان کر سکتے ہیں۔ تو وہ فتح کہاں ہے؟ سرمایہ کاروں کے لیے ’ٹاکو‘ ایک پختہ یقین بن چکا ہے، جو ایک ایسے رہنما کے مشاہداتی رویے سے اخذ کیا گیا ہے جس کی صرف ایک ہی حد ہے، اور وہ ہے کیپٹل مارکیٹوں کا ردعمل۔ خاص طور پر ٹیرف اور گرین لینڈ پر حملے کے معاملے میں ہم نے سٹاک اور بانڈ مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر دولت کی تباہی کا سامنا کرنے پر انہیں آخری کنارے سے پیچھے ہٹتے دیکھا ہے، اور کبھی کبھار ایسا تب بھی ہوا جب اتحادیوں یا حریفوں، خاص طور پر چین نے اپنا تسلط قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ’ان ٹاکو وی ٹرسٹ‘ (In Taco we trust) کو جدید نصب العین بھی کہا جا سکتا ہے، اور وہ بھی اس حد تک کہ فیڈرل ریزرو کو اسے ڈالر کے نوٹ پر چھاپ دینا چاہیے۔ لیکن ایران کے معاملے میں تیزی سے ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ ایک جال میں پھنس چکے ہیں۔ وہ اندر تو آ گئے ہیں، لیکن باہر نہیں نکل سکتے۔ ہم نہیں جانتے کہ آیا اسرائیلیوں نے ٹرمپ کو بتایا تھا کہ وہ ایران کی قدرتی گیس کی بڑی تنصیب پر حملہ کرنے والے ہیں، ایک ایسا عمل جس نے ملحقہ قطری گیس فیلڈز، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیں، پر ایرانیوں کی جانب سے شدید جوابی کارروائی کو جنم دیا۔ ہم جو جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ ٹرمپ کو ردعمل ظاہر کرنا پڑا اور یہ اعلان کرنا پڑا کہ اب اسرائیل کی جانب سے ایسا کوئی آپریشن نہیں ہو گا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) لیکن کیا وہ واقعی انہیں روک سکتے ہیں؟ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے مفادات امریکہ کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہاں تک کہ ایک ’غضبناک‘ امریکہ کے لیے بھی دنیا کی قدرتی گیس اور تیل کی زیادہ تر سپلائی کی تباہی ایک بری چیز ہو گی۔ اسی طرح ایران میں ایرانیوں اور دیگر نسلی اقلیتوں کے درمیان خانہ جنگی بھی تباہ کن ہو گی۔ اور اس حوالے سے تہران کو غزہ کے انداز میں خاک میں ملا دینا بھی بھیانک ہو گا۔ اس معقول مفروضے پر کہ، صاف الفاظ میں کہا جائے تو، بن یامین نتن یاہو نے ٹرمپ کو دھوکہ دے کر اس جنگ میں دھکیلا ہے، کیا نتن یاہو اتنے ہنر مند ہوں گے کہ وہ امریکہ سے ایران پر اس وقت بھی بمباری کرواتے رہیں جب ایسا کرنا امریکہ اور خلیجی ریاستوں، یورپ اور مشرقی ایشیا کے مفادات میں نہ رہے؟ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے مستقبل اور درحقیقت عالمی معیشت کی خاطر ایران کی تیل کی صنعت کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیل کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے جب تک ایران اتنا ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور کمزور رہے کہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ کسی بھی اسرائیلی حکومت کے لیے یہ جنگ کا ایک کوتاہ اندیش اور ظالمانہ مقصد ہے، لیکن کم از کم اسے سمجھا جا سکتا ہے۔ امریکہ اور ہم سب کے لیے (یہاں پوتن کو نکالنا ضروری ہے)، یہ ایک مہنگی تباہی ہے، اور آسانی سے دنیا کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ حتمی تجزیے میں امریکہ اسرائیل پر اتنا دباؤ ڈالنے کے قابل ہو جائے گا کہ وہ اپنے حملے کو کم کر دے، جیسا کہ بالآخر غزہ کے معاملے میں ہوا تھا۔ لیکن ٹرمپ اب اس مضحکہ خیز پوزیشن میں ہیں کہ اس جنگ سے نکلنے کے لیے ان کا انحصار ایرانیوں پر بھی ہے۔ انہیں ضرورت ہے کہ ایرانی اسرائیل پر حملہ کرنا بند کر دیں (یہ فرض کرتے ہوئے کہ اسرائیلی جنگ بندی کر دیں)، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر میزائل داغنا بند کر دیں (جسے اب تک نشانہ نہ بننے والے آیت اللہ ایک قسم کے تخریبی انداز میں محظوظ ہوتے دکھائی دیتے ہیں)، اور سب سے بڑھ کر آبنائے ہرمز کو سمندری جہاز رانی کے لیے کھول دیں۔ ٹرمپ کو جلد ہی ان سے شائستگی کے ساتھ مغربی معیشتوں کی شہ رگ سے اپنا پاؤں ہٹانے کا کہنا پڑے گا اور اس کے بدلے میں وہ اپنی کچھ رعایتیں چاہیں گے۔ ان رعایتوں پر متفق ہونا ٹرمپ کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ آخر کار، انہیں ’لوزرز‘ (ہارنے والے) پسند نہیں ہیں، کیا ایسا ہی ہے نا؟ ہو سکتا ہے کہ بمباری اور اموات بالآخر اسلامی جمہوریہ کو امن کی اپیل کرنے یا تباہ ہونے پر مجبور کر دیں، لیکن اب تک یہ سب بے سود ثابت ہوا ہے۔ انہیں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں چاہیے، اور اگر ایران ایک ناکام ریاست بن جاتا ہے، تو یہ کسی کے لیے بھی ’فتح‘ کا تصور نہیں ہے (سوائے اسرائیل کے)۔ یہ اس قسم کا بھیانک جال ہے جس میں پھنسنے پر ٹرمپ اپنے ’احمق‘ پیشروؤں پر تنقید کیا کرتے تھے۔ ٹرمپ کی تجویز معاہدوں کے ذریعے نکلنے کی تھی، جو ان کے لیے اس وقت تک ٹھیک تھی جب تک کہ وہ بی بی نامی ایک ایسے شخص کے ساتھ نہیں پھنس گئے جو دشمن کی تباہی کے ذریعے امن کو ترجیح دیتا ہے۔ ٹرمپ، جن میں ایک قسم کی معصومانہ مکاری ہے، کو اتنا اچھا کاروباری، یا اس معاملے میں سیاست دان ہونا چاہیے کہ وہ جان سکیں کہ کب اپنا نقصان کم کرنا ہے۔ انہوں نے پرانے آیت اللہ کو ختم کر دیا ہے، زیادہ تر پرانی قیادت کا صفایا کر دیا ہے، ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے، جوہری وار ہیڈ پراجیکٹ کو نیست و نابود کر دیا ہے، حکومت کو کمزور کر دیا ہے، اور اب وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ایران کے ساتھ ڈیل کرنے اور وہاں سے فوراً پیچھے ہٹ جانے کا یہی وقت ہے۔ جنابِ صدر، وہ کام کریں جس میں آپ اتنے ماہر ہیں، ’ایک ایسی فتح کا اعلان کریں جیسی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی، اس کے قریب بھی نہیں۔‘ براہ کرم، امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی طرف لوٹ جائیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر امریکی حملہ اسرائیل صدر کی اتنی سوجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ وہ جان سکیں کہ کب نقصان سے بچنا ہے اور کب ہار ماننی ہے، انہیں چاہیے کہ جب تک موقع ہے وہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی طرف لوٹ جائیں۔ شان اوگریڈی ہفتہ, مارچ 21, 2026 - 08:30 Main image:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چھ مارچ، 2026 کو وائٹ ہاؤس میں ایک گول میز اجلاس کے دوران خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی دلدل نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ، مگر ضرورت پر کوئی کچھ نہیں کرتا: ٹرمپ ٹرمپ کی ایران جنگ ان کا کیریئر ختم کر سکتی ہے ٹرمپ ایران جنگ کو ویڈیو گیم کی طرح کھیل رہے ہیں SEO Title: ٹرمپ کے پاس جنگ سے نکلنے کا موقع ہے copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/voices/taco-trump-always-chickens-out-iran-war-b2941717.html show related homepage: Hide from Homepage