میاں بیوی کے مسائل کا نیا حل: ’فلم تھراپی‘

گذشتہ ہفتے آسکرز کے اعلان کے ساتھ ہم سب کے ذہنوں میں فلمیں ہیں تو اس سے بہتر وقت کیا ہو گا کہ ’کپلز تھراپی‘ کی ایک نئی قسم کو اپنایا جائے جو کہتی ہے کہ ایک ساتھ صحیح فلمیں دیکھنا آپ کو قریب لا سکتا ہے؟ میں صوفے پر بیٹھی اپنے ساتھی کے ساتھ فلم دیکھنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن پلے کا بٹن دبانے سے پہلے ہمیں ایک چیک ان کرنا ہو گا۔ لہٰذا ہم رکتے ہیں اور خود سے پوچھتے ہیں: آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ محفوظ محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ کے لیے اس وقت یہ فلم دیکھنا مناسب ہے؟ یہ ہمارے لیے معمول کا رویہ نہیں۔ عام طور پر فلم دیکھنے سے پہلے ہم صرف یہ سوالات پوچھتے ہیں کہ کیا الماری میں کوئی اچھے سنیکس موجود ہیں، لیکن یہ گھر پر ہفتے کی کوئی عام رات نہیں۔ یہ ہمارا فلم تھراپی کرنے کا پہلا موقع ہے۔ ’فلم تھراپی‘، ’سینیما تھراپی‘، جیسا کہ اسے جانا جاتا ہے، ایک نسبتاً نیا طریقۂ علاج ہے۔ اس میں ایک تھراپسٹ آپ کو ایسی فلم ’تجویز‘ کرتا ہے جو آپ کے موجودہ حالات سے متعلق ہو۔ پھر آپ اس فلم کو ذہن کو حاضر رکھ کر کے دیکھتے ہیں، یا تو اکیلے یا ساتھی  کے ساتھ اگر آپ کپلز فلم تھراپی کر رہے ہیں۔ فلم دیکھنے کے بعد آپ ان جذبات پر توجہ دیتے ہیں جو اس نے آپ کے لیے پیدا کیے تاکہ یا تو اپنے تھراپسٹ سے ان پر بات کر سکیں یا اپنے ساتھی کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ یونیورسٹی آف لنکن میں فلم تھراپسٹ اور لیکچرر جینی ہیملٹن، فلم تھراپی کو ’اپنے جذبات کو سمجھنے، ان پر عمل درآمد کرنے اور ان سے نمٹنے کا ایک نرم طریقہ‘ قرار دیتی ہیں اور نشاندہی کرتی ہیں کہ اس کا آغاز آرٹ تھراپی کی ایک طویل روایت سے ہوا جو ارسطو تک جاتی ہے، جس کا ماننا تھا کہ یونانی المیے دیکھنے سے ناظرین کو جذباتی تطہیر یا ’کیتھارسس‘ سے گزرنے کا موقع ملتا ہے جس سے ان کی فلاح و بہبود میں مدد ملتی ہے۔ ہیملٹن وضاحت کرتی ہیں کہ ’فلم تھراپی آپ کو مسائل کے بارے میں مختلف انداز میں سوچنے کے قابل بناتی ہے اور کرداروں کو ان کے اپنے سفر پر جاتے دیکھ کر شاید کسی مسئلے یا تشویش کے گرد اپنے لیے کہانی کو تبدیل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ’اپنے بارے میں براہ راست بات کرنے کی بجائے، آپ اسے کسی کردار سے جوڑ سکتے ہیں۔ فلمیں تعلقات میں رہنے والے لوگوں کے لیے خاص طور پر بات چیت کا ایک مفید ذریعہ ہو سکتی ہیں۔‘ یونیورسٹی آف روچسٹر کی ایک اہم تحقیق نے جوڑوں کے لیے فلم تھراپی کا جائزہ لیا اور پایا کہ جن لوگوں نے سٹیل میگنولیاز اور لو سٹوری جیسی فلموں میں اٹھائے گئے مسائل کو دیکھا اور ان پر بات کی، ان میں طلاق یا علیحدگی کا امکان ان جوڑوں کی نسبت کم تھا جنہوں نے ایسا نہیں کیا۔ شاید یہی وہ حل ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔ میرا ساتھی اور میں اپنے پہلی بار ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور حیرت کی بات نہیں کہ اس سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ہم جتنا ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں، اتنا ہی ایک دوسرے کو پریشان کن بھی کر رہے ہیں: وہ میری ہر چیز کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت سے نالاں ہے، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اسے اکیلے وقت گزارنے کی کتنی ضرورت ہے اور جب ہمیں غیر متوقع طور پر ڈسٹرب کیا جاتا ہے تو ہم دونوں چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی تباہی نہیں لیکن یہ ہم دونوں کے لیے فلم تھراپی آزمانے کی خواہش کرنے کے لیے کافی ہے۔ ’سٹیل میگنولیا‘ وہ فلم ہے جسے کپل تھیراپی کے لیے تجویز کیا جاتا ہے (ٹرائی سٹار پکچرز) لہٰذا میں ہیملٹن کے ساتھ صورت حال پر بات کرنے کے لیے ایک سیشن بک کرتی ہوں۔ یہ میرا تھراپی کا پہلا تجربہ نہیں، اس لیے میں جلدی سے اسے اپنے اور اپنے ساتھی  کے بے چینی اور گریز والے رویے کا خلاصہ دیتی ہوں (جب وہ دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے، میں گھبرا جاتی ہوں) اور ہماری موجودہ ایک ساتھ رہنے کی جدوجہد کے بارے میں بتاتی ہوں۔ وہ ہمدردی سے سنتی ہے، ایسے سوالات پوچھتی ہے جن سے یہ بالکل ایک عام تھراپی سیشن جیسا محسوس ہوتا ہے، یہاں تک کہ ہم فلموں کے بارے میں بات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ مجھ سے ان فلموں کے بارے میں پوچھتی ہے جو میرا ساتھی اور میں ایک ساتھ دیکھنا پسند کرتے ہیں اور پھر چند ایسی فلمیں تجویز کرتی ہے جو ہم دیکھ سکتے ہیں اور جو اس بے چینی اور گریز والے رویے پر بات کرتی ہیں، جن میں کامیڈی فلم ’کپلز ریٹریٹ‘ سے لے کر کلٹ کلاسک ’بی فور سن سیٹ‘ اور میرل سٹریپ کی فلم ’ہوپ سپرنگز‘ شامل ہیں۔ میں اپنے ساتھی سے اس پر بات کرنے کے لیے چلی جاتی ہوں۔ ہم دونوں بغیر کسی تنازعے کے مؤخر الذکر پر متفق ہو جاتے ہیں، حالانکہ کچھ جوڑوں کے لیے فلم کا انتخاب کرنا پہلی رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ ہم نے ’ہوپ سپرنگز‘ پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی اور ہمیں ایک جوڑے (سٹریپ اور ٹومی لی جونز) کو سٹیو کیرل کے ساتھ بطور میرج کونسلر ایک ہفتے کی سخت کپلز تھراپی کے لیے جاتے دیکھنے کا خیال پسند آیا۔ ہیملٹن ہمیں فلم دیکھنے کے طریقہ کار پر رہنمائی دیتی ہے ذہن حاضر رکھیں اور یہ نوٹس کرنے کی کوشش کریں کہ ہم کس چیز سے شناخت کرتے ہیں، بعد میں اس پر بات کرنے کے لیے جگہ بنائیں، اور شروع کرنے سے پہلے ہی اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم پرسکون اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ فلم سے پہلے کا چیک ان مجھے غیر ضروری محسوس ہوتا ہے، ایک فلم دیکھنے کے لیے آپ کو کتنا پرسکون ہونے کی ضرورت ہے؟ لیکن درحقیقت، جب میرا ساتھی  اور میں پہلی بار اس ہفتے کی رات کو فلم دیکھنے بیٹھتے ہیں، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اچھا محسوس نہیں کر رہا۔ میں پی ایم ایس کی وجہ سے تھکی ہوئی ہوں، وہ زکام کی وجہ سے چڑچڑا ہے۔ لہذا ہماری حیرت کی بات ہے، ہم اگلی رات کے لیے فلم کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ فائدہ مند ثابت ہوا۔ اس بار، ہمارے چیک ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہم خوش، پرسکون اور ’پلے‘ کا بٹن دبانے کے لیے تیار محسوس کر رہے ہیں۔ یہ جلد ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ فلم میں جوڑا ہم سے بہت مختلف ہے: ان کی شادی کو دہائیاں گزر چکی ہیں، ان کے بالغ بچے ہیں، وہ الگ کمروں میں سوتے ہیں اور شاذ و نادر ہی بات کرتے ہیں، چھونے کی تو بات ہی چھوڑیں۔ شکر ہے میرا ساتھی اور میں ان سے کہیں زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن جب ہم کپلز تھراپی کے ذریعے کرداروں کا سفر دیکھتے ہیں تو ہم فوراً اس میں مگن ہو جاتے ہیں۔ ہم دونوں فلم کے دوران روتے ہیں، اگرچہ بالکل مختلف لمحات میں، اور جب کیرل ان سے ان کی جنسی فنتاسیوں کے بارے میں انتہائی قریبی سوالات پوچھتا ہے تو ہم شرما جاتے ہیں۔ ٹامی لی جونز اور سٹیو کیرل فلم ’ہوپ سپرنگز‘ میں (کولمبیا پکچرز) یہ تجربہ فلم کے ساتھ گھر پر کسی بھی دوسری رات سے بہت مختلف نہیں، لیکن ہم دونوں فلم میں بہت زیادہ مشغول ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی پورے 100 منٹ تک اپنا فون نہیں اٹھاتا اور ہم مزید سنیکس لینے کے لیے فلم کو روکتے بھی نہیں ہیں۔ ہم اسے، جیسا کہ ہیملٹن نے مشورہ دیا تھا، ’ذہن حاضر‘ رکھ کر دیکھ رہے ہیں۔ جب فلم ختم ہوتی ہے تو ہمارے پاس بات کرنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے ہیملٹن نے ہمیں اس کے لیے ایک اور ہدایت نامہ دیا تھا، لہذا ہم اس کے سوالات کی فہرست نکالتے ہیں جس میں ہم سے ان لمحات پر غور کرنے کو کہا گیا ہے جن سے ہم نے شناخت کی، وہ جذبات جو ہمارے ساتھ رہے، کوئی بھی چیز جو ہم کہانی کے بارے میں بدلنا چاہیں گے اور اگر فلم میں کوئی ایسے پیغامات ہیں جو ہم اپنے تعلق کے دوران کام میں لا سکتے ہیں۔ پتہ چلتا ہے کہ ہم دونوں نے اس پیغام کی تعریف کی کہ رکاوٹیں جوڑے کی خوشی کے سفر کا ایک لازمی حصہ ہیں اور یہ کہ محبت کے لیے کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اس بات پر بھی شکر گزار تھے کہ ہمارے حالات جونز اور سٹریپ جتنے برے نہیں تھے اور ہم نے سیکھا کہ درحقیقت ہم ایسے لوگوں کو دیکھ کر کافی لطف اندوز ہوتے ہیں جو ہم سے کہیں زیادہ برے حالات کا شکار ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ہم نے جونز اور سٹریپ کے اپنے تعلقات سے مختلف توقعات رکھنے کو بھی اپنے آپ سے جوڑا، ایک ایسی چیز جو ایک ساتھ رہنے کی نئی تبدیلی کے ساتھ ہمارے ساتھ ہو رہی ہے۔ فلم نے ہمیں ان اختلافات کے بارے میں مزید تفصیل سے بات کرنے پر آمادہ کیا جبکہ ایک ساتھ مستقبل کے ہمارے مشترکہ وژن کی طرف بھی دیکھا۔ یہ ایک مفید بحث تھی اور اس نے فلم کی رات کو معمول سے کہیں زیادہ جوڑنے والا تجربہ بنا دیا لیکن یہ بالکل زندگی بدلنے والا نہیں تھا۔ تاہم جو چیز غیر متوقع تھی وہ یہ تھی کہ جب ہم نے اگلے دن بھی خود کو فلم پر بات کرتے ہوئے پایا۔ یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے سے وہ قریبی سوالات پوچھنے کا فیصلہ کیا جو کیرل نے فلم میں جوڑے سے پوچھے تھے۔ اس کے نتیجے میں ہم نے وہ چیزیں شیئر کیں جو ہم نے پہلے کبھی ایک دوسرے کو نہیں بتائی تھیں، جس سے ہم پہلے سے کہیں زیادہ قریب محسوس کرنے لگے۔ ہیملٹن کہتی ہیں ’ایسا لگتا ہے کہ اس نے واقعی آپ دونوں کے لیے ایسی گفتگو چھیڑ دی جس کی آپ کو توقع نہیں تھی۔ ’فلم دیکھنے کا مشترکہ تجربہ بات چیت کی بنیاد رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، اور یہ کھل کر بات کرنے کا ایک طریقہ بن جاتا ہے۔‘ وہ ٹھیک کہتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ فلم تھیراپی کے ایک سیشن نے ہمیں فوری طور پر ہمارے مسائل سے نجات دلا دی لیکن اس نے ہمیں حقیقی تعلق کی ایک شام ضرور دی، جو نیٹ فلکس کا کوئی نیا ڈرامہ لگاتار دیکھنے سے کہیں زیادہ تھی۔ جان بوجھ کر ایک ساتھ فلم دیکھنے سے ہمیں اپنے تعلقات پر غور کرنے اور ’بھاری‘ موضوعات کو بہت ہلکے انداز میں سامنے لانے کا موقع ملا۔ یہ دیکھنا آسان ہے کہ کس طرح بار بار فلم تھیراپی لوگوں کی مدد کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ کسی مدد کے بغیر جذباتی موضوعات پر بات کرنے کا امکان نہیں رکھتے۔ ایسا کرنے کا سب سے معاون طریقہ ہیملٹن جیسے تربیت یافتہ تھراپسٹ کے ساتھ کام کرنا ہے، لیکن سینیما تھراپی کے لیے مختص متعدد ویب سائٹس بھی موجود ہیں، جو مختلف مسائل کے لیے فلموں کی تجاویز پیش کرتی ہیں۔ میرا ساتھی اور میں پہلے ہی ہیملٹن کی تجاویز پر کام کرتے ہوئے فلم تھراپی کو اپنی زندگی کا باقاعدہ حصہ بنانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ یقینی طور پر سب سے مزیدار تھراپی ہے جو ہم میں سے کسی نے بھی کبھی کی ہے اور ہم یا تو اپنے تمام مسائل کو حل کرنے کا انتظام کر لیں گے، یا ہم محض فلم کے ساتھ چند آرام دہ راتیں گزاریں گے۔ یہ ہر لحاظ سے ایک فائدے کا سودا لگتا ہے۔ ویک اینڈ پر صرف فلم نہ دیکھیں بلکہ نیا طریقۂ علاج ’فلم تھراپی‘ آزمائیں۔ رادھیکا سنگھانی اتوار, مارچ 22, 2026 - 08:15 Main image:

آسکرز میں بہترین فلم کے زمرے میں نامزد فلمیں، ون بیٹل آفر این ادر اور ہیمنٹ (Warner Bros/Universal)

صحت type: news related nodes: کیموتھراپی کے دوران بال گرنے سے بچانے والا ہیلمٹ کیموتھیراپی سے کترانا، حسن ماند پڑنے کا خوف: شوبز خواتین اور کینسر انقلابی جین تھراپی سے چند ہفتوں میں سماعت واپس آ گئی: سائنس دان SEO Title: میاں بیوی کے مسائل کا نیا حل: ’فلم تھراپی‘ copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/life-style/film-therapy-cinematherapy-couples-relationship-b2931961.html show related homepage: Hide from Homepage