Independent Urdu
جنگیں جہاں سماج کو اموات اور معذوری کا تحفہ دیتی ہیں، وہیں وہ ماحولیات کے لیے اتنے خطرناک اثرات چھوڑ جاتی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی تباہ کن اور مضر ثابت ہوتی ہیں۔ حالیہ عشروں میں لڑی جانے والی جنگوں نے جہاں بڑے پیمانے پر لوگوں کو دربدر کیا ہے، شہروں اور بستیوں کو ویران کیا، ہسپتالوں کو زخمیوں اور قبرستانوں کو مُردوں سے بھرا ہے، وہیں ان جنگوں نے ماحولیات کا بھی جنازہ نکالا ہے، جس کا خمیازہ ہماری نسلیں بھگتیں گی۔ جنگیں کسی بھی ملک کے بنیادی انسانی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کرتی ہیں، جس کے ماحول پر دوررس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ یوکرین کی جنگ میں اب تک دو لاکھ 36 ہزار سے زیادہ رہائشی عمارتیں یا تو نقصان کا شکار ہوئی ہیں یا پھر تباہ ہو چکی ہیں۔ کیو سکول آف اکنامکس کے مطابق 26 ہزار کلومیٹر کی سڑکیں بھی تباہی یا نقصان سے دوچار ہوئی ہیں جبکہ ملک کو مجموعی طور پر 170 ارب ڈالرز سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ یوکرین کے جنگلات کا 17 لاکھ ہیکٹر رقبہ جنگ کی وجہ سے متاثر ہوا ہے، جو ملک کے پورے جنگلات کا تقریباً 15 فیصد حصہ بنتا ہے۔ بین الاقوامی ادارے اس حوالے سے اور بھی زیادہ تشویش ناک منظر بیان کرتے ہیں۔ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق یوکرین کے جنگلات میں سے 30 لاکھ ہیکٹرز کا حصہ متاثر ہوا ہے، جس میں 10 لاکھ ہیکٹرز ایسا ہے جس کو بین الاقوامی طور پر تحفظ دیا گیا تھا۔ یوکرین کا شمار یورپ کے زرخیز علاقوں میں ہوتا ہے۔ زراعت یوکرین کی جی ڈی پی کا 11 فیصد ہے، لیکن جنگ کی وجہ سے یہ زرخیز زمین سیسے، پارے اور گندھک سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کچھ یوکرینی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جنگ کی وجہ سے جو تباہی ہوئی ہے اس کے نتیجے میں ملک سے فطری حسن سے مالامال کچھ حصے ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہو چکے ہیں اور جنہیں اب بحال کرنا کسی صورت ممکن نہیں۔ واضح رہے یہ ساری تباہی 46 ہزار سے زیادہ اموات کے علاوہ ہے۔ اس کے علاوہ یوکرین میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے۔ جنگ نے تقریباً 37 لاکھ لوگوں کو اندرونی طور پر دربدر کیا اور 59 لاکھ لوگوں کو اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) غزہ میں اسرائیلی جارحیت جہاں 70 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بنی، وہیں اس نے ماحول کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ اسرائیل کے بےرحم حملوں نے وہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کی وجہ سے 39 ملین ٹن سے بھی زیادہ کا ملبہ غزہ کے طول و عرض پر آج بھی بکھرا پڑا ہے۔ ماہرین کے خیال میں صرف اس ملبے کو ہٹانے کے لیے ہی برسوں درکار ہوں گے۔ عمارتیں دوبارہ ویسی ہی تعمیر کرنے کی تو فی الحال بات ہی نہیں ہو رہی۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق 2023 سے لے کر اب تک غزہ میں 97 فیصد درختوں کی فصل، 95 فیصد جڑی بوٹیوں کا علاقہ اور 82 فیصد سالانہ فصل تباہ ہوئی ہے۔ جارحیت کے شکار اس علاقے میں دو لاکھ سے زائد عمارتوں نے تباہی کا منظر دیکھا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق غزہ کی کل عمارات کا 78 فیصد حصہ تباہی سے دوچار ہوا ہے۔ اس کا ملبہ صنعتی فضلے اور بھاری دھاتوں سے آلودہ ہے جو انسانی صحت کے لیے بہت سارے مسائل پیدا کرے گا۔ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں نے بھی بڑے پیمانے پر ماحولیات کو متاثر کیا ہے، گو کہ اس کا صحیح اندازہ جنگ کی گرد چھٹنے کے بعد ہی ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے جو قطر کی گیس فیلڈ پر حملہ کیا، اس سے نکلنے والے دھوئیں کے دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔ اس جنگ میں بھی امریکہ اور اسرائیل نے تمام ماحولیاتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایران پر اندھا دھند بمباری کی، جس میں 10 ہزار سے زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے ایران کی کچھ تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور گیس کے ذخائر کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ایک امریکی تھنک ٹینک کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملے کے صرف پہلے 14 دنوں میں جو گرین ہاؤس گیس کا اخراج ہوا وہ پانچ ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سے زیادہ ہے۔ یہ شرح آئس لینڈ کی 2024 کی مجموعی آلودگی سے بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اخراج گیس سے چلنے والی 11 لاکھ کاروں کے سالانہ اخراج سے بھی زیادہ ہے۔ جنگ کی وجہ سے گیس اور تیل کی فراہمی میں جو دشواریاں پیش آ رہی ہیں، اس وجہ سے کئی ممالک کوئلے کی طرف دوبارہ جانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ مثال کے طور پر جاپان کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر وقتی طور پر پابندی اٹھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یورپ میں بھی کچھ رہنما کوئلے سے دوبارہ بجلی بنانے کی باتیں کر رہے ہیں، جو ماحولیات کے لیے انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اس بحث کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے جنگ سے صرف وہ خطہ ہی متاثر نہیں ہوتا جس پر بمباری کی جا رہی ہو، بلکہ چونکہ سیارے بھر کا ماحولیاتی نظام آپس میں جڑا ہوا ہے، اس لیے دنیا کے کسی دورافتادہ کونے میں موجود کوئی ملک یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں دنیا کے دوسرے سرے پر ہونے والی جنگ سے کیا لینا دینا۔ ماحولیاتی تبدیلی کی تپش انہیں بھی محسوس ہو گی۔ بقول احمد فراز، چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔ 14 اگست، 2024 کو شمالی غزہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے جبالیہ کیمپ کی ایک گلی میں ایک بچہ کچرے اور ملبے کے ڈھیر سے گزر رہا ہے (اے ایف پی) اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جنگی قوانین میں شہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے واضح احکامات ہیں لیکن ایسی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان بھی پہنچایا جاتا ہے اور نقصان کے ذمہ داروں کا کوئی احتساب بھی نہیں ہوتا۔ کیا اس نقصان کے ذمہ دار صرف سیاسی رہنما ہی ہیں یا عوام پر بھی الزام عائد ہوتا ہے؟ مغربی جمہوریتوں میں تعلیم کی شرح ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ وہاں ماحولیات کے حوالے سے عوامی شعور بھی بہت پختہ ہے۔ اس کے باوجود عوام ایسے رہنماؤں کو ووٹ کیوں دیتے ہیں، جو دنیا بھر میں جنگیں مسلط کرتے ہیں اور خطوں کو تباہی و بربادی سے دوچار کرتے ہیں؟ کیوں عوام تیل، ہتھیار اور دوسری طرح کی کمپنیوں کی طرف سے سیاسی جماعتوں کو دی جانے والی فنڈنگ کی مخالفت نہیں کرتے؟ کیوں وہ لابی سسٹم کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کرتے؟ کیوں وہ ایسے رہنماؤں کا بائیکاٹ نہیں کرتے جو جنگوں میں سکولوں، ہسپتالوں، کھیتوں، دریاؤں، پانی کے ذخیروں اور سیوریج کے سسٹم کو ٹارگٹ کرتے ہیں؟ جو ماحولیات کا جنازہ نکالتے ہیں؟ مغربی عوام کا ماحولیات کے حوالے سے شعور بیدار ہے لیکن ماحولیات کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی جنگیں ابھی عوامی سطح پر مزاحمت کے نشانے پر نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام بالعموم اور مغربی عوام بالخصوص ساری سیاسی جماعتوں کے منشور میں یہ شقیں شامل کرائیں کہ وہ جنگیں نہیں چھیڑیں گے، تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کریں گے اور طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے ہر صورت میں گریز کریں گے۔ اگر سیاسی رہنما وعدے کے باوجود اقتدار میں آ کر جنگیں مسلط کرتے ہیں تو ایسے رہنماؤں کے خلاف قانون سازی کی جائے اور ان کو وعدہ شکنی پر سزا دی جائے۔ اس کے علاوہ انہیں دوبارہ منتخب نہ کر کے بھی سزا دی جا سکتی ہے۔ عموماً حکومتیں یہ منطق دیتی ہیں کہ عوام نے منتخب نمائندوں اور پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جنگوں کا اعلان کریں۔ ایسے قوانین میں ترمیم کی جانی چاہیے اور جنگوں کے اعلان سے پہلے ہر ملک میں عوامی ریفرنڈم کو ضروری قرار دیا جانا چاہیے۔ اگر امریکہ میں ایران پر حملے سے پہلے ریفرنڈم ہوتا تو ٹرمپ کو یہ جنگ چھیڑنے کی جرات نہ ہوتی۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر عوام کو ٹونی بلیئر، جارج بش، ڈونلڈ ٹرمپ، نتن یاہو اور اسی طرح کے دوسرے رہنماؤں کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانا چاہیے، جس کے قوانین یہ کہتے ہیں کہ اگر ماحولیاتی تباہی کے کچھ پہلو جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں، تو ایسے رہنماؤں پر مقدمات چلائے جانے چاہییں جو اس کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بسم اللہ ٹرمپ اور نتن یاہو سے بھی ہو سکتی ہے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایران پر امریکی حملہ ماحولیاتی آلودگی غزہ پر اسرائیلی حملہ روس یوکرین جنگ اگر ماحولیاتی تباہی کے کچھ پہلو جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں، تو ایسے رہنماؤں پر مقدمات چلائے جانے چاہییں جو اس کے مرتکب ہوئے ہیں۔ آغا عبدالستار جمعہ, مارچ 27, 2026 - 22:30 Main image:
11 مارچ 2026 کو لی گئی اور رائل تھائی نیوی کی جانب سے جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں آبنائے ہرمز کے قریب تھائی بلک کیرئیر 'میوری ناری' سے ایک حملے کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے (اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: ایران - اسرائیل جنگ اور ماحول کی تباہی ایران جنگ: پاکستان کے فضائی شعبے کو 7 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان امریکی جنگی مشین ٹرمپ کے کنٹرول میں یا نتن یاہو کے؟ SEO Title: جنگی تباہی کے ذمہ داروں کے خلاف آواز کون اٹھائے گا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage Go to News Site