Collector
Giriş Yap
بچپن کی تلخیاں عمر بھر کا بوجھ کیسے بن جاتی ہیں؟ | Collector
بچپن کی تلخیاں عمر بھر کا بوجھ کیسے بن جاتی ہیں؟

بچپن کی تلخیاں عمر بھر کا بوجھ کیسے بن جاتی ہیں؟

’میرے بچپن میں ’ٹرمینیٹر‘ مووی شاید نہیں آئی تھی لیکن مجھے اس وقت اپنا آپ ٹرمینیٹر سا لگتا، جب امی کے اَن گنت گھونسوں کے بعد میں دوبارہ اٹھتی، خود کو جوڑتی، آنسو پونچھتی اور کسی نئے کام میں خود کو مصروف کر لیتی۔ ’مجھے روز مار پڑتی تھی۔ میں بہن بھائیوں سے جھگڑ پڑتی، شور غل ہوتا اور پھر والدہ کے طمانچے، طعنے اور پٹائی۔‘ یہ الفاظ راولپنڈی کی رہائشی اور تین بچوں کی والدہ ثروت بی بی کے ہیں۔ ثروت بی بی ادھیڑ عمر کی ہو چکی ہیں لیکن مجھ سے اپنا بچپن بانٹتے وقت ان کی آنکھیں نم تھیں۔ میں نے اپنے بلاگ کے لیے جب لوگوں سے بچپن کی تلخیوں پر بات کرنا چاہی تو کچھ ہنس کر ٹال گئے اور کچھ کی جامع آرا سے یہ بلاگ ممکن ہو سکا۔ بچپن کی تلخیاں یا زیادتیاں ہوتی کیا ہیں، اسلام آباد میں تھراپی ایکسپرٹ محترمہ ایمان نیازی نے اس پر یوں روشنی ڈالی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’زیادتی یا ظلم ذہنی، جسمانی اور جذباتی ہر تین طرح کا ہو سکتا ہے۔ والدین، استاد اور دیگر افراد جن سے یہ سرزد ہو وہ اسے گہرائی سے کم ہی دیکھ پاتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ اصلاح یا کسی کو اذیت دینے کا واحد مضبوط راستہ ہوتا ہے۔ یہ مار کی شکل میں ہو، جسمانی، جنسی زیادتی ہو یا گالی اور طعنہ بازی، ہر شکل میں بچے کی شخصیت کو توڑ مروڑ کر اس کے اپنے لیے غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔‘ بچوں کی تربیت کے حوالے سے جب میں نے مختلف جنریشنز کے والدین سے ان کی رائے جاننا چاہی تو بیشتر والدین نے ’پٹائی یا ڈانٹ‘ کو اپنائے جانے کا ذکر کیا، لیکن جین زی کے والدین نے ’ہلکی پھلکی سزاؤں اور ری انفورسمنٹ‘ کو ترجیح دی۔ مسز اسد جو ایک آنٹرپرینور اور ٹین ایج بیٹے کی والدہ ہیں، سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے رابطہ کیا اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے ان کی رائے پوچھی تو ان کا ماننا تھا کہ ’والدین کے طرز عمل سے بچہ سیکھ رہا ہوتا ہے۔ اگر بچہ غلطی یا لا پروائی سے کام لے رہا ہو تو اسے اس کی پسندیدہ چیزوں سے کچھ عرصے کے لیے روک دینا چاہیے۔ مار کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے بچے کی عزت نفس کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ والدین پر سے اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔‘ ماہرین کہتے ہیں کہ زیادتی کسی بھی نوعیت کی ہو، ایک بچے کے معصوم ذہن میں احساس شرمندگی کو جنم دیتی ہے اور وہ اپنی ہی قدر کھو بیٹھتا ہے۔ بچے کی طرزِ فکر ماں باپ، بھائی بہن کی نسبت سے سب سے پہلے بنتی ہے۔ بچہ بغیر کسی تختی کتاب کے ماں سے اپنی زبان بولنا سیکھ لیتا ہے، اس لیے گھر کے ماحول کو ایک بچے کی ذہنی نشو نما میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ روحانی اور طبی امور کے ماہر حکیم ذاکر کا ماننا ہے کہ ’بچے والدین کی نقل کرتے ہیں، والدین میں غم و غصہ اور حسد پایا جائے تو وہ ان کے رویوں سے عیاں ہوتا ہے۔ بچہ ان رویوں سے گھبراتے ہوئے بھی لاشعوری طور پر انہیں اپنا رہا ہوتا ہے۔‘ بچہ ایک سفنج کی مانند سب کچھ جذب کر رہا ہوتا ہے۔ اساتذہ اور شاگرد اپنے اپنے گھروں سے اپنا بوجھ اٹھائے درس گاہوں میں پڑھنے اور پڑھانے آتے ہیں۔ اکثر استاد رعب اور سختی کو ہی کارآمد فارمولا جانتے ہیں۔ یک نجی سکول میں پڑھانے والی شازیہ کہتی ہیں: ’بیشک بچے اور استاد کا رشتہ بہت قریبی نازک اور پر اثر ہوتا ہے۔ ایک استاد زندگی کے جن مرحلوں سے گزر کر تدریس کا رول نبھا رہا ہوتا ہے، اس کو چاہیے کہ سب فکریں ایک طرف کر کے بچے کی ذہنی، سماجی اور علمی نشوونما کی بھرپور آبیاری کر سکے۔ ’اب وہ دور نہیں کہ استاد نے ڈنڈا اٹھایا اور شاگرد نے ہتھیلی پیش کر دی۔ اب بھی اور کل بھی ایک استاد شاگرد کا رشتہ دوستانہ ہونا چاہیے تاکہ بچہ خود کو درسگاہ میں ذہنی، جذباتی اور سماجی طور پر بھی محفوظ سمجھے۔‘ بچے ہماری توجہ اور حوصلہ افزائی کے متلاشی ہوتے ہیں۔ والدین کا کردار والدین ہی کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 27 مئی، 2025 کی اس تصویر میں لاہور کے ایک سکول میں طلبہ چھٹی کے بعد گھروں کے لیے روانہ ہوتے ہوئے (اے ایف پی) بچے کچی مٹی کی مانند ہیں، جس شکل میں ڈھالیں گے وہ ڈھل جائیں گے۔ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم اکثر لوگوں کو ’سائیکو‘ یا ’کھسکا ہوا‘ کہہ بیٹھتے ہیں، لیکن وہ سائیکو اور کھسکا ہوا ماں کے شکم سے تو نہیں آیا تھا، یہ تو وہ مٹی تھی جو حالات کے مطابق ان کیفیتوں میں ڈھل گئی۔ تھراپسٹ ایمان نیازی مانتی ہیں کہ ’جو بچے سکول یا گھر میں کسی بھی قسم کی زیادتی کو برداشت کرتے ہیں، ان کے اندر ایک اضطراب جاری رہتا ہے، جو انہیں سکون نہیں لینے دیتا۔ ایسے بچوں میں ’لڑائی اور فرار‘ کی کیفیت ہر وقت جاگی رہتی ہے۔ یہ بچے جہاں ممکن ہو اپنا دفاع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، چاہے لڑ کر ہو یا فرار سے۔‘ ایسی صورت حال میں بچے چونکہ اپنے قدم اکھڑے ہوئے محسوس کرتے ہیں، اسی لیے وہ اپنی مکمل ذہانت کو بھی مثبت انداز میں استعمال نہیں کر پاتے اور ہم ہر معاشرے میں ’کھسکے ہوئے، ضدی، لڑاکا اور پست حوصلوں والے‘ نوجوان دیکھ سکتے ہیں۔ حماد خان نے 11 سال بعد سکول تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور بقول ان کے یہ فیصلہ ’رلا دینے والا‘ تھا۔ انہوں نے بتایا: ’میرے سب دوست تھے، پری سکول سے جن کے ساتھ پڑھتا رہا تھا، لیکن جب سے میری دوائیں شروع ہوئیں اور مزاج کے اتار چڑھاؤ سے گزرنے لگا تو پڑھائی بھی متاثر ہوئی اور رویہ بھی۔ ’ٹیچرز میں زیادہ تر یہ سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ میں خود مشکل دور سے گزر رہا ہوں ، مجھ پ گھر کے شور کا بھی اثر تھا اور سکول کا بوجھ بھی۔ میں نے کچھ سال بہت مشکل گزارے۔ اب میرا سکول بدل گیا ہے، استاد میرے ساتھ تعاون کرتے ہیں لیکن دوست دوبارہ شاید نہ بن پائیں۔‘ حماد خان جیسے کتنے کیسز ہمارے ارد گرد موجود ہوں گے لیکن ہم دیکھ نہیں پاتے۔ یاد رہے، رویے بھی اپنا سفر طے کرتے ہیں لیکن کیا ہم ذہنی، سماجی اور جذباتی دباؤ کی سیڑھیاں یونہی چڑھتے رہیں گے؟ ایمان نیازی کے مطابق: ’تھراپی ایک ایسا دروازہ ہے جو جکڑے ہوئے ذہنوں کی گرہیں کھولنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔‘ نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ بچپن تھراپی سکول والدین تربیت تھراپسٹ ایمان نیازی مانتی ہیں کہ ’جو بچے سکول یا گھر میں کسی بھی قسم کی زیادتی کو برداشت کرتے ہیں، ان کے اندر ایک اضطراب جاری رہتا ہے، جو انہیں سکون نہیں لینے دیتا۔ ایسے بچوں میں ’لڑائی اور فرار‘ کی کیفیت ہر وقت جاگی رہتی ہے۔‘ عروج رضا صیامی منگل, جون 9, 2026 - 07:30 Main image: بچے ہماری توجہ اور حوصلہ افزائی کے متلاشی ہوتے ہیں (اینواتو) نئی نسل type: news related nodes: سکول کا دباؤ بعد کی زندگی میں ڈپریشن کا سبب کیوں بن سکتا ہے؟ ذہنی دباؤ کا محض ایک ہی واقعہ بال گرنے کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق پاکستان میں 59 فیصد طلبہ کم از کم ایک بار بلیئنگ کا شکار بچے آن لائن عمر کی حد سے بچنے کے لیے مصنوعی مونچھیں لگا رہے ہیں: رپورٹ SEO Title: بچپن کی تلخیاں عمر بھر کا بوجھ کیسے بن جاتی ہیں؟ copyright: show related homepage: Show on Homepage

Go to News Site