Independent Urdu
پاکستان نے پیر کو ایک بار پھر افغانستان میں حکمران طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھائیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پیر کو افغانستان کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری توقع تھی کہ طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان، ای ٹی آئی ایم اور ان سے وابستہ گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات اٹھائیں گے، جو افغان سرزمین پر بلا روک ٹوک سرگرم ہیں۔ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے جائز سکیورٹی خدشات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے۔‘ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے درمیان روابط موجود ہیں اور ٹی ٹی پی کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات بھی تسلیم شدہ ہیں، جنہیں افغانستان میں طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔ پاکستانی سفیر کے مطابق: ’افغانستان میں ان دہشت گرد گروہوں کو حاصل آزادی کے نتیجے میں پاکستان ان کے حملوں اور طالبان کے ان گروہوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کا سب سے زیادہ شکار ہوا ہے اور ایک بار پھر، پاکستان کے اندر دہشت گردی میں افغان شہریوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد ملوث پائی گئی ہے۔‘ #PakistanAtUNSC We expected the Taliban to take concrete, verifiable action against terrorist groups operating from Afghan soil, including TTP, BLA and its Majeed Brigade, ISIL-K, and ETIM, but their continued inaction reflects disregard for the legitimate security concerns of… pic.twitter.com/T3LOkq0gSu — Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) June 9, 2026 پڑوسی ملک میں دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ ’افغانستان کی تاریخ دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ رہی ہے، جن میں وہ گروہ بھی شامل ہیں جنہیں ہمارے مخالفین پاکستان اور دیگر ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔‘ بقول پاکستانی سفیر: ’ان دہشت گرد گروہوں کو جدید ہتھیاروں اور جدید آلات بشمول ڈرونز تک رسائی حاصل ہے۔ حال ہی میں ان میں سے زیادہ تر کا سراغ ان اربوں ڈالر مالیت کے اسلحے اور گولہ بارود تک جاتا ہے، جو غیر ملکی افواج افغانستان میں چھوڑ گئی تھیں اور جو سابق افغان قومی حکومت کے استعمال کے لیے تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’صرف 2025 میں پاکستان کو افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے 5,300 سے زائد واقعات کا سامنا کرنا پڑا اور 1,200 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔‘ پاکستان کی مذاکرات کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے طالبان کو قائل کرنے کے لیے دوست ممالک خصوصاً قطر، ترکی، سعودی عرب اور چین کے مخلصانہ ثالثی اقدامات کا شکریہ ادا کیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’تاہم طالبان کی مسلسل ہٹ دھرمی اور ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی عوامی سطح پر مذمت اور ان سے لاتعلقی اختیار کرنے سے بھی انکار انتہائی تشویش ناک ہے۔‘ بقول عاصم افتخار: ’یہ ان گروہوں کے ساتھ ان کی ملی بھگت اور فعال حمایت کا کافی ثبوت ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہوتے ہوئے خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہم ضرورت پڑنے پر اور جب بھی ضرورت ہوگی، اپنے دفاع میں کارروائی کریں گے اور ہمیشہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق کریں گے۔‘ افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش کے حوالے سے پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے نقطۂ نظر سے ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی بندش انسانی ہمدردی کی امداد کی ترسیل کو متاثر نہیں کرتی۔ پاکستان انسانی امدادی سامان اور اشیا کی نقل و حمل میں مسلسل سہولت فراہم کر رہا ہے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’افغان طالبان حکومت انہیں گزرنے نہیں دیتی اور اپنی جانب سے سرحد بند رکھتی ہے، حتیٰ کہ جان بچانے والی امدادی کھیپوں کے لیے بھی، جو ظاہر ہے افغان عوام کے نقصان میں ہے۔‘ افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ ’چار دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان نے اپنی محدود صلاحیتوں اور ناکافی بین الاقوامی معاونت کے باوجود لاکھوں افغان پناہ گزینوں کا خیرمقدم کیا، جبکہ غیر قانونی اور بغیر دستاویزات والے افغان باشندوں کے بھاری بوجھ کا بھی سامنا کیا، جن میں سے بعض ہماری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے، تاہم یہ قیام کبھی غیر معینہ مدت کے لیے نہیں تھا۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اگرچہ ہم ہر ممکن سہولت فراہم کر رہے ہیں، لیکن بین الاقوامی برادری کو بھی آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ افغانستان کے مسائل کا الزام واپس آنے والے افغانوں پر ڈالنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘ آخر میں انہوں نے کہا: ’طالبان سے پاکستان کا مطالبہ سادہ اور واضح ہے: دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی کارروائی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ مطالبہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔‘ بقول عاصم افتخار: ’اصلاحِ احوال کے لیے وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے، تاہم دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ طالبان اس حقیقت کو سنجیدگی سے سمجھیں گے اور افغانستان کے طویل المدتی امن و ترقی اور سب سے بڑھ کر تمام افغان عوام کے بہترین مفاد کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘ افغان طالبان افغانستان بی ایل اے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب نے کہا: ’طالبان سے پاکستان کا مطالبہ سادہ اور واضح ہے: دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی کارروائی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ مطالبہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔‘ انڈپینڈنٹ اردو منگل, جون 9, 2026 - 09:00 Main image: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار 8 جون 2026 کو سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورت حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے (سکرین گریب/ مستقل پاکستانی مشن) پاکستان type: news related nodes: چین، پاکستان بی ایل اے کو دہشت گرد فہرست میں کیوں نہیں ڈلوا سکے؟ سلامتی کونسل بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے: پاکستان ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملے، کابل میں پاکستانی سفیر کی طلبی ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت ہیں: وزیراعظم SEO Title: افغان طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھائیں: پاکستان copyright: show related homepage: Show on Homepage
Go to News Site