Independent Urdu
میں آپ کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا راز بتاتا ہوں۔ آپ کو پتہ ہے، غریب آدمی سکون افورڈ ہی نہیں کر سکتا؟ لوگوں کو سوتے ہوئے خاموشی چاہیے ہوتی ہے اور مجھے شور ۔۔۔ لیکن منظم شور۔ میوزک کی بات نہیں کر رہا، ہوتا وہ بھی شور ہے، منظم ہوتا ہے، ترتیب ہوتی ہے تو ہم اسے موسیقی کہتے، کانوں کیا ٹانگوں کو بھی ہلا دیتی ہے لیکن جو چیز مجھے چاہیے ہوتی ہے اسے وائٹ نوائز کہتے ہیں۔ وائٹ نوائز بالکل وہی آواز ہوتی ہے جو کولر کے آگے آپ ٹانگیں پھیلا کر لیٹیں تو آتی ہے اور کولر سے یاد آیا کولر کی بات ہی کچھ اور ہے۔ بچپن میں، جب گرمیاں ہوتی تھیں ہمارے شہر ملتان میں، تو میں ہمیشہ کولر کے آگے اپنی چارپائی لگاتا تھا۔ اگر باہر سوتے تھے سب، تو بھائی پنکھے کے بالکل آگے ہوتا تھا، اس کے بعد موسم تھوڑا بہتر ہوتا تو کمرے میں چھت کا پنکھا چلا لیا، لیکن وہ بھی فل سپیڈ میں، اور ملتان میں جتنی گرمی ہوتی تھی، اس کے حساب سے، آپ سمجھیے کہ سال میں نو دس مہینے پنکھا برابر چلتا تھا اور شور ہوتا تھا۔ بڑا ہوا تو بیڈ نما چیزیں آ گئیں، اس کے بعد فرش نشین ہو گیا مستقل، لیکن پنکھا یا کولر عین سامنے ہوتے تھے، اے سی آج تک دوست نہیں بن سکا، وہ کم بخت شور بھی نہیں کرتا اور ہڈیاں جکڑ دیتا ہے صبح کو، بات وہی ہے، ہائے غربت ڈاٹ کام! تو اب کیا ہوا کہ دو مہینے ہوا کرتے تھے اُدھر سردی کے، ملتان میں، اور سردیوں میں نیند نہیں آتی تھی۔ کیوں نہیں آتی تھی؟ کیونکہ سردی میں سناٹا ہوتا تھا، پنکھا بند، کولر بند، کوئی ہوا کا شور ہی نہیں ہے بھائی۔ تو شور کے بغیر نیند کیسے آئے گی؟ اب یہ مسئلہ مجھے بڑے، بہت بڑے ہونے تک رہا، بلکہ اس عمر میں بھی مجھے نیند کوئی سکون والی نہیں آتی تھی، کیونکہ اس میں شور نہیں ہوتا تھا۔ پھر وہاں ملتان سے لاہور شفٹ ہوا، ادھر سے اسلام آباد آ گیا۔ پہاڑی شہر، یا خدا، یہاں تو بابا چھ مہینے کی سردی ہے، اب کیا کریں؟ تب میں نے پانچ چھ سال پہلے وائٹ نوائز کو دریافت کیا۔ مستقل ایک آواز ہے، اور بس وہ چل رہی ہے ساری رات، سوئیں الا طول، اور وہ آواز چلتی رہے گی جیسے پنکھا ہوتا تھا یا کولر۔ اب بس یہی ہوتا ہے کہ روز رات کو موبائل پہ وائٹ نوائز کی لوری چلتی ہے، بابا سوتا ہے اور باہر دروازے تک آنے جانے والوں کو پتہ ہوتا ہے کہ صاحب نیند فرما رہے ہیں۔ لیکن اس سب کا مطلب یہ نہیں کہ دن میں بھی وہی شور چاہیے، دن، رات، سونے سے پہلے تک، جتنی خاموشی اتنا سکون، بس سوتے وقت یہ ساری شاعریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ ہو سکتا ہے میری اس تحریر کے بعد کئی لوگوں کو یہ کمی محسوس ہو زندگی میں کہ ہاں بھائی، تھوڑے سے مستقل پنکھے نما شور کے ساتھ اطمینان سے سویا جا سکتا ہے۔ تو وہ نیٹ پہ جائیں، سپوٹیفائی پہ بھی پڑا ہوا ہے، وائٹ نوائز کے الگ سافٹ ویئر بھی ملتے ہیں، گھڑی نما ڈیوائس بھی ہوتی ہے، کچھ بھی لیں اور سکون کی نیند کریں، لیکن بات تو وہی ہے کہ غریب کا بچہ جو ہے، اس کو سکون افورڈ ہی نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک بالکل معمولی سی مثال تھی مڈل کلاس آدمی کی۔ اب بہت ساری چیزیں ہیں، جو ایکسٹرا لگژری ایلیمنٹس زندگی میں ہوتے ہیں، جو ہمارے زمانے میں بالکل ہوتے ہی نہیں تھے، وہ چیزیں ہمیں غیر ضروری لگنی شروع ہو جاتی ہیں۔ مطلب وہ سکون سے زیادہ بے سکونی پیدا کرتی ہیں، خاموشی ہی کی طرح۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اگر ایک عام آدمی ہے، اس کے سامنے چھ کھانوں کی مختلف ڈشیں پڑی ہوئی ہیں، یا جیسے آپ لوگ بوفے میں جاتے ہیں، چوائس آپ کے پاس ہے، لیکن وہ آپ کو پریشان کرتی ہے، یا کپڑے ہیں ماشاللہ، ڈھیر ہیں، چوائس میں مسئلہ ہوتا ہے، تو یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے، یہ آپ کی غربت کا مسئلہ ہے، یہ آپ کے بچپن کی پرورش کا مسئلہ ہے، اس وقت عید پہ نیا کپڑا ہوتا تھا اور دسترخوان پہ ایک کھانا ہوتا تھا، ٹینڈے ہیں یا بھنڈی ہے یا گوشت بنا ہے، بس جو ہے وہ ہے اور وہی کھانا ہے، باقی سب ٹھیک ہے۔ بات کرنے کا مقصد میرا یہی ہے کہ جس آدمی کی اپ برینگنگ سادہ گھروں میں ہوئی ہے، وہ افراط سے، چیزوں کی بہتات سے پریشان ہوتا ہے، اور یہ ایک نارمل رویہ ہے۔ اسی طرح سکون بھی ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس آدمی کی ساری زندگی لمٹس میں، پابندیوں میں، لوگوں میں اور محدود وسائل میں گزری ہو، اسے ٹیکنالوجی کی بدولت یا کسی اور وجہ سے اگر بہت سکون یا ضرورت سے زیادہ آرام مل جائے، تو بھی وہ سکون اور آرام میں ہوتا نہیں ہے۔ اس کی رگوں میں وہ چیز دوڑ رہی ہوتی ہے جسے شاعر نے کہا تھا کہ جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے؟ مطلب مجھے وہ سب کچھ چاہیے جو اُس وقت میرے پاس ہوتا تھا، جب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ اور جب کچھ بھی نہیں ہوتا تھا، تب گرمیوں کی لمبی دوپہریں ہوتی تھیں، گرمیوں کے بہت سارے مہینے ہوتے تھے، کولر کا شور ہوتا تھا، پنکھے کا شور ہوتا تھا، پیڈسٹل فین کا شور ہوتا تھا، بس وہی زندگی ہوتی تھی۔ زندگی شور نیند ملتان لوگوں کو سوتے ہوئے خاموشی چاہیے ہوتی ہے اور مجھے شور ۔۔۔ لیکن منظم شور۔ حسنین جمال سوموار, اپریل 6, 2026 - 06:30 Main image:
(انواتو ایلیمنٹس)
بلاگ jw id: tNC22Zgn type: video related nodes: جنگ ہو یا ہتھیاروں کا پھیلاؤ، میں احمقوں کی جنت میں رہتا تھا رتی جناح کی وفات 29 برس کی عمر میں کیوں ہو گئی؟ پیار محبت کے انسٹاگرامی مسائل اقبال حسین کی تصویروں میں شناخت کا دکھ SEO Title: غریب آدمی سکون افورڈ ہی نہیں کر سکتا copyright: show related homepage: Hide from Homepage Go to News Site