Independent Urdu
انڈیا بنگلہ دیش کے ساتھ اپنی دریائی سرحد کے بعض حصوں پر جسمانی باڑ تعمیر کرنے کے متبادل کے طور پر زہریلے سانپ اور مگرمچھ چھوڑنے پر غور کر رہا ہے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی کی قوم پرست جماعت نے بنگلہ دیش کے ساتھ 4,096 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے میں نمایاں وسائل لگائے ہیں، لیکن اس کا تقریباً 20 فیصد حصہ اب بھی زیادہ تر کھلا ہے۔ 850 کلومیٹر غیر محفوظ حصے میں سے تقریباً 175 کلومیٹر ایسا علاقہ ہے جسے دلدلی زمین اور سیلاب کے خطرے کی وجہ سے جسمانی باڑ کے لیے ناموزوں سمجھا جاتا ہے۔ اب اس دریائی ماحول میں خطرناک رینگنے والے جانور چھوڑنے کا خیال، سرحدی سکیورٹی فورس (BSF) کی ملاقاتوں اور اندرونی میموز میں زیرِ غور ہے، مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بتاریخ 26 مارچ کی ایک اندرونی سرکاری میمو، جو مبینہ طور پر BSF ہیڈکوارٹر سے بنگلہ دیشی سرحد کے ساتھ واقع فیلڈ یونٹس کو بھیجی گئی۔ ان سے کہا گیا کہ وہ ان علاقوں میں جہاں جسمانی باڑ تعمیر کرنا مشکل ہے، اس کو بطور ممکنہ آپریشنل اقدام جانچیں اور اس کا جائزہ لیں۔ میمو میں کہا گیا کہ ’رینگنے والے جانوروں کا استعمال، وزیرِ داخلہ امت شاہ کی ہدایات کے مطابق ہے‘ دی ہندو نے رپورٹ کیا۔ امت شاہ مودی کے گھرے ساتھی اور انڈیا کی مشرقی ریاستوں میں امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے اہم چہرے رہے ہیں۔ یہ خلیجیں زیادہ تر مغربی بنگال، آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم میں واقع ہیں، وہ ریاستیں جہاں سرحد پار ہجرت ایک متنازعہ سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے۔ کہ حکمران جماعت کے مسلم اکثریتی بنگلہ دیش سے آنے والے تارکینِ وطن کے خلاف عوامی بیانیے نے خطے کی اقلیتی کمیونٹیز کو نقصان پہنچایا ہے۔ رینگنے والے جانور چھوڑنے کے بارے میں میمو کی خبر سب سے پہلے مقامی میڈیا ادارے نارتھ ایسٹ نیوز نے دی جس نے بتایا کہ یہ خیال 9 فروری سے زیرِ غور ہے۔ جب BSF کے ڈائریکٹر جنرل پروین کمار نے ایک میٹنگ کی صدارت کی تھی۔ سیکٹر کمانڈرز کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس کی عملی ممکنات کا جائزہ لیں اور مقررہ ڈیڈ لائن تک رپورٹ کریں کہ اب تک کی اقدامات کیے گئے ہیں۔ یونٹس سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ ایسے اندھیرے یا بغیر سگنل والے علاقوں کی نشاندہی کریں جہاں اضافی سرحدی سکیورٹی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) رپورٹس کے مطابق BSF افسران نے اس تجویز کے حوالے سے کئی خدشات ظاہر کیے ہیں، جن میں سرحد کے قریب رہنے والی مقامی کمیونٹیز کے لیے ممکنہ خطرات اور اسے عملی طور پر نافذ کرنے کی مشکلات شامل ہیں۔ دی انڈیپنڈنٹ نے اس پر تبصرہ حاصل کرنے کے لیے سے رابطہ کیا ہے۔ اگرچہ رینگنے والے جانور چھوڑنے کا خیال غیر معمولی ہے، مگر یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈین حکومت سرحدی انتظام کے نئے طریقوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے. جن میں ڈرونز اور انفراریڈ یا نائٹ وژن کیمرے شامل ہیں۔ مودی حکومت نے غیر قانونی نقل مکانی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہوا ہے، خاص طور پر غیر دستاویزی بنگلہ دیشیوں اور روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں سے بہت سے افراد کو مبینہ طور پر قانونی عمل کے بغیر سرحد پار بھیج دیا گیا۔ کچھ نے الزام لگایا کہ انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر جنگل میں چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ پیدل بنگلہ دیش جائیں۔ حقوقِ انسانی کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ انڈیا میں بنگالی بولنے والے ہزاروں مسلمان گرفتار، حراست میں یا زبردستی سرحد پار بھیجے گئے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو ملک کی مسلم اقلیت کے خلاف امتیازی طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ریاستی اور قومی سطح پر بی جے پی رہنماؤں نے تارکینِ وطن کو بنگلہ دیش سے آنے والے ’درانداز‘ قرار دیا ہے، جو بھارت کی شناخت اور اس کی ہندو اکثریتی آبادی کے ڈیموگرافکس کے لیے خطرہ ہیں۔ انڈیا سرحدی تنازع بنگلہ دیش مودی حکومت انڈیا بنگلہ دیش کے ساتھ اپنی دریائی سرحد کے بعض حصوں پر جسمانی باڑ تعمیر کرنے کے متبادل کے طور پر زہریلے سانپ اور مگرمچھ چھوڑنے پر غور کر رہا ہے۔ شویتا شرما منگل, اپریل 7, 2026 - 12:00 Main image:
انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکار 26 مئی 2025 کو انڈیا کی ریاست آسام کے ضلع دھوبری میں انڈیا بنگلہ دیش سرحد کے قریب دریائے گنگا دھر پر موجود ہیں۔
(فائل فوٹو: اے ایف پی)