Siasat
نہ سرکاری خبر کا کوئی اعتبار رہا ہے اور نہ غیر سرکاری خبر ہی بااعتبار رہی ہے۔ اب نہ سرکاری ترجمان پر کوئی بھروسا رہا ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کوئی خبر یقین کے معیار پر پوری اُترتی ہے۔ دور کیوں جائیں‘ متحدہ عرب امارات کے ادھار پر دیے گئے ڈالروں کی بات کریں تو ترجمان کے مطابق یہ واپسی معمول کی بات ہے اور سوشل میڈیا نئے سے نیا شوشہ چھوڑ رہا ہے۔ بقول حکومتی ترجمان اگر یہ معمول کی بات ہے تو آخر سات سال تک یہ معمول کیوں طاقِ نسیاں پر پڑا رہا اور اس مستعار شدہ ڈپازٹ کی... Read more
Go to News Site