Collector
چرنوبل حادثے کے 40 سال: انسانوں کے لیے ممنوع، فطرت کے لیے جنت | Collector ایک جنگلی ہرن چرنوبل کے اخراجی علاقے میں گھوم پھر رہا ہے (مقامی لائبریری)
 

تاریخ related nodes: چرنوبل کے کتے جوہری حادثے سے کیسے بچے؟ جواب کی تلاش ایٹمی حادثے سے متاثرہ چرنوبل کو تفریح گاہ بنانے کا فیصلہ ہیروشیما ایک پل میں ہموار ہو گیا: متاثر کی کہانی جاپان: ہیروشیما ایٹم بم حملے کے 80 سال بعد لاپتہ متاثرین کی تلاش SEO Title: چرنوبل حادثے کے 40 سال: انسانوں کے لیے ممنوع، فطرت کے لیے جنت copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/world/europe/chernobyl-ukraine-radioactive-horses-animals-b2961527.html show related homepage: Hide from Homepage"> ایک جنگلی ہرن چرنوبل کے اخراجی علاقے میں گھوم پھر رہا ہے (مقامی لائبریری)
 

تاریخ related nodes: چرنوبل کے کتے جوہری حادثے سے کیسے بچے؟ جواب کی تلاش ایٹمی حادثے سے متاثرہ چرنوبل کو تفریح گاہ بنانے کا فیصلہ ہیروشیما ایک پل میں ہموار ہو گیا: متاثر کی کہانی جاپان: ہیروشیما ایٹم بم حملے کے 80 سال بعد لاپتہ متاثرین کی تلاش SEO Title: چرنوبل حادثے کے 40 سال: انسانوں کے لیے ممنوع، فطرت کے لیے جنت copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/world/europe/chernobyl-ukraine-radioactive-horses-animals-b2961527.html show related homepage: Hide from Homepage"> ایک جنگلی ہرن چرنوبل کے اخراجی علاقے میں گھوم پھر رہا ہے (مقامی لائبریری)
 

تاریخ related nodes: چرنوبل کے کتے جوہری حادثے سے کیسے بچے؟ جواب کی تلاش ایٹمی حادثے سے متاثرہ چرنوبل کو تفریح گاہ بنانے کا فیصلہ ہیروشیما ایک پل میں ہموار ہو گیا: متاثر کی کہانی جاپان: ہیروشیما ایٹم بم حملے کے 80 سال بعد لاپتہ متاثرین کی تلاش SEO Title: چرنوبل حادثے کے 40 سال: انسانوں کے لیے ممنوع، فطرت کے لیے جنت copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/world/europe/chernobyl-ukraine-radioactive-horses-animals-b2961527.html show related homepage: Hide from Homepage">
چرنوبل حادثے کے 40 سال: انسانوں کے لیے ممنوع، فطرت کے لیے جنت
Independent Urdu

چرنوبل حادثے کے 40 سال: انسانوں کے لیے ممنوع، فطرت کے لیے جنت

چرنوبل کے اخراجی زون (exclusion zone) میں، جو ایک ایسا تابکار علاقہ ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہت خطرناک ہے، جنگلی گھوڑے آزادانہ گھومتے ہیں۔ پرزیوالسکی نسل کے گھوڑے، جو مضبوط، ریتلے رنگ کے اور کھلونوں جیسے لگتے ہیں، لکسمبرگ سے بھی بڑے علاقے (28 سو مربع کلومیٹر) میں چرتے ہیں۔ یہ ویران علاقہ 26 اپریل 1986 کو اس وقت وجود میں آیا جب یوکرین کے ایٹمی بجلی گھر میں ہونے والے دھماکے نے پورے یورپ میں تابکاری پھیلا دی تھی، جس کے نتیجے میں پورے کے پورے شہر خالی کرانے پڑے اور ہزاروں لوگ بےگھر ہو گئے۔ یہ تاریخ کا بدترین ایٹمی حادثہ ہے۔ چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی چرنوبل (یوکرینی زبان میں چورنوبل) انسانوں کے لیے بہت خطرناک ہے۔ تاہم جنگلی حیات یہاں واپس آ گئی ہے۔ یوکرین اور بیلاروس کے درمیان پھیلے ہوئے اس وسیع بنجر علاقے میں اب بھیڑیے گھومتے ہیں اور ایک صدی سے زیادہ عرصے کے بعد بھورے ریچھ بھی واپس آ گئے ہیں۔ لنکس (جنگلی بلی)، موز (بارہ سنگھا)، سرخ ہرن اور یہاں تک کہ آزادانہ گھومنے والے کتوں کی آبادی بھی دوبارہ بحال ہو گئی ہے۔ پرزیوالسکی گھوڑے، جن کا تعلق منگولیا سے ہے اور جو کبھی ناپید ہونے کے دہانے پر تھے، انہیں یہاں 1998 میں ایک تجربے کے طور پر لایا گیا تھا۔ منگولیا میں انہیں ’تاخی‘ (روح) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ گھوڑے پالتو نسلوں سے مختلف ہیں کیونکہ ان میں کروموسوم کے 33 جوڑے ہوتے ہیں جبکہ پالتو گھوڑوں میں 32 ہوتے ہیں۔ ان کا موجودہ نام اس روسی مہم جو کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے پہلی بار باقاعدہ طور پر ان کی شناخت کی تھی۔ زون کے ماہرِ فطرت ڈینیس ویشنیوسکی نے کہا کہ ’یہ حقیقت کہ یوکرین میں اب ان کی ایک آزادانہ گھومنے والی آبادی موجود ہے، کسی چھوٹے معجزے سے کم نہیں۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کا کہنا تھا کہ انسانی دباؤ ختم ہونے کے بعد، اخراجی زون کے کچھ حصے اب صدیوں پرانے یورپی مناظر سے مشابہت رکھتے ہیں، ’فطرت نسبتاً جلدی اور مؤثر طریقے سے خود کو بحال کر لیتی ہے۔‘ یہ تبدیلی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ درخت متروکہ عمارتوں کے اندر سے پھوٹ رہے ہیں، سڑکیں جنگل میں جذب ہو رہی ہیں اور سوویت دور کے بورڈ، جھاڑیوں سے بھرے قبرستانوں میں لکڑی کی صلیبوں کے پاس کھڑے ہیں۔ چرنوبل کے تابکار علاقے میں 13 اپریل 2021 کو پھرنے والے پریزوالسکی نسل کے گھوڑے جنہوں نے اپنے آپ کو ماحول میں ڈھال لیا ہے (اے ایف پی) خفیہ کیمرے دکھاتے ہیں کہ گھوڑے غیر متوقع طریقوں سے خود کو ڈھال رہے ہیں۔ وہ خراب موسم اور کیڑوں سے بچنے کے لیے تباہ حال گوداموں اور ویران گھروں میں پناہ لیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ وہیں بستر جما لیتے ہیں۔ یہ جانور چھوٹے سماجی گروہوں میں رہتے ہیں، جن میں عام طور پر ایک نر گھوڑا، کئی مادہ گھوڑیاں اور ان کے بچے ہوتے ہیں، جبکہ نوجوان نروں کے الگ گروہ ہوتے ہیں۔ یہاں لائے جانے کے بعد بہت سے گھوڑے مر گئے تھے لیکن دیگر نے خود کو ڈھال لیا۔ ان کا سراغ لگانے میں وقت لگتا ہے۔ ویشنیوسکی اکثر اکیلے گھنٹوں گاڑی چلاتے ہیں اور درختوں کے ساتھ لگے کیمرہ ٹریپس کو چیک کرتے ہیں۔ مسلسل تابکاری کے باوجود سائنس دانوں نے جانوروں کے بڑے پیمانے پر مرنے کا کوئی ریکارڈ نہیں دیکھا، اگرچہ اس کے کچھ اثرات واضح ہیں۔ کچھ مینڈکوں کی رنگت گہری ہو گئی ہے اور زیادہ تابکاری والے علاقوں میں پرندوں میں موتیا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم نئے خطرات ابھرے ہیں۔ 2022 میں روس کے حملے کے دوران اخراجی زون میں بھی لڑائی ہوئی، جہاں فوجیوں نے تابکاری سے آلودہ مٹی میں دفاعی خندقیں کھودیں۔ فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگ گئی۔ جنگ کے دوران سخت سردیوں نے بھی نقصان پہنچایا ہے۔ بجلی کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے وسائل کی کمی ہوئی اور سائنس دان گرے ہوئے درختوں اور مردہ جانوروں کی تعداد میں اضافے کی اطلاع دے رہے ہیں، جو کہ سخت حالات اور جلدی میں بنائی گئی قلعہ بندیوں کا نتیجہ ہیں۔ چرنوبل کے اخراجی علاقے میں ایک جنگلی بلا )مقامی لائبریری) زون میں آگ بجھانے والے یونٹ کے سربراہ اولیگزینڈر پولیشچوک نے کہا کہ ’جنگل کی زیادہ تر آگ گرنے والے ڈرونز کی وجہ سے لگتی ہے۔ کبھی کبھی ہمیں وہاں پہنچنے کے لیے درجنوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔‘ آگ تابکار ذرات کو دوبارہ ہوا میں پھیلا سکتی ہے۔ آج یہ زون صرف جنگلی حیات کی ایک اتفاقی پناہ گاہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک فوجی راہداری بن چکا ہے جہاں کنکریٹ کی رکاوٹیں، خاردار تاریں اور بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔ تابکاری سے بچنے کے لیے عملہ یہاں شفٹوں میں کام کرتا ہے۔ چرنوبل ممکنہ طور پر آنے والی کئی نسلوں تک انسانوں کے لیے بند رہے گا، جو لوگوں کے لیے خطرناک لیکن زندگی سے بھرپور ہے۔ ویشنیوسکی نے کہا کہ ’ہم جیسے تحفظِ فطرت اور ماہرینِ ماحولیات کے لیے یہ ایک معجزہ ہے۔ یہ زمین کبھی زراعت، شہروں اور انفراسٹرکچر کے لیے بہت زیادہ استعمال ہوتی تھی۔ لیکن فطرت نے مؤثر طریقے سے اسے فیکٹری ری سیٹ کر دیا ہے۔‘ چرنوبل جوہری پلانٹ جنگلی حیات آج سے 40 سال پہلے چرنوبل کے ایٹمی پلانٹ میں دھماکے کے بعد سے یہ اب تک انسانوں کے لیے خطرناک حد تک تابکار ہے، لیکن انسان کے چلے جانے کے بعد جنگلی حیات یہاں پہلے سے زیادہ پھل پھول رہی ہے۔ ڈیریک گیٹوپولوس اور ایوگینی مالولیٹکا اتوار, اپریل 26, 2026 - 20:15 Main image:

ایک جنگلی ہرن چرنوبل کے اخراجی علاقے میں گھوم پھر رہا ہے (مقامی لائبریری)
 

تاریخ related nodes: چرنوبل کے کتے جوہری حادثے سے کیسے بچے؟ جواب کی تلاش ایٹمی حادثے سے متاثرہ چرنوبل کو تفریح گاہ بنانے کا فیصلہ ہیروشیما ایک پل میں ہموار ہو گیا: متاثر کی کہانی جاپان: ہیروشیما ایٹم بم حملے کے 80 سال بعد لاپتہ متاثرین کی تلاش SEO Title: چرنوبل حادثے کے 40 سال: انسانوں کے لیے ممنوع، فطرت کے لیے جنت copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/world/europe/chernobyl-ukraine-radioactive-horses-animals-b2961527.html show related homepage: Hide from Homepage

Go to News Site