Siasat
ہمارے بڑے سیاست اور کاروبار دونوں کرتے تھے۔ کاروبار میں آڑھت کا کام تھا اور کاروباری ذہن خوب رکھتے تھے۔ اس کے برعکس ہم مکمل نکمے ٹھہرے۔ کاروباری ذہن تو بالکل ہی نہیں رہا ‘ کوئی ہمیں چلتی ہوئی فیکٹری بھی دے دیتا تو تھوڑے ہی عرصے میں تباہی کے دہانے پر اُسے پہنچا دیتے۔ کچھ تو کتابوں نے تباہ کیا کیونکہ کتاب بینی کی وجہ سے تخیلات کی دنیا میں ہی گم رہتے۔ اور کچھ شاید قدرتی کاہلی تھی‘ کاروبار کی طرف آ نہ سکے۔ ایک عدد نوکری بھی کی لیکن وہ بھی راس نہ آئی۔ اب جب مہنگائی نے معاشرے کو اپنی... Read more
Go to News Site