Collector
ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا | Collector ہم پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تمام عمر بس لکھنے پڑھنے میں گزار دی، ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا (فائل فوٹو/ اینواتو)

 

نقطۂ نظر type: news related nodes: ڈیٹنگ برن آؤٹ ہماری ملازمتوں کو کیسے متاثر کر رہا ہے وہ ملازمتیں جو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں ’پنجاب جاب سینٹر‘، جہاں آٹھ لاکھ افراد نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں ’آفس فراگ‘: جین زی میں بار بار نوکریاں بدلنے کا بڑھتا رجحان SEO Title: ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا copyright: show related homepage: Show on Homepage"> ہم پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تمام عمر بس لکھنے پڑھنے میں گزار دی، ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا (فائل فوٹو/ اینواتو)

 

نقطۂ نظر type: news related nodes: ڈیٹنگ برن آؤٹ ہماری ملازمتوں کو کیسے متاثر کر رہا ہے وہ ملازمتیں جو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں ’پنجاب جاب سینٹر‘، جہاں آٹھ لاکھ افراد نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں ’آفس فراگ‘: جین زی میں بار بار نوکریاں بدلنے کا بڑھتا رجحان SEO Title: ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا copyright: show related homepage: Show on Homepage"> ہم پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تمام عمر بس لکھنے پڑھنے میں گزار دی، ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا (فائل فوٹو/ اینواتو)

 

نقطۂ نظر type: news related nodes: ڈیٹنگ برن آؤٹ ہماری ملازمتوں کو کیسے متاثر کر رہا ہے وہ ملازمتیں جو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں ’پنجاب جاب سینٹر‘، جہاں آٹھ لاکھ افراد نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں ’آفس فراگ‘: جین زی میں بار بار نوکریاں بدلنے کا بڑھتا رجحان SEO Title: ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا copyright: show related homepage: Show on Homepage">
ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا
Independent Urdu

ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا

فیس بک پہ ایک سینیئر صحافی کی تحریر پڑھی۔ تحریر میں وہی درج تھا جو شاید ان کی جگہ میں ہوتی تو میں بھی یہی لکھتی۔ سینیئر صحافی کی تحریر کا متن ہم صحافیوں کا پرانا روگ یعنی غمِ بیروزگاری ہی تھا۔ پاکستان کے صحافتی اداروں میں نوکری مل جائے تو تنخواہ کم اور اگر کم تنخواہ پہ بھی آپ بالفرض  نوکری کرنے کو مجبوراً مان جائیں تو کم بخت وہ تھوڑی بہت تنخواہ بھی ملازمت کے معاہدے کے مطابق نہیں ملتی۔ ایک مستری بھی دن کے اختتام پہ اپنے ٹھیکیدار سے دیہاڑی لے کر  جاتا ہے لیکن میڈیا کے مزدور سارا مہینہ کام میں جُتنے کے بعد بھی اسی گو نا گوں کی کیفیت میں رہتے ہیں کہ تنخواہ ملے گی بھی کہ نہیں۔ پاکستان میں مزدور کی کم سے کم اجرت طے کرنے کے لیے ماہرینِ معاشیات سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور حکومت کو اپنی سفارشات پیش کر دیتے ہیں۔مزدور حکومت کی سفارش کے مطابق تنخواہ پا رہا ہے یا نہیں اس پہ حکومتِ پاکستان کا کوئی اختیار نہیں۔ مزور بیچارے تو دور کی بات ہے، اصل لطیفہ تو یہ ہے کہ پاکستان کی جامعات اپنے محققین کو مزدور کی کم سے کم اجرت سے بھی کم پیسے دینا چاہتی ہیں۔ اس حساب سے پاکستان میں سائنسی محققین ہماری صحافی برادری کی طرح متاثرین کی انجمن کا حصہ ہی ہیں۔ فیکٹریوں، ہوٹل انڈسٹری، انشورنس کمپنیوں، بینکوں، کال سینٹرز، ریسپشن، سیکرٹری، سیلزمین اور کلرکی والی نوکریوں میں آئے روز بغیر کسی نوٹس کے کام سے نکال دیا جاتا ہے۔ ایسی نوکریوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی کھپت تو ہے لیکن نوکری کا کوئی مستقبل ہے، نہ ہی کوئی سیکورٹی۔ ان سیکٹرز سے بھی پڑھے لکھے بے روزگاروں کی پلٹون آئے روز نکلتی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) میڈیا والوں کے دکھ اور زیادہ ہیں، یہاں ادارے کی خستہ معاشی صورت حال کا بہانہ بنا کر ملازمت سے نکالنا تو عام سی بات ہے  لیکن کسی طاقتور ادارے کی ایک کال آنے پہ پوری میڈیا ٹیم کو گھر کا راستہ دکھانا، یہ نظر کرم صرف میڈیا ورکرز  تک محدود ہے۔ رہی سہی کسر جدید ٹیکنالوجی نے پوری کر دی ہے۔ پہلے میڈیا کے سیٹھ اپنے ورکرز کی تنخواہ کھا جاتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پوری کی پوری نوکریاں ہی نگل رہی ہے۔ تو پڑھے لکھے، خوش طبعیت، نیک مزاج، ہنر مند اور کام کے لیے تیار لاکھوں بے روزگار مرد و خواتین پھر کیا کریں؟ یورپ، امریکہ اور برطانیہ کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچی ہوں کہ اپنے پاکستان میں اچھے خاصے پڑھے لکھوں کی بیروزگاری کے پیچھے بنیادی وجہ تو ظاہر ہے ملکی کی مجموعی معاشی صورت حال ہے لیکن ایک اور وجہ بھی ہے۔ وہ ہے ہماری انا، معاشرے میں پہچان، اونچی ناک، چار لوگوں میں عزت اور خاندان کا نام۔ ہم پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تمام عمر بس لکھنے پڑھنے میں گزار دی، ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا۔ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والا کوئی پڑھا لکھا شخص دو دفتری نوکریوں کے درمیان بے روزگاری کے مختصر وقفے میں لاکھوں روپے کا مقروض تو بن سکتا ہے مگر کوئی چھوٹا کام نہیں کرسکتا۔ ہوٹل کا شیف بننا یا بیرا بننا، یہ چھوٹے کام ہیں۔چائے کا ڈھابہ لگانا، آلو کے چپس بیچنا، ٹیکسی چلانا، ڈرائیونگ کرنا، ڈیلیوری رائیڈر بننا، سبزی، پھل بیچنا، رکشہ یا سکول کی وین چلانا، الیکٹریشن یا پلمبر بننا، درزی بن کر دوسرے کے کپڑے سینا، ہمارے طبقاتی نظام کے حساب سے یہ سب کے سب کام چھوٹے کام ہیں۔ ہمارا معاشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ چھوٹے کام خاندانی لوگ نہیں کرتے، ایسے کام کرنے والے بااثر نہیں ہوتے، یہ افراد  ڈگری یافتہ نہیں ہوتے، یہ کام صرف مجبور لوگ کرتے ہیں۔کتنی ہی ایسی آن لائن ٹیکسی سروس میں بیٹھنا ہوا جہاں ٹیکسی چلانے والے نے باتوں باتوں میں یہ جتانے کی کوشش کی کہ اصل میں وہ کسی دفتر میں کام کرتا ہے لیکن فارغ وقت میں اپنی گاڑی کو ٹیکسی پہ لگالیا ہے۔ آئے روز ہمارے میڈیا پہ ایسے افراد کا انٹرویو شائع ہوتا ہے جہاں ایم بی اے ڈگری ہولڈر نے اپنی گاڑی کے پیچھے بریانی کی دیگ لگائی ہوتی ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے کے مروجہ معیارات کے حساب سے ایک ڈگری یافتہ سابق بینک کلرک کا بریانی بیچنا عنقا چیز ہے، اس لیے ہمیں یہ کہانیاں جرات کا استعارہ لگتی ہیں۔ ایک نارمل دنیا میں بینک کی نوکری اور بریانی بیچنا دونوں باعزت کام تصور ہوتے ہیں۔ایک صحافی اور ایک ڈیلیوری رائیڈر دونوں رزق حلال کمانے ہی نکلتے ہیں۔ یقیناً ایک کام میں چہرہ دھول مٹی میں اٹ جائے گا اور دوسرے کام میں دفتر کا ایئر کنڈیشن مل جائے گا لیکن نوکری نوکری ہوتی ہے، ہر کام مشکل ہوتا ہے، ہر کام میں محنت ہے۔ کالے، سفید یا نیلے کالر والی نوکریوں کی اصطلاحات اب بے معنی ہوگئی ہیں۔ جنگوں کے اس دور میں مہنگائی اور بے روزگاری دونوں بین ا لاقوامی مسئلے بن چکے ہیں، جس میں انا نہیں اپنی بقا بچانے کا وقت ہے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ نوکری ملازمت کاروبار ہمارا معاشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ چھوٹے کام خاندانی لوگ نہیں کرتے، ایسے کام کرنے والے بااثر نہیں ہوتے، یہ افراد  ڈگری یافتہ نہیں ہوتے، یہ کام صرف مجبور لوگ کرتے ہیں۔ عفت حسن رضوی منگل, مئی 5, 2026 - 06:30 Main image:

ہم پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تمام عمر بس لکھنے پڑھنے میں گزار دی، ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا (فائل فوٹو/ اینواتو)

 

نقطۂ نظر type: news related nodes: ڈیٹنگ برن آؤٹ ہماری ملازمتوں کو کیسے متاثر کر رہا ہے وہ ملازمتیں جو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں ’پنجاب جاب سینٹر‘، جہاں آٹھ لاکھ افراد نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں ’آفس فراگ‘: جین زی میں بار بار نوکریاں بدلنے کا بڑھتا رجحان SEO Title: ہمیں تو بابو بننے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا copyright: show related homepage: Show on Homepage

Go to News Site