Independent Urdu
روس کے ایک سینیئر سکیورٹی عہدیدار کے مطابق ماسکو افغانستان کی طالبان حکومت سے ’مکمل شراکت داری‘ قائم کر رہا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی کابل کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔ روس گذشتہ سال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔ طالبان نے اگست 2021 میں اُس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج نے 20 سالہ جنگ کے بعد افغانستان سے انخلا کیا۔ انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی عہدیدار سرگئی شوئیگو نے کہا کہ کابل کے ساتھ تعاون خطے کی سلامتی اور ترقی کے لیے اہم ہے۔ 25 نومبر 2024 کو لی گئی اور طالبان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں افغانستان کا وفد (بائیں)، جس کی قیادت نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور عبدالغنی برادر کر رہے ہیں، کابل کے چاہار چنار محل میں روسی وفد کے ساتھ دوطرفہ ملاقات میں شریک ہے، جس کی قیادت روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو کر رہے ہیں۔ (طالبان نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور دفتر / اے ایف پی) روس کی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری شوئیگو نے کہا کہ ماسکو طالبان کے ساتھ ایک ’عملی اور حقیقت پسندانہ مکالمہ‘ قائم کر رہا ہے، جس میں سکیورٹی، تجارت، ثقافتی روابط اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون شامل ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں چین، انڈیا، ایران، پاکستان اور کئی سابق سوویت ریاستیں شامل ہیں۔ شوئیگو نے مزید کہا کہ ایس سی او کو افغانستان کے حوالے سے اپنا رابطہ گروپ دوبارہ فعال کرنا چاہیے۔ روس نے 2003 میں طالبان کو ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے کر کالعدم کیا تھا، تاہم اپریل 2025 میں یہ پابندی ختم کر دی گئی۔ روس کا ماننا ہے کہ افغانستان سے مشرق وسطیٰ تک سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خطرات کے پیش نظر کابل کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ افغانستان افغان طالبان روس روس کی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری شوئیگو نے کہا کہ ماسکو طالبان کے ساتھ ایک ’عملی اور حقیقت پسندانہ مکالمہ‘ قائم کر رہا ہے، جس میں سکیورٹی، تجارت، ثقافتی روابط اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون شامل ہے۔ روئٹرز جمعرات, مئی 14, 2026 - 15:30 Main image:
4 اکتوبر 2024 کو روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف (دائیں) ماسکو میں افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کے دوران مصافحہ کر رہے ہیں (ہینڈ آؤٹ / روسی وزارت خارجہ / اے ایف پی)
دنیا type: news related nodes: روس اور افغان طالبان کے درمیان گرمجوشی کی وجوہات کیا؟ روس افغان جنگ کے 40 سال: جنگی پوسٹر کیا کہانی سناتے ہیں؟ روس نے افغانستان پر حملہ کیوں کیا تھا؟ ماسکومذاکرات:’روس طالبان حکومت تسلیم کرنےپرغورنہیں کررہا‘ SEO Title: افغان طالبان کی حکومت سے ’مکمل شراکت داری‘ قائم کر رہے ہیں: روس copyright: show related homepage: Hide from Homepage Go to News Site