Independent Urdu
ہمارے معاشرے میں زندگی گزارنا دراصل ایک ’اوپن ہاؤس‘ نمائش میں شرکت کرنے جیسا ہے، جہاں آپ کی زندگی کا ہر فیصلہ تماشائیوں کی تنقید اور ’مفت مشوروں‘ کے ہمہ وقت نشانے پر ہمہ وقت ہوتا ہے۔ اگر آپ نے غلطی سے اس زمین پر سانس لینے کا حق مانگ لیا ہے، تو سمجھ لیں کہ آپ نے ایک ایسا فارم بھر دیا ہے جس کے خانے پر کرنا آپ کی نہیں بلکہ محلے کی اس پھوپھی، خالہ یا دور کے اس چچا کی ذمہ داری ہے جن سے آپ سال میں صرف ایک بار عید پر ملتے ہیں۔ یہاں انسان پیدا ہوتے ہی ایک ایسے مقابلے کا حصہ بن جاتا ہے جس کی فنشنگ لائن کا کسی کو پتہ نہیں، لیکن دوڑنا سب کے لیے فرض ہے۔ سب سے پہلا اور مقبولِ عام سوال ’شادی کب ہو رہی ہے؟‘ ایک ایسا ایٹمی حملہ ہے جو ہر اس نوجوان پر کیا جاتا ہے جس نے غلطی سے اپنی تعلیم مکمل کر لی ہو یا جس کے سر پر چند بال سفید نظر آنے لگیں۔ لوگ آپ کی ڈگری، آپ کی اخلاقیات یا آپ کی انسانیت میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے جتنی اس بات میں رکھتے ہیں کہ آپ کے نکاح نامے پر دستخط کب ہوں گے۔ گویا کہ شادی کوئی زندگی کا حصہ نہیں بلکہ ایک ایسا ’سافٹ ویئر اپ ڈیٹ‘ ہے جس کے بغیر انسانی مشین کو معاشرہ ناکارہ قرار دے دیتا ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ بھائی یا بہن، کیا تم ذہنی طور پر شادی کے لیے تیار ہو؟ کیا تم کسی کے ساتھ زندگی بانٹنے کا حوصلہ رکھتے ہو؟ نہیں، سوال صرف یہ ہوتا ہے کہ ’بریانی کب کھلا رہے ہو؟‘ یعنی ایک انسان کی پوری زندگی کا مقصد صرف چند سو لوگوں کو لذیذ کھانا کھلانا رہ گیا ہے۔ پھر اگر قسمت کے مارے کسی نے شادی کر ہی لی، تو اگلے ہی مہینے سے ’خوش خبری‘ کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں تو عالم یہ ہے کہ دولہا دلہن ابھی ہنی مون کی تصاویر اپ لوڈ نہیں کر پاتے کہ محلے کے بزرگوں کے نزدیک اگلی نسل کی پیدائش میں تاخیر ایک ’قومی المیہ‘ بن جاتی ہے۔ اولاد اللہ کی دین ہے یا انسان کا ذاتی فیصلہ، یہ بحث تو ہمارے ہاں شجرِ ممنوعہ ہے۔ اگر کسی کے ہاں اولاد نہ ہو رہی ہو، تو میڈیکل سائنس سے پہلے ’ٹوٹکوں‘ اور ’روحانی مشوروں‘ کی بارش ہو جاتی ہے۔ ہر تیسرا شخص خود کو گائناکالوجسٹ سمجھنے لگتا ہے اور ایسی ایسی تشخیص کرتا ہے کہ بندہ سوچتا ہے کہ شاید میں انسان نہیں بلکہ کوئی لیبارٹری کا چوہا ہوں جس پر پورے خاندان نے تجربات کرنے ہیں۔ معاشرے کو اس بات سے غرض نہیں کہ وہ جوڑا ابھی شاید معاشی طور پر مستحکم نہیں، یا شاید وہ پہلے ایک دوسرے کو سمجھنا چاہتے ہیں انہیں تو بس گود میں کھلانے کے لیے ایک کھلونا چاہیے، چاہے اس کھلونے کی پرورش کے لیے والدین کی نیندیں اور سکون ہی کیوں نہ قربان ہو جائے۔ اس کے بعد باری آتی ہے ’اپنا گھر‘ بنانے کی۔ کرائے کے مکان میں رہنا ہمارے معاشرے میں تقریبا ایک ایسی گالی بن چکا ہے جسے سن کر لوگ آپ پر ترس کھانے لگتے ہیں۔ اگر آپ ایک اچھے علاقے میں کرائے کے مکان میں پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، تو بھی کوئی نہ کوئی صاحب آ کر آپ کے کان میں پھونک ماریں گے کہ ’میاں، کرایہ تو برباد ہو جاتا ہے، چاہے چھوٹا ہی سہی لیکن اپنا مکان تو ہو۔‘ اب ان صاحب کو یہ کون سمجھائے کہ ’اپنا گھر‘ بنانے کے چکر میں انسان اپنی جوانی، اپنے بچوں کی خوشیاں اور اپنی صحت بینک کے سود اور قرضوں کی نذر کر دیتا ہے۔ مکان اینٹوں سے بنتا ہے لیکن گھر سکون سے مگر ہمارے ہاں ترجیح اینٹوں کو دی جاتی ہے۔ بندہ بھوکا مر جائے، بچوں کو معیاری تعلیم نہ دلوا سکے، والدین کا علاج نہ کروا سکے، لیکن اس کے نام پر ایک پلاٹ ہونا ضروری ہے تاکہ مرنے کے بعد سوئم کے موقع پر لوگ کہہ سکیں کہ ’ماشا اللہ، مرحوم نے پیچھے جائیداد تو چھوڑی ہے۔‘ پھر ان نوجوانوں کا حال دیکھیں جو کچھ الگ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی لڑکا نوکری کے بجائے کاروبار کی بات کرے یا فری لانسنگ کے ذریعے ڈالرز کمانے کی کوشش کرے، تو گھر والے اور رشتہ دار اسے ’ویلا‘ قرار دے دیتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) جب تک آپ صبح نو سے پانچ بجے تک کسی دفتر کی فائلیں نہیں چاٹتے، تب تک آپ ’سیٹل‘ نہیں مانے جاتے۔ ’بیٹا، کرتے کیا ہو؟‘ یہ سوال نہیں بلکہ ایک طنز کا نشتر ہے۔ اگر آپ کہیں کہ میں آرٹسٹ ہوں، رائٹر ہوں یا یوٹیوبر ہوں، تو اگلا جملہ ہوگا وہ تو ٹھیک ہے، لیکن کام کیا کرتے ہو؟ یعنی تخلیقی کام یا اپنی پسند کا پیشہ اختیار کرنا ہمارے ہاں وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے۔ ہم ایک ایسی بھیڑ چال کا اب بھی شکار ہیں جہاں ڈاکٹر اور انجینئر بننا ہی کامیابی کی معراج ہے، چاہے وہ ڈاکٹر مریض کے بجائے صرف اپنی ڈگری دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہے۔ بدلتے ہوئے دور نے نئی نسل کو تھوڑا سا باغی بنا دیا ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ یہ بغاوت ضروری تھی۔ آج کا نوجوان یہ سمجھ چکا ہے کہ زندگی دوسروں کے سوالوں کے جواب دینے کا نام نہیں بلکہ اپنی شرائط پر جینے کا نام ہے۔ وہ ذہنی سکون کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک زہریلے رشتے میں بندھ جانے سے بہتر ہے کہ انسان تنہا رہ کر اپنی شخصیت پر کام کر لے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کرائے کے مکان میں ہنستے مسکراتے رہنا اس محل سے بہتر ہے جس کی بنیادیں قرض اور ذہنی تناؤ پر رکھی گئی ہوں۔ لیکن معاشرہ ابھی بھی تقریبا وہیں کھڑا ہے۔ ہم اب بھی دوسروں کے بیڈ روم سے لے کر ان کے بینک بیلنس تک ہر چیز میں جھانکنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی اپنی ایک ٹائم لائن ہوتی ہے۔ کسی کو منزل جلدی مل جاتی ہے، کسی کو دیر سے، اور کسی کی منزل وہ ہوتی ہی نہیں جو سب کو نظر آ رہی ہوتی ہے۔ اصلاح کا پہلو یہ ہے کہ ہمیں ’جیو اور جینے دو‘ کے فلسفے کو صرف سوشل میڈیا ایپس کے سٹیٹس تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ دوسروں کی زندگی میں تجسس دکھانا دراصل ہماری اپنی زندگی کے کھوکھلے پن کی علامت ہے۔ جب ہمارے پاس اپنی زندگی میں کرنے کو کچھ نہیں ہوتا، تو ہم دوسروں کے آنگن میں لگے درختوں کے پھل گننا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی کی شادی نہ ہونا، کسی کا بے اولاد ہونا یا کسی کا بے روزگار ہونا اس کا ذاتی مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن اس پر سوال اٹھانا ہماری بدتہذیبی ہے۔ ہمیں ہمدردی اور تجسس کے درمیان کی باریک لکیر کو پہچاننا ہوگا۔ دعا دینا اور حوصلہ بڑھانا ایک انسانی صفت ہے، جبکہ کریدنا اور طنز کرنا ایک معاشرتی بیماری ہے۔ آئیے تھوڑی دیر کے لیے دوسروں کے فیصلوں پر جج بننا چھوڑ دیں۔ اگر کوئی لڑکی اپنی تعلیم اور کیریئر کے لیے شادی میں تاخیر کر رہی ہے، تو وہ کسی بوجھ کے بجائے ایک مثال ہے۔ اگر کوئی نوجوان اپنی راہ تلاش کر رہا ہے، تو وہ نکما نہیں بلکہ ایک جدوجہد کرنے والا سپاہی ہے۔ زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اور اسے دوسروں کے ’لوگ کیا کہیں گے‘ کے خوف میں گزار دینا سب سے بڑی ناکامی ہے۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہیے جہاں لوگ ایک دوسرے سے یہ نہ پوچھیں کہ تم نے اب تک کیا حاصل کیا؟ بلکہ یہ پوچھیں کہ تم خوش تو ہو نا؟ خدارا لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، شاید وہ اپنے حال میں ہم سے زیادہ خوش ہوں، اگر ہم ان کے حال میں مخل ہونا چھوڑ دیں۔ نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ معاشرہ شادی ملازمت مکان ہم اب بھی دوسروں کے بیڈ روم سے لے کر ان کے بینک بیلنس تک ہر چیز میں جھانکنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی اپنی ایک ٹائم لائن ہوتی ہے۔ عروج رضا صیامی سوموار, مئی 11, 2026 - 06:30 Main image:
یہاں انسان پیدا ہوتے ہی ایک ایسے مقابلے کا حصہ بن جاتا ہے جس کی فنشنگ لائن کا کسی کو پتہ نہیں (اینواتو)
بلاگ type: news related nodes: پاکستان میں اے آئی سے بنے اشتہار سے جڑے اخلاقی سوال نور مقدم کیس میں اختلافی نوٹ: چند سلگتے سوالات نوجوانوں کے سوشل میڈیا پر پابندی ضروری نوجوان نسل موبائل فون کا استعمال تیزی سے ترک کیوں کر رہی ہے؟ SEO Title: ہماری زندگی اب اوپن ہاؤس نہیں ہے، برائے مہربانی! copyright: show related homepage: Hide from Homepage Go to News Site