Independent Urdu
افغانستان کے وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے آج کہا ہے کہ روس سے کیا گیا معاہدہ ’کوئی دفاعی یا سیکیورٹی معاہدہ نہیں بلکہ ایک فوجی تکنیکی (ملٹری ٹیکنیکل) معاہدہ ہے۔‘ ملا یعقوب رواں ہفتے منگل کو ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورم میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے تھے، جس میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دورے کے دوران روس نے طالبان کے ساتھ فوجی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد وہ دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے جس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ معاہدہ بدھ کو ماسکو میں منعقدہ ’انٹرنیشنل سکیورٹی فورم‘ میں ہوا، جس کی میزبانی روس نے کی اور طالبان کے وزیر دفاع و سینیئر رہنما محمد یعقوب نے شرکت کی۔ اس دورے کے بعد یہ تاثر لیا جا رہا تھا کہ ملا محمد یعقوب مجاہد روس کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ ان کی حکومت کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے۔ یہ طالبان حکام کی پہلی اعلیٰ سطحی شرکت ہے، جو روس کی جانب سے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے بعد ہوئی۔ افغانستان روس دفاعی معاہدہ پاکستان یہ طالبان حکام کی پہلی اعلیٰ سطحی شرکت ہے، جو روس کی جانب سے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے بعد ہوئی۔ انڈپینڈنٹ اردو اتوار, مئی 31, 2026 - 01:00 Main image: افغان وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد کابل میں 28 اگست 2022 کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی) پاکستان type: news related nodes: روس کا افغانستان سے فوجی معاہدہ، کیا طالبان اب یوکرین میں لڑیں گے؟ افغان طالبان کی حکومت سے ’مکمل شراکت داری‘ قائم کر رہے ہیں: روس روس امریکہ سمیت شراکت داروں سے تعاون پر تیار ہے: پوتن پاکستان کے خلاف القاعدہ کا حالیہ بیان اور افغان طالبان کی حمایت SEO Title: روس سے دفاعی نہیں ملٹری ٹیکنیکل معاہدہ ہے: وزیر دفاع افغانستان copyright: show related homepage: Hide from Homepage
Go to News Site