Collector
سندھ: 72 سرکاری سکول نجی اداروں کے حوالے، یہ ’ایڈاپشن پروگرام‘ ہے کیا؟ | Collector
سندھ: 72 سرکاری سکول نجی اداروں کے حوالے، یہ ’ایڈاپشن پروگرام‘ ہے کیا؟
Independent Urdu

سندھ: 72 سرکاری سکول نجی اداروں کے حوالے، یہ ’ایڈاپشن پروگرام‘ ہے کیا؟

محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے بھر میں مزید 72 سرکاری سکول مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام تعلیمی معیار بہتر بنانے اور کمیونٹی کی شمولیت بڑھانے کے لیے ’ایڈاپٹ آ سکول پروگرام پالیسی 2012‘ کے تحت کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے 13 مئی کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق نئے سکول کراچی، ٹنڈو الہیار، مٹیاری، میرپور خاص، دادو، حیدرآباد اور نوشہرو فیروز کے اضلاع میں واقع ہیں۔ یہ فیصلہ سات اپریل کو سیکریٹری تعلیم سندھ کی زیر صدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں سکول ایڈاپشن پروگرام کے تحت مزید سکول غیر سرکاری اداروں کے حوالے کرنے اور پہلے سے ایڈاپٹ کیے گئے سکولوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کی مدت میں توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی اور ٹنڈو الہیار کے 18، 18 سکول، مٹیاری کے 9، میرپور خاص کے 6، دادو کے 5، حیدرآباد کے 3 اور نوشہرو فیروز کے 2 سکول مختلف اداروں کو ایڈاپشن کے لیے دیے گئے ہیں۔ سکولوں کا انتظام سنبھالنے والے اداروں میں این جی وی مینیجمنٹ، کرن فاؤنڈیشن، ٹیلی کام فاؤنڈیشن، لغاری ایجوکیشن فاؤنڈیشن، پاک ہیلپ لائن ویلفیئر ٹرسٹ سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔ محکمہ تعلیم سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں تقریباً 40 ہزار سرکاری سکول موجود ہیں۔ ان میں سے اب تک 380 سکول مختلف اداروں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد ایڈاپٹر اس پروگرام کا حصہ ہیں۔ محکمہ تعلیم سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک 380 سکول مختلف اداروں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد ایڈاپٹر اس پروگرام کا حصہ ہیں (ممتاز جمالی/ انڈپینڈنٹ اردو) حکام کے مطابق حکومت اس ماڈل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مزید وسعت دینے پر غور کر رہی ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سیکریٹری سکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی نے کہا کہ سکول ایڈاپشن پروگرام کا مقصد سرکاری نظامِ تعلیم میں کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے کہا: ’جب تک کمیونٹی خود شامل نہیں ہو گی، اس وقت تک پورا نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتا۔ ایڈاپشن پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘ زاہد عباسی کے مطابق اس پروگرام کے تحت سکول کی ملکیت اور بنیادی انتظام حکومت کے پاس ہی رہتا ہے جبکہ سرکاری اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھتے ہیں، تاہم ایڈاپٹر ادارے اضافی سہولیات، انتظامی معاونت اور ترقیاتی کاموں میں تعاون فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل سے تعلیمی معیار میں بہتری آ سکتی ہے، بشرطیکہ نگرانی اور شفافیت کا نظام مؤثر ہو۔ سیکریٹری تعلیم کے مطابق سکول ایڈاپشن کی مدت ابتدائی طور پر تین سال ہوتی ہے، جس کے بعد کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان کے بقول کوئی بھی اہل این جی او، ریٹائرڈ سرکاری افسر یا سول سوسائٹی تنظیم طے شدہ پالیسی کے تحت سکول ایڈاپٹ کر سکتی ہے۔ لیاری میں واقع ’کارا بھائی کریم جی گورنمنٹ بوائز سیکنڈری سکول‘ اس پروگرام کی ایک مثال ہے، جسے تین سال قبل ہول فاؤنڈیشن نے ایڈاپٹ کیا تھا۔ حکام کے مطابق حکومت سکول ایڈاپشن کے ماڈل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مزید وسعت دینے پر غور کر رہی ہے (ممتاز جمالی/ انڈپینڈنٹ اردو) سکول میں اس وقت ایل ای ڈی سکرینز، سولر سسٹم، باکسنگ اور جمناسٹک کی تربیت، فٹ بال سمیت مختلف سہولیات دستیاب ہیں۔ سکول کے ایڈاپٹر حنین عباس کے مطابق ایڈاپشن کے بعد ادارے کی ذمہ داری صرف تدریس تک محدود نہیں رہتی۔ انہوں نے بتایا کہ ’جب کوئی سکول ایڈاپٹ کیا جاتا ہے تو اسے اپنے بچے کی طرح سنبھالنا ہوتا ہے۔ اس کی تعلیم، سہولیات اور انتظامی امور سب اسی ذمہ داری میں آتے ہیں۔‘ بقول حنین عباس، جب ان کے ادارے نے سکول سنبھالا تو طلبہ کی تعداد انتہائی کم تھی اور سکول تقریباً ویران دکھائی دیتا تھا، لیکن اب سکول میں نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوا ہے بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا: ’اب اسے ایک محفوظ اور فعال تعلیمی ماحول میں تبدیل کیا جا چکا ہے، جہاں طلبہ کے ساتھ ساتھ بچیوں اور ماؤں کے لیے بھی تعلیمی مواقع موجود ہیں۔‘ سکول نجکاری سندھ سرکاری سکول محکمہ تعلیم سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں تقریباً 40 ہزار سرکاری سکول موجود ہیں۔ ان میں سے اب تک 380 سکول مختلف اداروں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد ایڈاپٹر اس پروگرام کا حصہ ہیں۔ ممتاز جمالی منگل, جون 2, 2026 - 07:45 Main image: سیکریٹری سکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی کے مطابق سکول ایڈاپشن پروگرام کا مقصد سرکاری نظامِ تعلیم میں کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینا ہے (ممتاز جمالی/ انڈپینڈنٹ اردو) کیمپس jw id: h3NlUEbl type: video related nodes: سندھ: سرکاری سکولوں میں اساتذہ حاضری کا فیس ریکگنیشن نظام متعارف پاکستان میں ’ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر‘، تعلیم کی فراہمی کا آئینی وعدہ ناکام؟ پنجاب سکولوں میں اساتذہ کے لیے گاؤن لازمی کرنے پر نئی بحث کئی زبانیں بولنے والی دیر بالا کی شمائلہ سکول کے بجائے انٹرنیٹ سے سیکھتی ہیں SEO Title: سندھ: 72 سرکاری سکول نجی اداروں کے حوالے، یہ ’ایڈاپشن پروگرام‘ ہے کیا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Go to News Site