Collector
سمن کلیان پور: وہ آواز جسے لوگ لتا منگیشکر سمجھتے رہے | Collector
سمن کلیان پور: وہ آواز جسے لوگ لتا منگیشکر سمجھتے رہے
Independent Urdu

سمن کلیان پور: وہ آواز جسے لوگ لتا منگیشکر سمجھتے رہے

یہ سال تھا 1965، جب جب پھول کھلے کی ریلیز سے پہلے اس کے گیت ہندوستان میں کھلبلی مچا رہے تھے۔ مزے دار، رومانوی گیت، ’نا نا کرتے پیار تم ہی سے کر بیٹھے ہیں‘ سامعین کے دلوں میں بجلیاں بھر رہا تھا۔ سننے والے رفیع اور لتا کی آواز میں ایک اور شاہکار انجوائے کر رہے تھے۔ برسوں بعد، 1980 کی دہائی میں، جب دور درشن کے مقبول پروگرام ’چھایا گیت‘ میں اس گانے کا تعارف لتا منگیشکر اور محمد رفیع کے نام سے کروایا گیا تو کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔ مگر ’چارول‘ نامی ایک لڑکی کو بہت برا لگا، اس نے دفتر فون کیا اور نشاندہی کی کہ گانے کی گلوکارہ ان کی والدہ ہیں، لتا منگیشکر نہیں۔ کوئی ان کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا۔ سب کو لگتا تھا کہ یہ لتا جی کی آواز ہے۔ لاکھوں سامعین ہی نہیں بلکہ گیتوں کے ایکسپرٹ بھی برسوں تک دھوکہ کھاتے رہے۔ ان کے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ آواز لتا کی نہیں سمن کلیان پور کی ہے۔ ایک ایسی آواز جو ساری زندگی لتا کی آواز سے مماثلت کی سزا سہتی رہی، انعام پاتی رہی۔ سزا یوں کہ اپنی الگ پہچان بہ بنا سکی، انعام یوں کہ بہت سے گیت انہیں اسی وجہ سے ملے کہ لتا جیسی آواز ہے۔ سمن کلیان پور لتا، آشا یا شمشاد بیگم کی طرح اپنے عہد کی پہنچان نہیں ہیں۔ بمبئی کی فلم انڈسٹری میں جن آوازوں نے بڑے بڑے محل کھڑے کیے، ان میں سمن کا چھوٹا بڑا الگ چوبارہ نہیں ہے جسے دور سے پہچانا جا سکے۔ لیکن پہچان کے بغیر ہم آپ گھنٹوں وہاں بیٹھ کر زندگی کی تھکن اتار سکتے ہیں۔ سمن کلیان پور کی زندگی ایسی گلوکارہ کی داستان لگتی ہے جس نے درجنوں یادگار نغمے گائے، محمد رفیع، طلعت محمود اور دوسرے بڑے فنکاروں کے ساتھ کام کیا، مگر اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس وضاحت میں گزارا کہ ’نہیں، یہ آواز لتا منگیشکر کی نہیں ہے، یہ میری آواز ہے، میری آواز۔‘ سمن کلیان پور کوئی اپنی طرز کی واحد مثال نہیں، فن کی دنیا میں بہت سے اعلی فنکار دوسروں کے سائے میں ایک خاص سطح پر رہتے ہیں، شہرت کئی دفع نقالی کرنے والوں پر زیادہ مہربان ہو جاتی ہے۔ سمن کلیان پور کی زندگی کا آغاز تقسیمِ ہند سے پہلے کے بمبئی میں ہوا۔ وہ پانچ بہنوں میں سب سے بڑی تھیں۔ گھر روایتی اور قدامت پسند تھا۔ آج حالات جو ہیں انہیں دیکھ کر ستر اسی سال پہلے کا اندازہ لگائیں۔ لڑکیوں کے لیے باہر کھیلنا یا آزادانہ گھومنا پھرنا ایسی حیرت تھی جو محلے میں ایک آدھ گھر کو ہی میسر آتی۔ بنگالی گھرانے کی لڑکی کے لیے البتہ گانا کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ اکثر گھروں میں چلتا، دھرم کا حصہ تھا، ثقافت کا چولا اسی دھاگے سے بُنا ہوا تھا۔ سمن کلیان پور کے والدین بھجن بہت شوق سے سنتے تھے۔ پہلے گھر، پھر پڑوس اور بعد میں محلے تک جہاں مزہبی اجتماع ہوتا، سمن کی آواز میں بھجن لازمی تھی۔ ایسی ہی ایک محفل میں ڈی بی جوگ نے ان کی آواز سنی اور بہت تعریف کی۔ جوگ مراٹھی فلموں سے وابستہ تھے اور سمن کے والد کے دوست بھی تھے۔ انہوں نے سمن سے اپنی فلم شاؤچی چاندنی (1953) کے لیے گانے کی درخواست کی۔ والد نے اجازت دے دی اور یوں پہلی بار سمن کلیان پور ایک ریکارڈنگ اسٹوڈیو کے اندر داخل ہوئیں۔ فلم کبھی مکمل کامیاب نہ ہو سکی، مگر سمن کی زندگی کا راستہ بدل چکا تھا۔ ایک نئے امکان نے خوابوں کی خندق کھودنا شروع کر دی تھی۔ ہر فنکار کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جو اس کے مستقبل کا رخ متعین کر دیتا ہے۔ جوگ سے ملاقات سمن کلیان پور کے لیے ایسا ہی لمحہ تھا؟ یا ایسا لمحہ طلعت محمود کی شاباشی تھی؟ میرا ووٹ طلعت کے حق میں ہے۔ سولہ برس کی سمن ممبئی کے معروف سر جے جے سکول آف آرٹ کی طالبہ تھیں، ایک کالج تقریب میں انہیں بھی گانا تھا۔ سامعین میں اپنے زمانے کے مقبول ترین گلوکاروں میں سے ایک طلعت محمود بھی موجود تھے۔   تقریب کے بعد انہوں نے سمن کی آواز کی تعریف کی، شاباش دی اور انہیں ایچ ایم وی ریکارڈ کمپنی سے متعارف کروایا۔ یہ ایک معمولی واقعہ معلوم ہو سکتا ہے، مگر اس زمانے میں کسی نئے گلوکار کے لیے اس سے بڑی سفارش شاید ہی کوئی ہوتی۔ ریکارڈ کمپنی کے بعض اہلکاروں نے ان کی آواز کو ’امیچور‘ قرار دیا۔ ان کے خیال میں اس آواز میں وہ پختگی نہیں تھی جو فلمی دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری سمجھی جاتی تھی۔ مگر قسمت کا اپنا چلن ہے، یہ اکثر ماہرین کی کی آراء دیوار پہ جا مارتی ہے، خاص طور پر آرٹس میں۔ سمن کو فلم دروازہ (1954) میں گانے کا موقع مل گیا۔ مزے کی بات یہ کہ ان کا پہلا بڑا فلمی گیت طلعت محمود کے ساتھ ایک ڈوئیٹ تھا، ’ایک دل، دو ہیں طلبگار۔‘ موسیقی ناشاد کی تھی۔ یہ فلم شاہد لطیف نے بنائی تھی جس کی کہانی، مکالمے اور سین معروف ادیبہ اور افسانہ نگار عصمت چغتائی نے لکھے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے سمن کلیان پور کے لیے دیگر فلموں کے دروازے بھی کھلنے لگے۔ چھوڑو چھوڑو موری بیاں، نہ تم ہمیں جانو، اور تم نے پکارا اور ہم چلے آئے، آنے والے برسوں میں ان کے چند یادگار گیت تھے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بھارتی فلمی موسیقی میں لتا منگیشکر کا مقام اتنا بلند ہے کہ کئی دہائیوں تک خواتین پلے بیک سنگنگ کا معیار تقریباً انہی کی آواز سمجھی جاتی رہی۔ سمن کلیان پور کی آواز کا رنگ اور لہجہ بعض اوقات لتا منگیشکر سے اتنا قریب محسوس ہوتا تھا کہ لوگ فرق نہیں کر پاتے تھے۔ یہ مشابہت کبھی کبھی اس حد تک پہنچ جاتی کہ سمن کے گائے ہوئے گیت بھی لتا منگیشکر کے کھاتے میں ڈال دیے جاتے۔ انہوں نے اپنی شناخت بنانے کی کوشش ضرور کی، مگر وہ ایک ایسے دور میں ابھریں جب لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے جیسی عظیم گلوکارائیں پہلے ہی موسیقی کی دنیا پر راج کر رہی تھیں۔ لتا سے ملتی جلتی آواز کا سمن کلیان پور کو سب سے زیادہ فائدہ 1960 سے 1965 کے دوران ہوا۔ یہ وہ دور ہے جب لتا اور رفیع رائلٹی ایشو کی وجہ سے ایک ساتھ نہیں گا رہے تھے۔ اس وقت سمن کلیان پور کو بہت سے خوبصورت گیت گانے کا موقع ملا اور وہ بالی وڈ میں ہمیشہ یاد رکھے جانے والے گیت گانے میں کامیاب رہیں۔ ویسے بھی بالی ووڈ جیسی بے رحم دنیا میں لاکھوں لوگ خوابوں کا بوجھ اٹھائے آتے ہیں، عمر کے بہترین برس جدوجہد میں گزار دیتے ہیں، مگر کامیابی کی سیڑھی چڑھنا تو دور، اسے قریب سے دیکھ بھی نہیں پاتے۔ سمن کلیان پور اس حساب سے بہت خوش قسمت تھیں کہ کسی لمبی چوڑی سٹرگل کے بغیر سو سے زیادہ فلموں کے گیت گانے میں کامیاب رہیں۔ موسیقی لتا منگیشکر انڈیا بالی وڈ لاکھوں سامعین ہی نہیں بلکہ گیتوں کے ایکسپرٹ بھی برسوں تک دھوکہ کھاتے رہے۔ ان کے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ آواز لتا کی نہیں سمن کلیان پور کی ہے۔ فاروق اعظم جمعرات, جون 4, 2026 - 06:45 Main image: سمن کلیان پور کی آواز کا رنگ اور لہجہ بعض اوقات لتا منگیشکر سے اتنا قریب محسوس ہوتا تھا کہ لوگ فرق نہیں کر پاتے تھے(تصویر: سمن سوگند انسٹاگرام) موسیقی type: news related nodes: جب لتا منگیشکر اور سچن دیو برمن کے درمیان غلط فہمیوں نے جنم لیا جب لتا منگیشکر نے دلیپ کمار کے طنز کا بدلہ دس سال بعد لیا بھارت کی نامور گلوکارہ لتا منگیشکر کرونا کے باعث چل بسیں جب لتا منگیشکر کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کی گئی SEO Title: سمن کلیان پور: وہ آواز جسے لوگ لتا منگیشکر سمجھتے رہے copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Go to News Site