Independent Urdu
تصور کریں کہ ایک ایسی دنیا جہاں نہ ماں کی لوری کی آواز سنائی دے اور نہ ہی باپ کے پکارنے کی، جہاں ہر طرف صرف ایک گہری اور نہ ختم ہونے والی خاموشی ہو۔ سات سالہ کشف صدیق کے لیے بھی یہ خاموشی ہی اس کی کل کائنات تھی، لیکن پھر کلاس روم میں ایک ایسا دن آیا جس نے اس کی تاریک دنیا میں آوازوں کے رنگ بھر دیے۔ کلاس کے بورڈ پر چند بنیادی الفاظ لکھے ہیں اور ٹیچر حافظہ عافیہ دستگیر محبت بھرے لہجے میں کشف سے پوچھتی ہیں، ’گورنمنٹ نے جو آپ کو ہیئرنگ ایڈ دیے ہیں، کیا آپ ان سے خوش ہو؟ کیا اب آپ کو آواز آتی ہے؟‘ کشف کے چہرے پر ایک چمک ابھرتی ہے اور وہ پورے اعتماد سے جواب دیتی ہے، ’بہت آواز آتی ہے۔‘ ٹیچر مسکراتے ہوئے بورڈ کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور کشف بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ’امی‘ اور ’ابو‘ پڑھ کر سناتی ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ٹیچر حافظہ عافیہ بتاتی ہیں کہ یہ محض ایک کلاس روم کی سرگرمی نہیں بلکہ ان بچوں کی زندگی کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آلہ سماعت لگنے سے پہلے ان بچوں کے پاس نہ الفاظ تھے اور نہ ہی اعتماد، وہ اس خوف کا شکار رہتے تھے کہ سنیں گے کیسے اور بولیں گے کیسے؟ لیکن اب باقاعدہ سپیچ تھراپی کے بعد یہ بچے نہ صرف اپنے احساسات کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں بلکہ ان میں بلا کا کانفیڈنس آ چکا ہے۔ یہ معجزاتی تبدیلی صرف سکول تک محدود نہیں، بلکہ گھروں کے آنگن بھی اس سے روشن ہوئے ہیں۔ کشف کی والدہ شہناز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان جذباتی لمحات کا ذکر کیا جب ان کی بیٹی نے پہلی بار آواز سنی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کا کہنا تھا کہ پہلے کشف عام بچوں جیسی نہیں تھی اور وہ صرف اشاروں کے سہارے جیتی تھی جس کی وجہ سے ایک عجیب سی بے بسی کا احساس رہتا تھا، لیکن اب جب وہ اسے آواز دیتی ہیں تو وہ فوراً پلٹ کر دیکھتی ہے، بات سمجھتی ہے اور باقاعدہ جواب دیتی ہے۔ ایک چھوٹی سی بچی کی زندگی میں آنے والی یہ بڑی تبدیلی دراصل ملتان ڈویژن میں جاری اس وسیع تر کاوش کا نتیجہ ہے جس نے سینکڑوں خاندانوں کی زندگی بدل دی ہے۔ کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان نے اس ماسٹر پراجیکٹ کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ڈویژن کی 14 تحصیلوں کے 30 سے زائد خصوصی اداروں میں جب 3030 بچوں کی سکریننگ کی گئی تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ 300 سے زائد بچے محض ایک ہیئرنگ ایڈ نہ ہونے کی وجہ سے قوتِ سماعت سے محروم ہیں۔ چونکہ ایک معیاری ہیئرنگ ایڈ 60 سے 70 ہزار روپے، اور دونوں کانوں کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کا آتا ہے جو لوئر مڈل کلاس اور غریب خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ نے مخیر حضرات اور بزنس کمیونٹی کو متحرک کیا۔ کمشنر ملتان کا کہنا تھا کہ ان کا ماڈل صرف آلات کی تقسیم اور فوٹو سیشن تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ ذاتی طور پر اس کا فالو اپ کر رہے ہیں تاکہ بچوں کی سپیچ تھراپی اور آلات کے درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ لودھراں کی ایک تقریب کا انتہائی جذباتی آنکھوں دیکھا حال سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب دو بچیوں کو ان کے سامنے آلات لگائے گئے اور انہوں نے پہلی بار سن کر اپنی معصوم زبان میں شکریہ ادا کیا، تو ان کے چہروں پر جو خوشی تھی وہ ہمیشہ کے لیے ان کے ذہن پر نقش ہو گئی ہے۔ وہ پرامید ہیں کہ آج جن 300 بچوں کو اس خاموشی کے قید خانے سے نکالا گیا ہے، جنہیں شاید ساری عمر ڈس ایبلڈ سمجھا جاتا، کل یہی بچے معاشرے کا کارآمد حصہ بن کر ڈاکٹرز، انجینیئرز اور سول سرونٹس بنیں گے، اور کوئی عجب نہیں کہ انہی میں سے کوئی ایسا موٹیویشنل سپیکر بن کر ابھرے جو دنیا کو بتائے کہ خاموشی کو مات دے کر زندگی کے بڑے اہداف کیسے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ملتان صحت پنجاب کیمپس خواتین کمشنر ملتان ڈویژن کے مطابق 30 سے زائد خصوصی اداروں میں جب 3030 بچوں کی سکریننگ کی گئی تو یہ انکشاف ہوا کہ 300 سے زائد بچے محض ایک ہیئرنگ ایڈ نہ ہونے کی وجہ سے قوتِ سماعت سے محروم ہیں۔ محمد وسیم اتوار, جون 7, 2026 - 07:45 Main image: ملٹی میڈیا jw id: 1rdI9IHI type: video related nodes: ’پروفیسر نے آلہ سماعت کو ہینڈز فری قرار دے کر فیل کر دیا‘ اے آئی چشمے جو دیں ’سپر پاور‘ جیسی سماعت ملتان کا ہسپتال جہاں سماعت اور گویائی سے محروم بچوں کا مفت علاج ہوتا ہے قوت گویائی و سماعت سے محروم کاریگر جن کا ہنر بولتا ہے SEO Title: ملتان: کیسے صرف ہیرنگ ایڈ نے کشف جیسے 300 بچوں کی زندگی بدل دی copyright: show related homepage: Hide from Homepage
Go to News Site