Independent Urdu
ڈرائیور نے بس ہوسٹس سے پوچھا: ’عید کیسی گزری؟‘ اس وقت چلنے والی تھی بس، آخری مسافر چڑھ رہے تھے، تو یہ بات میرے کانوں میں بھی پڑ گئی۔ بس ہوسٹس نے جواب دیا: ’عید نہیں اچھی گزری، بالکل بھی نہیں۔ بہت گرمی تھی، بڑے مسئلے تھے۔‘ ڈرائیور ہنس کر بولا ’عید ہی تو ہوتی ہے جو اچھی گزرتی ہے۔‘ اس نے پھر وہی جواب دیا ’بس نہیں اچھی گزری نا۔‘ اصل میں اب یہ نارمل ہو گیا ہے کہ ہمیں عیدیں، تہوار، سالگرہیں، سب کچھ زبردستی اچھا بنانا پڑتا ہے۔ لوگوں کو بتانا پڑتا ہے کہ دیکھو بھئی ہم کتنی پرفیکٹ زندگی گزار رہے ہیں، ہمارے پاس یہ سب کچھ ہے، ہم نے ایسا برتھ ڈے ڈیکور کیا، فلاں کی شادی میں ایسا جوڑا پہنا، اتنے لاکھ کا جانور لیا، ہم نے فلاں جگہ چھٹیاں گزاریں، اس طرح عید منائی، ہم نے یہ سیلفی لگائی۔ یہ کیا، وہ کیا، اور جو کچھ ہو سکتا تھا وہ کیا! آپ پر خدا کا کرم ہے، مجھ پہ اس کی رحمتیں ہیں، الحمدللہ، لیکن یار، وہ لوگ بھی تو ہیں اس دنیا میں جن کی عیدیں اچھی نہیں گزرتیں؟ اگر کسی کی عید اچھی نہیں گزری تو بھی کوئی بات نہیں۔ عید ایک دن ہے، اس کی اپنی اہمیت ہے، ہماری زندگی، ہماری ثقافت کا تہوار ہے، لیکن کوئی عید ایسی بھی ہو سکتی ہے جو اچھی نہ گزری ہو۔ اس کو زبردستی اچھا تو نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح باقی تہواروں کا معاملہ ہے۔ اصل میں اب یہ تہوار کم اور سوشل پریشر زیادہ بن گئے ہیں۔ آپ جوڑے لینے جائیں تو قیمتیں آسمان پر ہیں، تہوار کی کوئی بھی شاپنگ کریں تو اس کے پیچھے بھی دکھاوا بنیادی چیز ہے، ظاہر ہے یہ ہمیشہ سے تھا اور شاید ہمیشہ رہے گا، لیکن اب اس سب میں مسئلہ یہ ہے کہ اتنا کچھ کر لینے کے باوجود اگر کسی کی عید اچھی نہیں گزری تو اسے ایب نارمل بات نہیں سمجھنا چاہیے، نہیں گزری اچھی تو بس نہیں گزری، لیو اٹ، جو بھی وجہ تھی۔ بھائی، عیدیں وہ ہوتی تھیں جو بچپن والی تھیں، جب تک آپ سات آٹھ سال کے تھے، وہ دن اور تھے، تب تک ہماری آنکھوں نے بہت کچھ دیکھا نہیں تھا، ہمارے کانوں نے بہت کچھ سنا نہیں تھا اور ہمارے دماغوں نے بہت کچھ جانا نہیں تھا۔ ہماری عید ننھی منی خواہشوں کا نام تھا، اب تو ننھے منوں کی خواہشیں بھی ہمارے قد سے بڑی ہیں۔ تو اب عیدیں کیسے اچھی ہو سکتی ہیں؟ بس ٹھیک ہے جو سمجھ آتا ہے وہ کریں اور سکون سے خوشیاں نبھائیں۔ میں پچھلے کئی سال سے اپنی سالگرہ کے دن خاص طور پر وال بند کر دیتا ہوں، قریبی لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ بھائی ایویں وش مت کرو، وجہ یہی ہے کہ مجھے سالگرہ سمجھ نہیں آتی، ایک دن ہے، اس دن آپ پیدا ہو گئے تھے، اب اس کو کیا سیلیبریٹ کریں؟ مجھے عجیب سا لگتا ہے۔ ایک مفت کی مبارک باد ہے، کس چیز کی مبارک باد؟ کیا ہوا؟ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) جسے اچھی لگتی ہے، وہ ضرور منائے، بھئی گھر والے منائیں، میں خوشی سے شریک ہوتا ہوں اور ہوں گا لیکن خود مجھے برتھ ڈے کیپ پہنا کر موم بتیوں کو پھونک مارنا اب سمجھ نہیں آیا۔ یہ سب باتیں میں عید والے دن بھی کہہ سکتا تھا، اپنی سالگرہ والے دن بھی لکھ سکتا تھا، لیکن ہوتا یہ ہے کہ کچھ لوگ دوسروں کی عیدیں اپنے سٹیٹس سے خراب کر دیتے ہیں، تو وہ نئیں کرنا بابا۔ کہنا بس یہ چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنی ہر خوشی، ہر تہوار، ہر جشن کو اتنا زیادہ اوورویلمنگ بنا دیا ہے کہ اب دل ہی نہیں کرتا کچھ کرنے کو ۔۔۔ خوشی ہوتی ہے آس پاس سب کو اچھے کپڑوں میں دیکھ کے، ایکسائیٹڈ دیکھ کے، لیکن کب تک؟ بس ہو گیا، دیکھ لیا، جتنا کرنا تھا کر لیا۔ اس بس ہوسٹس کی اگلی عیدیں خدا اچھی کرے، یہ بھی اس کی وجہ سے خیال آ گیا تو کہہ دیا کہ جو لوگ اس دنیا میں ایسے ہیں کہ جن کی عید نہیں اچھی ہوئی اور وہ بتا بھی رہے ہیں، تو بابا وجہ وغیرہ مت پوچھیں ۔۔۔ بس مان لیں کہ نہیں گزری اچھی اور سکون سے اپنا اپنا کام کریں ایویں کی حیرانیاں مت دکھائیں، اندر سے آپ بھی میں ہیں، میں بھی آپ ہوں اور شاید اپن دونوں وہ بس ہوسٹس ہی ہیں! اللہ سب کی عیدیں اچھی رکھے، آباد رکھے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ زندگی عید تہوار سالگرہ ہماری عید ننھی منی خواہشوں کا نام تھا، اب تو ننھے منوں کی خواہشیں بھی ہمارے قد سے بڑی ہیں۔ حسنین جمال سوموار, جون 8, 2026 - 07:30 Main image: (اے ایف پی) بلاگ jw id: o20QxvKw type: video related nodes: بہن کا حصہ نہ دینے والے مرد اور آبائی قبرستان کی حسرت آپ ڈاکٹروں کے لیے منا بھائی والے سبجیکٹ کب بنے؟ اقبال حسین کی تصویروں میں شناخت کا دکھ آپ کی عزت ڈنڈے کے زور پہ ہے یا اصل والی؟ SEO Title: بس ہوسٹس کی عید اور ہماری پرفیکٹ زندگی کی ان تھک مبارکیں copyright: show related homepage: Hide from Homepage
Go to News Site