Independent Urdu
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور کا کراچی کے آغا خان ہسپتال میں علاج جاری ہے جہاں اب ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے، تاہم دونوں آنکھوں کی اطراف میں زخم آنے کے باوجود ان کی بینائی محفوظ ہے اور ماہرین ان کی صحت یابی کے لیے پرامید ہیں۔ کوئٹہ کے سینڈیمن سول ہسپتال میں، چھ جون کو، پیش آنے والے اس واقعے سے صحت کے شعبے سے وابستہ پروفیشنلز اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کی۔ واقعے کے تقریباً چار گھنٹے بعد ڈاکٹر ماہ نور کو خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی کےآغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پلاسٹک سرجری اور امراض چشم کے ماہرین ان کا علاج کر رہے ہیں۔ حکومت بلوچستان اور سندھ حکومت بھی ان کے علاج اور بحالی کے عمل کی نگرانی کر رہی ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کی حالت پہلے سے بہتر اور تسلی بخش ہے۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی بینائی محفوظ ہے، جو علاج کے عمل میں ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ 28 فروری، 2024 کی اس تصویر میں کوئٹہ پولیس کے اہلکار ایک سڑک پر سکیورٹی کے لیے کھڑے دکھائی دیتے ہیں(اے ایف پی) ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے مریضہ کا تفصیلی معائنہ مکمل کر لیا ہے، جس میں پلاسٹک سرجن اور آئی سپیشلسٹ بھی شامل ہیں۔ ابتدائی ٹیسٹ اور طبی معائنے مکمل ہونے کے بعد انہیں سپیشل کیئر یونٹ منتقل کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت مسلسل مانیٹر کی جا رہی ہے اور آئندہ 24 گھنٹے کے بعد دوبارہ طبی معائنہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کو کراچی میں ڈاکٹر ماہ نور کی عیادت کی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ماہ نور کا علاج بہترین انداز میں جاری ہےاور ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو ڈاکٹر ماہ نور کی فیشل سرجری کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک میں علاج کرایا جائے گا۔ حکومت بلوچستان ان کے علاج اور بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔‘ ادھر سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید بھی آغا خان اسپتال پہنچیں اور ڈاکٹر ماہ نور کی عیادت کی۔ انہوں نےانڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’اسپتال کے ماہرین نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت پہلے سےبہتر ہے اور ان کی بینائی محفوظ ہے، تاہم چہرہ نسبتاً زیادہ متاثر ہوا ہے، جس کے علاج کے لیے پلاسٹک سرجری کیٹیم مسلسل کام کر رہی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) سعدیہ جاوید کے مطابق: ’ڈاکٹر ماہ نور انتہائی بہادر اور حوصلہ مند خاتون ہیں۔ پلاسٹک سرجری کے عمل میںکچھ وقت لگ سکتا ہے، تاہم ڈاکٹروں کو امید ہے کہ علاج اور سرجری کے بعد ان کے چہرے کی حالت میں نمایاں بہتریآئے گی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کر رہی ہیں،جب کہ سندھ حکومت متاثرہ ڈاکٹر کے علاج کے لیے تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کرے گی۔ واقعے کا پس منظر ہفتے کو کوئٹہ کے سینڈیمن سول ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں ایک لفٹ آپریٹر نے مبینہ طور پر ڈاکٹر ماہ نور پرتیزاب پھینکا تھا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئی تھیں۔ واقعے کے بعد انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کےبعد کراچی منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق تیزاب گردی میں ملوث ملزم ہمایوں شاہ واقعے کے بعد فرار ہو گئے تاہم سرچ آپریشن کے دوران انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے ہتھیار ڈالنے کی ہدایت پر فائرنگ کی، جس کے بعد جوابی کاروائی میں وہ مارے گئے۔ کوئٹہ تیزاب گردی ڈاکٹر بلوچستان ڈاکٹروں کے مطابق دونوں آنکھوں کی اطراف میں زخم آنے کے باوجود ڈاکٹر ماہ نور کی بینائی محفوظ ہے اور ماہرین ان کی صحت یابی کے لیے پرامید ہیں۔ صالحہ فیروز خان سوموار, جون 8, 2026 - 12:15 Main image: کوئٹہ میں تیزاب حملے سے متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور کو علاج کے لیے کراچی منتقل کیا جا رہا ہے (تصویر: عبداللہ زہری) پاکستان jw id: z5veMsYe type: video related nodes: خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم ’پولیس مقابلے‘ میں مارا گیا تیزاب حملہ: شہزاد اکبر کی حکومت پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی نابالغ لڑکی کے شادی سے انکار پر تیزاب پلانے والا گرفتار: ساہیوال پولیس تیزاب سے حملہ کرنے والے نے کہا ’تم میری نہیں تو کسی کی نہیں‘ SEO Title: تیزاب حملے سے ڈاکٹر ماہ نور کا ’13 فیصد جسم متاثر‘، حالت میں بہتری copyright: show related homepage: Hide from Homepage
Go to News Site