Independent Urdu
امریکی ٹینس کی عظیم کھلاڑی سرینا ولیمز پیشہ ورانہ ٹینس میں واپسی کرنے جا رہی ہیں۔ 44 سال کی عمر میں وہ اس ماہ کے آخر میں کوئینز کلب میں ڈبلز مقابلوں میں حصہ لیں گی۔ اے ایف پی سپورٹس نے ایسے پانچ دیگر بڑے کھلاڑیوں کا جائزہ تیار کیا ہے جنہوں نے کھیلوں میں دوبارہ واپسی کی، اور بعض کے لیے واقعی یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی کہ زندگی چالیس برس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ ایلیسن فیلکس امریکی ایتھلیٹ ایلیسن فیلکس پیرس 2024 اولمپینز کی جانب سے آئی او سی ایتھلیٹس کمیشن کی نئی رکن کے طور پر پیرس 2024 اولمپک گیمز کی اختتامی تقریب میں 11 اگست 2024 کو سینٹ ڈینس میں منعقدہ سٹاڈ ڈی فرانس میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں ہاتھ ہلا رہی ہیں (فرانک فائف / اے ایف پی) اولمپک ایتھلیٹکس کی تاریخ میں 11 تمغوں کے ساتھ سب سے زیادہ اعزازات حاصل کرنے والی خاتون کھلاڑی ہونے کے باوجود ایلیسن فیلکس مزید کامیابیوں کی خواہش رکھتی ہیں اور 2028 میں اپنے آبائی شہر لاس اینجلس میں واپسی کا ارادہ رکھتی ہیں۔ چالیس سالہ امریکی ایتھلیٹ کے پاس انفرادی مقابلوں میں صرف ایک طلائی تمغہ ہے، جو انہوں نے 2012 کے لندن اولمپکس میں 200 میٹر دوڑ میں جیتا تھا۔ اپریل میں انہوں نے ٹائم میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’یہ زندگی میں صرف ایک بار ملنے والا موقع ہے کہ میں اپنے شہر میں کھیل میں واپسی کروں۔‘ ایلیسن نے عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ریکارڈ 20 تمغے بھی جیتے، جن میں چار انفرادی عالمی اعزاز شامل ہیں۔ تاہم وہ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں حقیقت پسند رہیں۔ انہوں نے کہا: ’میں جانتی ہوں کہ 40 سال کی عمر میں میں اپنی بہترین فارم میں نہیں ہوں۔ اس بارے میں مجھے کوئی غلط فہمی نہیں۔‘ لنڈسے وون امریکی سکیئنگ کی لیجنڈ لنڈسے وون کی واپسی کا اختتام اگرچہ اس سال کے سرمائی اولمپکس میں ایک خوفناک حادثے کے بعد ہسپتال کے بستر پر ہوا، جہاں ان کی بائیں ٹانگ کٹنے کے قریب تھی، لیکن کچھ عرصے تک ایسا لگتا تھا کہ ان کی کہانی کا اختتام کسی پریوں کی کہانی جیسا ہوگا۔ 2010 کی اولمپک ڈاؤن ہِل چیمپئن وون تقریباً چھ سال کے وقفے کے بعد 40 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ ختم کرکے واپس آئیں اور گذشتہ سیزن میں ورلڈ کپ کی دو ڈاؤن ہِل ریسیں جیتیں۔ تاہم، میلانو-کورٹینا اولمپکس میں پہنچتے وقت ان کے بائیں گھٹنے کے پٹھے پہلے ہی پھٹے ہوئے تھے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اپریل میں انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی واپسی پر کوئی پچھتاوا نہیں اور اگر موقع ملا تو وہ ’یہ سب دوبارہ کریں گی۔‘ ای ایس پی این سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’میں اپنی عمر کے باوجود مضبوط تھی اور مکمل طور پر تیار تھی۔‘ جارج فورمین جارج فورمین 1973 میں ہیوی ویٹ عالمی اعزاز جیتنے کے وقت ایک سخت مزاج شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے اسی سال ’سموکن جو‘ فریزیئر کو ان کی پہلی شکست دی، لیکن ایک سال بعد انہیں اس وقت کے زائیر میں ہونے والے تاریخی مقابلے ’رمبل اِن دی جنگل‘ میں محمد علی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ’بگ جارج‘ نے 1977 میں باکسنگ چھوڑ دی، لیکن 10 سال بعد 38 سال کی عمر میں دوبارہ رنگ میں اترے۔ نہ صرف ان کے مکے اب بھی طاقتور تھے بلکہ ان کی شخصیت بھی بدل چکی تھی۔ سخت مزاجی کی جگہ خوش مزاجی اور حاضر جوابی نے لے لی تھی۔ 45 سال کی عمر میں وہ دوبارہ ہیوی ویٹ عالمی چیمپئن بن گئے جب انہوں نے اپنے سے 19 سال کم عمر مائیکل مورر کو شکست دی۔ 2023 میں اپنے دونوں عالمی اعزازات کو یاد کرتے ہوئے فورمین نے کہا: ’جب آپ ہیوی ویٹ عالمی چیمپئن شپ کے لیے لڑتے ہیں تو یہ ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے، جیسے شاید یہ سب ایک خواب ہو۔ ’آپ سوچتے ہیں کہ ابھی آنکھ کھل جائے گی اور آپ کا ان بڑے باکسرز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ دوسری مرتبہ میں ان خیالات سے نمٹنے کے قابل تھا۔ یہ لمحہ خاص تھا، شاید اس فتح سے بھی زیادہ خاص جو میں نے فریزیئر کے خلاف حاصل کی تھی۔‘ مائیکل شوماکر جرمن فارمولا ون لیجنڈ مائیکل شوماکر نے بہت سوں کو حیران کر دیا جب تین سال کے وقفے کے بعد انہوں نے 41 سال کی عمر میں 2010 کے سیزن کے لیے واپسی کا اعلان کیا۔ ان کی واپسی جرمن موٹر ریسنگ کی ایک اور بڑی طاقت ’مرسیڈیز‘ کے ساتھ ہوئی، جو خود بھی 1955 کے بعد پہلی بار فارمولا ون میں واپس آئی تھی۔ مرسیڈیز کے ساتھ اپنے تین سیزن کے دوران وہ ایک اور عالمی اعزاز جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکے، لیکن 2012 کے یورپی گراں پری میں 43 سال کی عمر میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے وہ 1970 کے بعد سب سے معمر ڈرائیور بن گئے جو پوڈیم تک پہنچا۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ انہوں نے واپسی کرکے غلطی کی، جن میں ان کے سابق مینیجر ولی ویبر بھی شامل تھے۔ ویبر نے 2020 میں کہا: ’بعد میں سوچیں تو یہ شاید سب سے غیر دانش مندانہ فیصلہ تھا جو وہ کر سکتے تھے۔‘ لیسٹر پگٹ بہت سے ماہرین کے نزدیک تاریخ کے عظیم ترین جوکی لیسٹر پگٹ نے 54 سال کی عمر میں 1990 کے بریڈرز کپ مائل میں ’رائل اکیڈمی‘ پر سوار ہو کر ایک یادگار کامیابی حاصل کی۔ اس ایک ملین ڈالر انعامی ریس میں ان کی فتح نے نیویارک ریاست کے بیلمونٹ پارک میں موجود تماشائیوں کو جذباتی کر دیا اور بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اگرچہ خود پگٹ کی آنکھیں نم نہ ہوئیں۔ البتہ انہوں نے مسکرا کر شائقین کا پرجوش استقبال قبول کیا، کیونکہ وہ صرف 12 دن پہلے ہی پانچ سال کے وقفے کے بعد دوبارہ گھڑ دوڑ میں واپس آئے تھے۔ ان پانچ برسوں میں سے ایک سال انہوں نے ٹیکس چوری کے جرم میں جیل میں گزارا تھا۔ پگٹ نے کہا: ’یہاں تک پہنچنے کے لیے بھی مجھے قسمت کی بڑی مدد درکار تھی۔‘ کھلاڑی ریٹائرمنٹ سرینا ولیمز پانچ بڑے کھلاڑی جنہوں نے کھیلوں میں دوبارہ واپسی کی، اور بعض کے لیے واقعی یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی کہ زندگی چالیس برس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اے ایف پی سوموار, جون 8, 2026 - 13:15 Main image: نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں 12 جنوری 2020 کو سرینا ولیمز آکلینڈ کلاسک ٹینس ٹورنامنٹ میں جیسیکا پیگولا کے خلاف فائنل میچ جیتنے کے بعد اپنی بیٹی اولمپیا کے ساتھ (اے ایف پی) کھیل type: news related nodes: 40 سال قبل چرنوبل کی تابکاری کیا پاکستان بھی پہنچی تھی؟ پی ایس ایل 11: ٹرافی کے علاوہ کس کھلاڑی کو کیا ملا؟ چاند کے گرد تاریخی سفر کے بعد آرٹیمس ٹو مشن کی زمین پر واپسی سرینا ولیمز کی چار سال غیرحاضری کے بعد برلن میں واپسی کی تیاری SEO Title: وہ پانچ بڑے کھلاڑی جنہوں نے 40 برس کی عمر میں شان دار واپسی کی copyright: show related homepage: Hide from Homepage
Go to News Site