Independent Urdu
مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ بحران نے عالمی سیاست کے ڈھانچے کو اس درجے پر متاثر کیا ہے کہ اسے محض ایک علاقائی تنازع کہنا تجزیاتی سطح پر ناکافی محسوس ہوتا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دراصل ایک ایسے عالمی نظام کی علامت ہے جو اپنی سابقہ یک قطبی ترتیب سے نکل کر ایک زیادہ پیچیدہ اور کثیر سطحی توازن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی محض ردعمل نہیں بلکہ ایک حساب شدہ، محتاط اور بامعنی مداخلت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس نے اسے اس بحران میں ایک نمایاں اور قابلِ توجہ کردار عطا کیا ہے۔ اس جنگ کی تفصیلات مختلف بیانیوں میں مختلف انداز میں پیش کی جاتی ہیں، لیکن اس سے زیادہ اہم وہ ساختی تبدیلی ہے جو اس بحران کے نتیجے میں عالمی سیاست میں رونما ہو رہی ہے۔ طاقت کا ارتکاز اب کسی ایک مرکز تک محدود نہیں رہا، بلکہ مختلف علاقائی اور درمیانے درجے کی ریاستیں اب اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو بڑی طاقتوں کی ترجیحات میں تبدیلی کے باعث پیدا ہوا ہے۔ پاکستان اسی ابھرتی ہوئی صف بندی کا حصہ ہے، مگر اس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ اس کے پاس نہ صرف جغرافیائی اہمیت ہے بلکہ ایک فعال سفارتی روایت اور عسکری صلاحیت بھی موجود ہے۔ یہاں انڈیا کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والا تناظر خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے جس نے پاکستان کو ایک بار پھر اس حیثیت میں پیش کیا ہے جہاں وہ محض ایک دفاعی ریاست نہیں بلکہ ایک سفارتی اور تزویراتی صلاحیت رکھنے والا سنجیدہ کھلاڑی ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کی آپریشنل کارکردگی، محدود مگر مؤثر ردعمل، اور کشیدگی کو غیر ضروری طوالت دینے سے گریز نے اسے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا۔ اس تجربے نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ کو بھی مضبوط کیا، اور یہی ساکھ اسے مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی وصف اس وقت ایک فعال توازن ہے، مگر یہ توازن محض غیرجانبداری کا دوسرا نام نہیں بلکہ ایک باضابطہ حکمت عملی ہے۔ ایران کے ساتھ اس کے تاریخی اور سرحدی تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ اس کی سکیورٹی شراکت داری، اور امریکہ کے ساتھ اس کے پیچیدہ مگر ناگزیر روابط ایک ایسی سفارتی کثیرالجہتی تشکیل دیتے ہیں جس کے باعث پاکستان نہ صرف ہر فریق تک رسائی رکھتا ہے بلکہ ان کے درمیان ایک قابلِ قبول رابطہ بھی بن سکتا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو اسے اس بحران میں دیگر ریاستوں سے ممتاز کرتی ہے۔ پاکستان کا ثالثی کردار اسی تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ کردار کسی فوری دباؤ یا وقتی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سفارتی سرمائے کا منطقی اظہار ہے۔ پاکستان نے کشیدگی میں کمی کے لیے بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ بیک چینل رابطوں، سفارتی سگنلز اور علاقائی ہم آہنگی کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس میں مکالمہ ممکن ہو سکے۔ اس عمل میں پاکستان ایک ایسے پل کے طور پر سامنے آیا ہے جو متحارب فریقین کے درمیان کم از کم رابطے کی سطح کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہ طرز عمل پاکستان کی سفارتی روایت سے بھی ہم آہنگ ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان 1970 کی دہائی میں تعلقات کی بحالی میں پاکستان کا کردار محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات میں خاموش مگر مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ بحران اسی روایت کا تسلسل ہے، جہاں پاکستان ایک بار پھر ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اس کی سفارتی مہارت اسے ایک معنی خیز کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ پاکستان نے عملی سطح پر بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ظاہر کیا ہے۔ سمندری راستوں کے تحفظ، توانائی کی سپلائی کے تسلسل، اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کا امتزاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو محض نظریاتی یا بیانیاتی سطح پر نہیں بلکہ ایک عملی فریم ورک کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ یہ رویہ اسے ایک سنجیدہ اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر پیش کرتا ہے۔ انڈیا کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد پاکستان کی بڑھتی ہوئی سٹریٹجک اہمیت نے اس کے اس کردار کو مزید تقویت دی ہے۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کا مؤثر انتظام کر سکتا ہے بلکہ کشیدگی کو کنٹرول کرنے اور اسے ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہی خصوصیت کسی بھی ثالث کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ثالثی صرف رسائی کا نام نہیں بلکہ اعتماد اور قابلیت کا امتزاج ہوتی ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں درمیانے درجے کی ریاستوں کا کردار بڑھ رہا ہے، مگر ہر ریاست اس خلا کو پر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ پاکستان کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ وہ جغرافیائی، عسکری اور سفارتی تینوں سطحوں پر ایک متوازن موجودگی رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ اس کی شراکت داری، خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات، اور مغربی دنیا کے ساتھ اس کے رابطے اسے ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ بناتے ہیں جو عالمی سیاست میں اثرانداز ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا اصولی مؤقف بھی اس کی پالیسی کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس نے موجودہ بحران میں کسی واضح بلاک کا حصہ بننے کے بجائے خودمختاری، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے اصولوں کو ترجیح دی ہے۔ یہ موقف محض اخلاقی اپیل نہیں بلکہ ایک عملی حکمت عملی بھی ہے، کیونکہ طویل المدتی استحکام ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔ پاکستان نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پوزیشن کو تشکیل دیا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پاکستان اس بحران میں موقع اور ذمہ داری کے درمیان ایک باریک توازن قائم کیے ہوئے ہے۔ ایک طرف وہ اپنی سفارتی اہمیت کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، اور دوسری طرف وہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ اس کا کردار کسی نئے تصادم کا حصہ نہ بن جائے۔ یہ توازن ہی دراصل اس کی خارجہ پالیسی کی اصل طاقت ہے۔ اگرچہ پاکستان کو معاشی دباؤ، علاقائی پیچیدگیوں اور عالمی طاقتوں کے متضاد مفادات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، مگر اس نے جس انداز میں ان عوامل کے درمیان اپنی پوزیشن کو برقرار رکھا ہے، وہ اس کی پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو نہ صرف بحران کو سمجھنے بلکہ اسے ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ موجودہ بحران نے پاکستان کو ایک نئی سفارتی شناخت فراہم کی ہے۔ ایک ایسی شناخت جو اسے محض ایک علاقائی ریاست کے بجائے ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرتی ہے جو عالمی سطح پر معنی خیز کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہتا ہے تو پاکستان مستقبل میں نہ صرف ثالثی بلکہ عالمی پالیسی سازی میں بھی ایک مؤثر آواز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ یہ محض بقا کی حکمت عملی نہیں رہی بلکہ ایک فعال اور اثرانداز ہونے والی پالیسی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اگر پاکستان اس سمت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی داخلی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے اور اپنی سفارتی کوششوں کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے تو وہ نہ صرف اس بحران میں بلکہ آنے والے عالمی منظرنامے میں بھی ایک باوقار اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ (ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔) نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ پاکستان انڈیا ایران امریکہ اسرائیل یہاں انڈیا کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والا تناظر خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے جس نے پاکستان کو ایک بار پھر اس حیثیت میں پیش کیا ہے جہاں وہ محض ایک دفاعی ریاست نہیں بلکہ ایک سفارتی اور تزویراتی صلاحیت رکھنے والا سنجیدہ کھلاڑی ہے۔ ڈاکٹر راجہ قیصر احمد جمعرات, مارچ 26, 2026 - 07:15 Main image:
26 ستمبر 2025 کو پاکستان کے وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ اس تصویر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی کے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر موجود ہیں (پاکستان وزیرِ اعظم آفس/ اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: امریکی تجاویز مسترد، ایران کی جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط: ایرانی پریس ٹی وی ’اعلیٰ ترین ایرانی شخصیت‘: ٹرمپ کس سے رابطے میں ہیں؟ ایران نے آخرکار ٹرمپ کی طاقت کی حد بےنقاب کر دی ایران - اسرائیل جنگ اور ماحول کی تباہی SEO Title: پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ثالثی کردار copyright: show related homepage: Hide from Homepage Go to News Site