ایرانی حملے علاقائی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، چھ ممالک کا مشترکہ بیان
Independent Urdu

ایرانی حملے علاقائی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، چھ ممالک کا مشترکہ بیان

سعودی عرب نے بدھ کو دیگر پانچ عرب کے ہمراہ ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے حالیہ حملے ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ دیگر پانچ ممالک میں کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن شامل ہیں جنہوں نے مشترکہ طور پر بیان جاری کیا۔ سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ’چاہے یہ حملے براہِ راست کیے گئے ہوں یا ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے۔‘ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری سے شروع کیے جانے والے حملوں کے جواب میں ایران کے اسرائیل کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور بحرین پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔ #بيان | تجدد كل من المملكة العربية السعودية، ودولة الكويت، ودولة الإمارات العربية المتحدة، ومملكة البحرين، ودولة قطر، والمملكة الأردنية الهاشمية، إدانتها بأشد العبارات للاعتداءات الإيرانية السافرة، التي تعد انتهاكاً صارخاً لسيادتها وسلامة أراضيها وللقانون الدولي والقانون الدولي… pic.twitter.com/DmS4vYHd68 — وزارة الخارجية (@KSAMOFA) March 25, 2026 ان حملوں کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکاتی تجویز دی گئی ہے جبکہ پاکستان، ترکی اور مصر دو فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم سعودی عرب سمیت ان چھ عرب ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ بیان میں تمام ممالک نے خاص طور پر عراق سے ایران کے حمایت یافتہ مسلح دھڑوں کی جانب سے خطے کے مختلف ممالک، تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر کیے گئے حملوں کی مذمت کی، جنہیں بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) کی بھی خلاف ورزی ہیں، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری اور غیر مشروط طور پر ہمسایہ ممالک کے خلاف ہر قسم کی ’جارحیت یا دھمکی، بشمول پراکسیز کے استعمال‘ بند کرے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے عبدالمحسن بن خثیلہ نے بھی بدھ کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ریاستوں اور اردن کے خلاف ’ایران کے کھلے حملوں‘ کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔ عرب نیوز کے مطابق انہوں نے ان حملوں کو ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا، اور ساتھ ہی بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی بھی کہا۔ انہوں نے کہا کہ ’کسی ہمسایہ ملک کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے اور ہمسائیگی کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ’کسی ثالث کو نشانہ بنانا امن کی کوششوں سے غداری اور کشیدگی کم کرنے کی ہر راہ کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنا ہے اور ایسے ممالک کو نشانہ بنانا جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں، ایک ناقابلِ جواز اور ناقابلِ قبول جارحیت ہے جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘ عبدالمحسن بن خثیلہ نے عالمی سطح پر فوری ایکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’خاموشی آپشن نہیں اور ہچکچاہٹ قابل قبول نہیں۔‘ ایران جنگ سعودی عرب مشرق وسطیٰ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو جمعرات, مارچ 26, 2026 - 08:30 Main image:

دبئی میں 16 مارچ 2026 کو ایئرپورٹ کے قریب لگی آگ کے بعد دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

ایشیا type: news related nodes: شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا: ایوان وزیراعظم سعودی عرب کا ایرانی فوجی اتاشی، چار سفارتی ارکان کو ملک چھوڑنے کا حکم ایران معاہدے کے لیے بے تاب مگر کہنے سے ڈرتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تجاویز مسترد، ایران کی جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط: ایرانی پریس ٹی وی SEO Title: ایرانی حملے علاقائی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، چھ ممالک کا مشترکہ بیان copyright: show related homepage: Show on Homepage

Go to News Site