Siasat
پچھلے سال بھی دوہائی مچائی گئی کہ شوگر ضرورت سے زیادہ ہے، لہٰذا ایکسپورٹ کرنے دی جائے، لیکن ہوا پھر یوں کہ چینی کم پڑ گئی اور ہمیں باہر سے امپورٹ کرنا پڑی۔ اس بار بھی ایسی ہی کچھ کہانی ہے کہ 11 لاکھ ٹن اضافی چینی ہے، جسے امپورٹ کرنے دیا جائے۔ ہونا پھر وہی ہے کہ ہمارے پاس چینی کم پڑ جائے گی اور پھر سے امپورٹ کرنا پڑے گی۔ نصرت جاوید https://twitter.com/x/status/2037235102384824418 https://twitter.com/x/status/2037457242895831399
Go to News Site