Collector
Giriş Yap
بے ترتیبی ہی میں ہماری ترتیب ہے! | Collector
بے ترتیبی ہی میں ہماری ترتیب ہے!

بے ترتیبی ہی میں ہماری ترتیب ہے!

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ چترال کے لوگوں نے کائنات کے اس پوشیدہ راز کو پا لیا ہے، جس کی تلاش میں فلسفی صدیوں سے سرگرداں ہیں۔ دنیا ترتیب کی تلاش میں سرگرداں پھرتی ہے اور ہم نے بے ترتیبی کو ہی اپنی ترتیب بنا لیا ہے۔ شاید اسی لیے یہاں کی بہت سی باتیں پہلی نظر میں عجیب لگتی ہیں، مگر غور کیجیے تو انہی میں زندگی کی اصل چاشنی پوشیدہ نظر آتی ہے۔ پولو کو ہی لیجیے۔ یہ کھیل نہیں، ایک طوفان ہے جو گھوڑوں کے سموں پر سوار ہو کر میدان میں اترتا ہے۔ کہتے ہیں پولو کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کا کھیل ہے، لیکن چترال میں آ کر معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہت بھی بعض اوقات قانون کی پابند نہیں ہوتی۔ یہاں اس کھیل کا سب سے بڑا اصول یہی ہے کہ اس کا کوئی اصول نہیں۔ گھوڑے دوڑ رہے ہیں، سٹکیں لہرا رہی ہیں، کھلاڑی ایک دوسرے سے یوں گتھم گتھا ہیں، جیسے میدانِ جنگ میں صفیں ٹوٹ گئی ہوں۔ اگر کسی نے مخالف کو کندھے سے دھکا دے دیا، راستہ روک لیا یا جوشِ مقابلہ میں اسے زمین سے آشنا کر دیا تو اسے کھیل کا حسن سمجھا جاتا ہے، عیب نہیں۔ پھر جب گول ہو جائے تو گویا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔ ٹیمیں اپنی جگہیں بدلتی ہیں، ایک سوار شہنائی اور ڈھول کی تھاپ پر گیند کو ہاتھ میں اٹھائے گھوڑا دوڑاتا ہے، نصف میدان تک پہنچ کر گیند کو آسمان کے سپرد کرتا ہے اور پھر پوری قوت سے سٹک کا ایسا وار کرتا ہے کہ گیند ہوا میں تیرتی ہوئی قسمت آزمائی کے سفر پر نکل پڑتی ہے۔ کھوار میں اسے ’تھمپوق‘ کہتے ہیں۔ نام ہی ایسا ہے کہ سننے والے کے کانوں میں بھی گھوڑوں کے سموں کی آواز گونجنے لگتی ہے۔ پولو کے تماشائی بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ میچ اگر سہ پہر چار بجے شروع ہونا ہو تو بہت سارے حضرات صبح نو بجے ہی پولو گراؤنڈ میں وارد ہوکر ایسی سنجیدگی سے نشست سنبھال لیتے ہیں، گویا  کسی بین الاقوامی کانفرنس میں اپنے ملک کی نمائندگی کے لیے آئے ہوں اور انہیں خدشہ ہو کہ کہیں ان کی پسندیدہ نشست کسی اور ملک  کے مندوب کے قبضہ بے جا میں نہ چلی جائے۔ پارسان روڈ کی لی گئی تصویر (وکی میڈیا کامنز) پھر وہ پورا دن دھوپ سے معاہدۂ دوستی کے بعد مصافحہ کرتے، گردوغبار سے معانقہ کرتے، وقت کے پہیوں کو گھورتے اور لمحوں کو گھڑی کی سوئیوں سے گھسیٹتے رہتے ہیں۔ کسی اور جگہ انسان اتنی دیر انتظار کرے تو اسے صبر کا مجسمہ کہا جائے، مگر یہاں یہ محض پولو سے محبت کی ابتدائی شرط سمجھی جاتی ہے۔ پولو کے دنوں میں چترال بازار کا منظر بھی دیدنی ہوتا ہے۔ دکانیں موجود ہوتی ہیں، شٹر موجود ہوتے ہیں، سامان بھی اپنی جگہ پڑا ہوتا ہے، مگر دکان دار ناپید ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پورے بازار پر اجتماعی طور پر کوئی جادو کر دیا گیا ہو۔ آپ کسی مقامی دکان دار کو تلاش کرتے پھریں تو شاید وہ اپنی دکان پر نہ ملے، البتہ پولو گراؤنڈ میں پہلی یا دوسری قطار میں ضرور مل جائے گا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کاروبار روز کا مسئلہ ہے اور پولو قومی فریضہ۔ گاہک اگر آج واپس چلا بھی گیا تو کل آ جائے گا، لیکن اگر آج کا میچ رہ گیا تو اس کا ازالہ شاید اگلے سال بھی نہ ہو سکے جبکہ دوسری طرف غیر مقامی تاجر بازاروں میں موجود ہونے کے ساتھ ساتھ پولو گراؤنڈ میں بھی پانی، جوس، چائے، بسکٹ، مکئی اور چنے وغیرہ بیچ بیچ کر اچھی خاصی کمائی کر لیتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) چترال کی موسیقی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں شاعر ہیں تو ایسے کہ لفظوں کو خوشبودار نغمہ بنا دیتے ہیں، گلوکار ہیں تو ایسے کہ پہاڑوں کی باز گشت کو آواز دے دیتے ہیں، اور ستار نواز ہیں تو ایسے کہ تاروں سے موسم بدل دیتے ہیں۔ مگر جب محفلِ موسیقی سجتی ہے تو بے ساختگی اس شان سے جلوہ گر ہوتی ہے کہ جدید ریکارڈنگ سٹوڈیوز شرم سے پانی پانی ہو جائیں۔ ایک محفلِ موسیقی کا منظر ابھی تک ذہن میں تازہ ہے۔ ستار بج رہا ہے، محفل گرم ہے، سامعین محوِ استماع ہیں۔ عین اسی لمحے گلوکار صاحب گانے سے ایک سیکنڈ پہلے ایسی کھانسی مارتے ہیں کہ سننے والا سمجھے شاید پروگرام ملتوی ہونے والا ہے، لیکن نہیں! کھانسی ختم، گانا شروع۔ دوسرے بند میں پھر کھانسی۔ تیسرے بند میں ایک مصرع بھول گئے، تو وہیں دوبارہ گا لیا۔ گویا زندگی کی طرح گانا بھی ایڈیٹنگ کے بغیر چل رہا ہے۔ ری ٹیک کا تصور شاید ابھی تک ان پہاڑوں تک نہیں پہنچا یا پھر پہنچ کر واپس لوٹ گیا ہے۔ ایک اور محفل کی ویڈیو میں دیکھا کہ فن کار حضرات بڑے انہماک سے گا رہے تھے۔ ان کے عقب میں ذرا سی بلندی پر ایک کھلی الماری رکھی تھی جس میں جوتے قرینے سے سجے ہوئے تھے۔ چترال میں عموماً جوتے دروازے کے باہر اتارے جاتے ہیں، لیکن اس محفل میں جوتوں کو جو عزت و توقیر بخشی گئی تھی، وہ کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے جوتے پاؤں سے اتار کر سروں پر سجا دیے گئے ہوں اور موسیقی کی محفل میں بہ طورِ مہمانِ خصوصی شریک ہوں۔ گلوکار سامنے بیٹھا تھا، ستار نواز دائیں جانب اور جوتے پس منظر میں ایسی شان سے جلوہ افروز تھے جیسے تقریب کے اصل سرپرست وہی ہوں۔ اگر کسی نووارد نے ویڈیو درمیان سے دیکھی ہوتی تو غالباً یہی سمجھتا کہ یہ جوتوں کی نمائش ہے جس کے اعزاز میں موسیقی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اب تو نئے زمانے نے مزید کرشمے دکھانا شروع کر دیے ہیں۔ کبھی غزل سن کر لوگ آنکھیں بند کر لیا کرتے تھے، اب غزلوں کے ساتھ رقص لازمی ہوگیا ہے اور تو اور مرثیے پر بھی رقص شروع ہو جاتا ہے۔ کوئی شاعر اپنے مرحوم عزیز کے لیے درد بھرا نوحہ لکھتا ہے، گلوکار اسے سوز سے گاتا ہے اور چند نوجوان اسی سوز پر وجد میں آ کر رقص فرمانے لگتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے غم اور خوشی نے باہم کوئی خفیہ معاہدہ کر لیا ہو۔ یہی نہیں بلکہ کچھ پرانے گیتوں مثلاً: اَشُور جان، یارِمن ہمیں اور رُستمو ہنگ کے ساتھ بھی نوجوان نسل نے ناچنا شروع کر دیا ہے جو کہ بہ صورتِ دیگر بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ سڑکوں پر نکلیں تو ایک اور فلسفہ جلوہ گر نظر آتا ہے۔ چترال میں گاڑی چلانا محض ڈرائیونگ نہیں بلکہ باہمی نفسیاتی آزمائش کا ایک پیچیدہ فن ہے۔ سامنے سے آنے والی گاڑی کی طرف اپنی گاڑی اس اعتماد سے بڑھائی جاتی ہے جیسے سڑک کے کاغذاتِ ملکیت جیب میں موجود ہوں۔ اوور ٹیک کرنا ہو تو بعض اوقات صحیح طرف سے گزرنا بے جا احتیاط سمجھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ غلط سائیڈ سے راستہ دینے کا فن بھی یہاں بعض لوگوں نے کمال درجے تک سیکھ رکھا ہے۔ ایسے مواقع پر قانون بھی شاید حیران ہو کر خاموشی اختیار کر لیتا ہوگا۔ معاشی اعتبار سے چترال کو اب بھی ترقی کے کئی زینے طے کرنا ہیں، لیکن وضع قطع کے معاملے میں ہم کسی سے کم نہیں۔ ہر دوسرے گھر میں گاڑی ہے، موٹرسائیکل ہے، برانڈڈ لباس ہے اور اگر یہ سب نہ بھی ہو تو کم از کم اس کا تأثر ضرور موجود ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے کردار سے کم اور جوتوں، بیلٹوں اور لباس سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ کبھی زمانہ تھا کہ لوگ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاتے تھے، اب پاؤں پہلے پھیلائے جاتے ہیں اور چادر بعد میں تلاش کی جاتی ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم نے زندگی کو اپنے ہی انداز میں سمجھ لیا ہے۔ ہمارے ہاں اصول بھی بے اصولی سے جنم لیتے ہیں اور ترتیب بھی بے ترتیبی کے بطن سے۔ شاید اسی لیے ہم ہر اس چیز کو اپنائے رکھتے ہیں جسے دنیا عجیب سمجھتی ہے۔ آخر چترال صرف ایک خطہ نہیں، ایک مزاج ہے اور اس مزاج کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہاں بے ترتیبی ہی میں ہماری ترتیب ہے۔ نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ چترال چترال صرف ایک خطہ نہیں، ایک مزاج ہے اور اس مزاج کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہاں بے ترتیبی ہی میں ہماری ترتیب ہے۔ زین الملوک بدھ, جون 10, 2026 - 06:30 Main image: 16 اکتوبر 2019 کو پاکستان کے شمالی ضلع چترال کی وادی بمبوریتے میں کالاش قبیلے کی دو خواتین کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی) بلاگ type: news related nodes: پراسرار محافظ جِن، ویران راستوں میں ’گور‘، چترال کے توہمات چترال: قصاب کی دکانوں کے تنازعے نے بازار کو مسلکی بنیاد پر کیسے تقسیم کیا؟ چترال: چینی کمپنی کا لیز کی منسوخی کے خلاف عدالت سے رجوع بدخشاں، چترال روڈ افغانستان، پاکستان کے درمیان مختصر راستہ SEO Title: بے ترتیبی ہی میں ہماری ترتیب ہے! copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Go to News Site