Independent Urdu
فیفا ورلڈ کپ 2026 کا جوش صرف میدانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات کراچی کی مارکیٹوں میں بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔ فٹ بال کے شوقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں اور ٹی شرٹس خریدنے کے لیے دکانوں کا رخ کررہے ہیں، جس سے کاروبار میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کراچی میں لائٹ ہاؤس مارکیٹ کی تنگ گلیوں میں قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کی بڑی فٹ بال ٹیمیں ایک ہی چھت تلے جمع ہو گئی ہوں۔ کہیں ارجنٹائن کی نیلی سفید جرسی لٹک رہی ہے، کہیں برازیل کا زرد رنگ خریداروں کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے، جبکہ پرتگال، فرانس اور انگلینڈ کی جرسیوں کے سامنے بھی نوجوانوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔ دکان کے اندر داخل ہوں تو ہر طرف ایک ہی سوال سنائی دیتا ہے۔ ’بھائی میرے سائز کی ارجنٹینا ہے؟‘ ’رونالڈو والی جرسی دکھائیں۔‘ ’بچوں کے لیے برازیل کی جرسی مل جائے گی؟‘ یہ صرف ٹی شرٹس کی خریداری نہیں، بلکہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں اور ٹیموں سے محبت کا اظہار بھی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آمد نے کراچی کے بازاروں میں نئی رونق پیدا کر دی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل کراچی کے بازاروں میں شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں کی خریداری میں مصروف ہیں (صالحہ فیروز خان/ انڈپینڈنٹ اردو) اسی مناسبت سے دکاندار فضل رحمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’دکان میں رش عید سے قبل ہی شروع ہو گیا تھا۔ روزمرہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں شائقین فٹ بال جرسیاں خرید رہے ہیں۔ اس وقت کاروبار میں غیر معمولی تیزی آ چکی ہے جبکہ ٹورنامنٹ کے فائنل تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے ملازمین کی تعداد بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) فضل رحمان کا کہنا تھا کہ ’دکان لیاری کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے خریداروں کی بڑی تعداد لیاری سے آ رہی ہے، جہاں فٹ بال کو خاص مقبولیت حاصل ہے۔ اسی لیے ارجنٹائن اور برازیل کی جرسیاں سب سے زیادہ فروخت ہو رہی ہیں، جن کی قیمت 900 روپے سے شروع ہوتی ہے۔‘ فاصلے چاہے ہزاروں کلومیٹر کے ہوں، لیکن فٹ بال کا جنون سرحدیں نہیں مانتا۔ ورلڈ کپ کا میدان کہیں اور سجے گا مگر اس کا رنگ کراچی کے بازاروں پر ابھی سے چڑھ چکا ہے، اسی لیے خریدار من پسند جرسیاں خریدنے میں مصروف دکھائی دیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خریداروں میں ہر عمر کے افراد دکھائی دیے۔ لیاری سے انگلینڈ کی ٹیم کی جرسی خریدنے آئے فٹ بال کوچ اور ٹرینر محمد علی نے شرٹ خریدتے ہی پہن لی اور ایک اور شرٹ بھی خریدی۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بیس سالوں سے وہ انگلیڈ کی ٹیم کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ ’میں انگلینڈ کا خاص فین ہوں، اسی لیے انگلینڈ کی ٹیم کی شرٹ پہن لر میچ دیکھوں گا، چاہے رات کے دو بجے میچ ہو یا رات کے تین بجے ہو۔‘ فیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل کراچی کے بازاروں میں شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں کی خریداری میں مصروف ہیں (صالحہ فیروز خان/ انڈپینڈنٹ اردو) زین العابدین بلوچ لیاری کلا کوٹ سے خریداری کے لیے پہنچے تھے۔ انہوں نے دس جرسیاں خریدی اور ان کی فیملی میں سب الگ الگ ٹیم کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا:’ہم لیاری والوں کا جذبہ ہے اسی لیے پوری تیاری سے میچ دیکھیں گے۔‘ ارسلان بھی لیاری سے ہیں لیکن دکان میں رش ہونے کی وجہ سے انہیں لمبا انتظار کرنا پڑا، جس کے بعد بالآخر انہوں نے اپنی سپورٹنگ ٹیم کی مناسبت سے جرسیاں خرید لیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ وہ دوستوں کے ساتھ فٹ بال میچ کو انجوائے کریں گے۔ شائقین کے لیے فٹ بال محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذباتی وابستگی ہے، اسی لیے وہ اپنی ٹیم کی جرسی پہن کر میچز دیکھنے اور ہر لمحے کو یادگار بنانے کے خواہش مند ہیں۔ دوسری جانب دکاندار بڑھتی ہوئی طلب سے خوش نظر آتے ہیں اور فٹ بال کا یہ عالمی مقابلہ کھیل کے میدان سے نکل کر شہر کی تجارتی سرگرمیوں میں بھی اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 فٹ بال لیاری کراچی فٹ بال کے شوقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں اور ٹی شرٹس خریدنے کے لیے دکانوں کا رخ کررہے ہیں، جس سے کاروبار میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ صالحہ فیروز خان بدھ, جون 10, 2026 - 08:00 Main image: فیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل کراچی کے بازاروں میں شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں کی خریداری میں مصروف ہیں (صالحہ فیروز خان/ انڈپینڈنٹ اردو) فٹ بال jw id: QVk1d1gu type: video related nodes: ’اب گولیوں کی نہیں بلکہ گیند کی آوازیں ہیں:‘ لیاری کی لڑکیوں کا فٹ بال جنون ورلڈ کپ 2026: فیفا نے فینز کو پانی کی بوتلیں لانے سے کیوں روک دیا؟ فیفا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بڑے امیدواروں کی تیاری کیسی ہے؟ فیفا ورلڈ کپ میں اس بار کون سے نوجوان ستارے جگمگائیں گے؟ SEO Title: فیفا ورلڈ کپ کا جنون، کراچی کے بازاروں میں خریداروں کا رش copyright: show related homepage: Show on Homepage
Go to News Site