Collector
Giriş Yap
بڑے چیلنجز کے باوجود معیشت میکرو سطح پر مستحکم: پاکستانی وزیراعظم | Collector
بڑے چیلنجز کے باوجود معیشت میکرو سطح پر مستحکم: پاکستانی وزیراعظم

بڑے چیلنجز کے باوجود معیشت میکرو سطح پر مستحکم: پاکستانی وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو نیشنل اکنامک کونسل (این ای سی) کے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ بڑے چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت میکرو اکنامک سطح پر مستحکم ہے۔ یہ اجلاس آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرنے سے قبل وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لیے منعقد ہوا۔ این ای سی وفاق کا اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز فورم ہے، جس کی سربراہی وزیراعظم کرتے ہیں اور اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور چار وفاقی وزرا شامل ہوتے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاق نے تمام معاملات پر صوبوں کے ساتھ انتہائی سنجیدگی سے مشاورت کی اور ایسے فیصلے کیے جو پاکستان کے بہترین مفاد میں تھے۔ وزیراعظم نے تمام وزرائے اعلیٰ کا مختلف امور پر مشاورت اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز حالیہ طبی معاملے کے بعد صحت یابی کے مرحلے سے گزر رہی ہیں، اسی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت میکرو اکنامک سطح پر مستحکم ہے، تاہم اس میں ترقی کی رفتار پیدا کرنا انتہائی اہم عمل ہے۔ وزیراعظم نے کہا اجلاس سے قبل وفاق صوبوں کے ساتھ مشاورت کر رہا تھا کہ مزید وسائل کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سب سے بڑا چیلنج دفاع کو مضبوط بنانا ہے، خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون کے بغیر اس مشکل دور کا مقابلہ ممکن نہیں تھا اور اس سلسلے میں چاروں وزرائے اعلیٰ کے تعاون پر ان کے شکر گزار ہیں۔ این ای سی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس میں صوبے کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 180 دن کے اندر نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو اپڈیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کے مطابق اگر 180 دن کے اندر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو صدر مملکت کو سمری بھیج کر صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا، جو صوبے کے عوام کے لیے خوش خبری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی پی میں مجوزہ کٹوتی مذاکرات کے بعد کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، تاہم مزید بہتری کے لیے بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی نے امید ظاہر کی کہ ضم شدہ اضلاع کی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) اور اے آئی پی کے حصے میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات پر وزیراعظم کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور جلد مثبت پیش رفت عوام کے سامنے آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت ملک بھر میں امن و امان کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پانچ اکتوبر، 2025 سے اب تک پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ این ای سی اور این ایف سی اجلاسوں میں شرکت صوبے کے حقوق اور عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ بجٹ شہباز شریف وزیراعظم نے نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وفاق نے تمام معاملات پر صوبوں کے ساتھ مشاورت کر کے پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے۔ انڈپینڈنٹ اردو بدھ, جون 10, 2026 - 16:30 Main image: 10 جون، 2026 کو اسلام آباد میں این ای سی کے اجلاس کے موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف اور تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا گروپ فوٹو (سکرین گریب) معیشت type: news related nodes: کتاب، کاپی اور قلم پر 80 فیصد ٹیکس، نئے بجٹ میں تعلیم بھی مہنگی ہوگی؟ بجٹ 2026: پنجاب کو کم حصہ ملنے سے صوبے پر کیا اثر ہو گا؟ پاکستان کا بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان اچھا بجٹ اب بھی ممکن ہے لیکن۔۔ SEO Title: بڑے چیلنجز کے باوجود معیشت میکرو سطح پر مستحکم: پاکستانی وزیراعظم copyright: show related homepage: Show on Homepage

Go to News Site