Independent Urdu
کوئٹہ کے سینڈیمن سول ہسپتال کی ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر کسی شخص پر تیزاب پھینکا جائے تو ابتدائی چند منٹوں میں کون سے اقدامات اس کی جان بچانے اور زخموں کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ویڈیو میں ڈاکٹر ماہ نور کو حملے کے فوراً بعد شدید اضطراب اور تکلیف کی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ موقعے پر موجود ایک شخص انہیں فوری مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ماہ نور کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔ تاہم دونوں آنکھوں کی اطراف میں زخم آنے کے باوجود ان کی بینائی محفوظ ہے اور ماہرین ان کی صحت یابی کے لیے پرامید ہیں۔ ایسے واقعات میں بروقت اور درست ردعمل نہ صرف متاثرہ فرد کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مستقل جسمانی نقصان کو بھی کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی ترجیح اپنی حفاظت اسی حوالے سے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ثوبیہ یاسمین نے بتایا کہ ’تیزاب سے جلنے کے کسی بھی واقعے میں سب سے پہلی ترجیح اپنی حفاظت ہونی چاہیے۔ ’متاثرہ شخص کی مدد کے لیے آگے بڑھنے سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ امداد فراہم کرنے والا خود تیزاب کی زد میں نہ آئے کیونکہ بصورتِ دیگر ایک کی بجائے دو افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔‘ ڈاکٹر ثوبیہ بتاتی ہیں ’اگر ممکن ہو تو دستانے استعمال کیے جائیں اور متاثرہ شخص کو براہِ راست ہاتھ لگانے سے گریز کیا جائے۔ ’دوسری اہم بات یہ ہے کہ متاثرہ شخص کو فوراً اس جگہ سے دور کیا جائے جہاں تیزاب موجود ہو تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔‘ یہاں انہوں نے واضح کیا کہ تیزاب سے آنے والے زخم عام آگ کے نتیجے میں آنے والے زخموں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ’آگ کا ذریعہ ہٹا دینے سے جلنے کا عمل رک جاتا ہے لیکن تیزاب جب تک جلد یا کپڑوں پر موجود رہے گا زخم کو مزید گہرا کرتا جائے گا۔‘ تیزاب کے اثر کو کم کرنے کے لیے فوری عمل کیا ہونا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ثوبیہ کا کہنا تھا ’اپنی حفاظت یقینی بنانے کے بعد ابتدائی طبی امداد سب سے ضروری کام متاثرہ حصے پر مسلسل پانی بہانا ہے۔ View this post on Instagram A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) ’اس مقصد کے لیے عام نل کے پانی کا استعمال کیا جا سکتا ہے، کسی خاص یا جراثیم سے پاک پانی کی ضرورت نہیں۔ پانی مسلسل بہنا چاہیے، یعنی نل، پائپ یا برتن کے ذریعے بار بار ڈالا جائے۔ ’اس عمل سے تیزاب پتلا ہو جاتا ہے اور جِلد میں اس کے مزید سرایت کرنے کا امکان کم ہو جاتا ہے، جس سے چوٹ کی شدت میں اضافہ روکا جا سکتا ہے۔‘ گھریلو ٹوٹکے نقصان دہ ہو سکتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’عام طور پر لوگ جلنے کی صورت میں مختلف گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں، جیسے ہلدی، دہی یا لیموں لگانا، لیکن ایسا کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ‘ان چیزوں کا تیزاب کے ساتھ ردِعمل زخم کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ اس لیے پانی کے علاوہ کوئی اور چیز ہرگز استعمال نہ کریں۔‘ تیزاب حملوں میں آنکھوں کو سب سے زیادہ خطرہ ڈاکٹر ثوبیہ معلومات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’تیزاب سے جلنے کے زیادہ تر واقعات چہرے، ہاتھوں اور گردن پر ہوتے ہیں۔ ’ان میں آنکھوں کا تحفظ انتہائی اہم ہے، کیونکہ اگر تیزاب آنکھ میں چلا جائے اور اسے فوری طور پر نہ دھویا جائے تو بینائی ضائع ہو سکتی ہے۔ ’اس لیے چہرہ دھوتے وقت آنکھیں کھول کر اچھی طرح پانی سے دھونا ضروری ہے۔‘ اگر تیزاب کپڑوں پر گرا ہو تو کپڑے بھی ہٹا دینے چاہییں کیونکہ کپڑوں میں موجود تیزاب جلد کو مسلسل نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ البتہ اگر کپڑے جسم کے ساتھ چپک چکے ہوں تو انہیں زبردستی نہ اتارا جائے، صرف پانی بہایا جائے اور جو کپڑے آسانی سے ہٹ سکتے ہوں انہیں احتیاط سے ہٹا دیا جائے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اسی طرح زیورات، گھڑی، چشمہ یا دیگر اشیا بھی اتار دینی چاہییں کیونکہ یہ مخصوص جگہوں پر زیادہ گہرے زخم پیدا کر سکتی ہیں۔ ثوبیہ یاسمین مزید بتاتی ہیں کہ ’پانی بہانے کے ساتھ ساتھ فوری طور پر امدادی خدمات سے رابطہ کرنا اور مریض کو قریبی برن سینٹر یا پلاسٹک سرجری یونٹ منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔ ہسپتال میں علاج کا انحصار تیزاب کی نوعیت، اس کی طاقت، زخم کی گہرائی اور جسم کے متاثرہ حصے پر ہوتا ہے۔ بعض شدید کیسز میں جلد کی پیوندکاری سمیت طویل اور پیچیدہ علاج درکار ہو سکتا ہے جو مہینوں بلکہ برسوں تک جاری رہ سکتا ہے۔‘ تیزاب سے جلنے کے واقعات صرف مجرمانہ حملوں تک محدود نہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزاب سے جلنے کے واقعات صرف مجرمانہ حملوں تک محدود نہیں بلکہ گھریلو صفائی کے کیمیکلز اور صنعتی استعمال کے دوران بھی پیش آ سکتے ہیں۔ حفاظتی تدابیر، مناسب تربیت اور کیمیکلز کو محفوظ انداز میں ذخیرہ کرنا ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ کوئٹہ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تیزاب گردی کے متاثرین کے لیے ابتدائی چند منٹ فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ درست معلومات، فوری ردعمل اور بروقت طبی امداد نہ صرف زخموں کی شدت کم کر سکتی ہے بلکہ متاثرہ فرد کی زندگی اور مستقبل کو بھی محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان خواتین صحت ایسے واقعات میں بروقت اور درست ردعمل نہ صرف متاثرہ فرد کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مستقل جسمانی نقصان کو بھی کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ صالحہ فیروز خان بدھ, جون 10, 2026 - 18:00 Main image: کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں ایک خاتون 9 جون 2026 کو ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے کے خلاف لگے پوسٹر کے قریب سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی) صحت type: news related nodes: تیزاب سے زیادہ خطرناک خاموشی تیزاب حملے سے ڈاکٹر ماہ نور کا ’13 فیصد جسم متاثر‘، حالت میں بہتری خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم ’پولیس مقابلے‘ میں مارا گیا SEO Title: ’ابتدائی منٹ اہم‘: تیزاب حملے کے بعد کون سا قدم زندگی بچا سکتا ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
Go to News Site